سفر در سفر ۔ 10 ۔ ملاء ادب کے فرشتوں سے مُلاقات

لاہور اب ایک شہرِ شور و شر ہے، جس کی گواہی ایک بار دانشورِ ادب  و اِلہٰیات حضرت اجمل نیازی دامت برکاتہم نے بڑے سکندرانہ انداز میں  ، نہایت قلندرانہ جلال کے ساتھ کچھ اس طرح دی تھی کہ ایک باقاعدہ شعر وارد ہوگیا ۔ فرمایا :

شور ، شر ، شیطان ، شادی ، شاعری ، شُعلے ، شراب

دھوم  ،یاروں نے مچائی ہے ،  وہ دیکھو  ، کیا ہوا ؟

لیکن یہ جب کی بات ہے جب معاشرے کا اعلیٰ ترین ساختیہ الہام و فن کے اُن  تاروپود سے تیار ہوا تھا جسے ناصر کاظمی ۔ منیر نیازی ، ظہیر کاشمری ۔ حبیب جالب ، انتظار حُسین ، شفقت تنویر مرزا ، افتخار جالب ، سجاد باقر رضوی ، مظفر علی سید ، زاہد ڈار ، احمد بشیر اور صفدر میر جیسے لوگوں پر مشتمل تھا ۔ تب میں میں کرنے والی دانشور بکریاں ابھی پردہ ء غیب سے ظہور میں نہیں آئی تھیں اور ابھی دوستی اور دوطرفہ تعلقات کی شفیق قدریں مستحکم تھیں ، ابھی ادبی دھڑے بندیاں دشمن کیمپوں میں تبدیل نہیں ہوئی تھیں ، تب لوگ میکدے میں  اُم الخبائث سے دامن  آلودہ تو کرتے تھے لیکن غیبت کدے میں مردے بھائی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور نہ ہی ادب ابھی ادبی شو بزنس میں تبدیل ہوا تھا ۔

 گویا ابھی سیاسی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ لیکن اب تبدیلی آ چکی ہے کیونکہ اب لاہور میں راتوں کو صاف و شفاف ہوا مال کے درختوں میں مراقبہ نہیں کرتی ۔ اب ادبی تعلقات کے اپنے معیار ہیں جن میں افسر ادیب ہی  افسر ادیب کا دوست ہو سکتا ہےاور ماتحت ادیب ماتحت کا ہم پیالہ و ہم مشرب ۔ سیاست نے ادبی دنیا پر شبخون مار کر جس طرح ادب کو سیاست کا تابع کیا ہے وہ بھی اپنی جگہ ایک کہانی ہے لیکن بے روزگار اور غریب ادیب اب بھی اقبال ساجد  کی طرح اُسی پرانے لہجے میں غزل کہ رہا ہے :

ہائے رے حالات ، اک مہمان لوٹانا پڑا

میں نہیں گھر میں یہ بّچے سے کہلوانا پڑا

پاکستان میں وہ ادیب بڑا خوش نصیب ہے جو سیاست کے گدھے کا گوشت کھائے بغیر  ، ضمیر اور باطن کی مکمل آزادی سے ادب تخلیق کرسکتا ہے ۔ یہاں تو دانشوروں اور فن کاروں کے دوستی اور تعلقات کے اپنی معیار اور پیمانے ہیں ۔ ایک بار   افتخار عارف نے جانے کس سلسلے میں  مجھ سےیہ ذکر فرمایا کہ " شعیب ہاشمی کہتے ہیں کہ جس آدمی میں " شڑِنگ" نہ ہو اُس سے ہماری دوستی نہیں ہو سکتی ۔ مجھے شڑِنگ کا پورا پس منظر تو معلوم نہ تھا اور جانے افتخار حسین عارف نے مجھ غریب کو یہ بات کیوں سنائی ، تو جواباً میں نے عرض کیا کہ سرکارِ والا ! جس آدمی میں عجز و انکسار نہ ہو اُس سے میری دوستی ممکن نہیں ۔ " شڑنگ" اور عجز ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ تو ادب میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی ذات میں ادارہ ہیں اور بہت بڑے ادبی تاج محل تعمیر کر کے بھی اُن کے پاؤں زمین پر ہی رہتے ہیں ۔

 ان میں سے ایک قیصرِ مروت ، سلطان الغزل غلام حسین ساجد ہیں جن کے ہاں اُن کے بُلاوے پر میں حاضری دینے جا رہا تھا ۔ مجھے کچھ یاد آنے لگا ہے اور آ رہا ہے :

مرے حصار سے باہر بھی وہ نہیں رہتا

مرے قریب بھی آتا نہیں خُدا کی طرح

سمٹ سکوں گا نہ اپنے وجود میں ساجد

پہن لیا ہے کسی نے مجھے قبا کی طرح

غلام حسین ساجد سے میری ذاتی دوستی نہ ہونے کے برابر رہی ہے کہ میں جن حالات اور واقعات میں رہا اُس کی تاریخ دوسری ہے لیکن اُن کی شاعری سے شناسائی نصف صدی کا قصہ ہے ۔ غلام حسین ساجد لاہور کی مضافاتی بستیوں میں سے ایک میں رہتے ہیں اور یہ صاف ستھری بستیاں اپنی بنگلہ نما عمارتوں کی بنا پر نئے اور خوشحال پاکستان کا منظر نامہ ہیں ۔

ساجد صاحب کا ڈرائیور دن کے دوسرے پہر  مجھے لینے جوہر ٹاؤن پہنچا تو میں اُن کے ساتھ ہولیا ۔ ساجد صاحب کے ہاں تپاک اور آؤ بھگت کے تمام لوازمات جنوبی پنجاب کی مہمان نوازی کی جملہ روایات کے ساتھ موجود تھے ۔ لیکن سب سے زیادہ جو چیز اس ملاقات کے ماحول پر غالب تھی ، وہ غلام حسین ساجد کی طبیعت کا ٹھہراؤ اور مزاج کا دھیما پن تھا ۔ درویش مزاج ساجد کے ہاں افسانے ، ناول اور تنقید کی ایک نادرِ روزگار شخصیت مرزا حامد بیگ ، اردو کے ایک بہت ہی منفرد لہجے کے ان تھک شاعر  اور متعدد شعری مجموعوں کے خالق جناب صابر ظفر اور میدانِ ادب کی ایک نسبتاً نئی ادیبہ شازیہ مفتی بھی شریکِ محفل تھیں ۔ ان میں سے تین ادبی دوستوں کے ساتھ تو پہلے سے شناسائی اور ملاقات تھی لیکن شازیہ مفتی صاحبہ سے میں پہلی بار مل رہا تھا اور اُن کی ادب سے لگن سے متاثر تھا کیونکہ فیس بُک کے وسیلے سے اُن کی متعدد تحریریں میں پڑھ چکا تھا ۔

یہ سبھا تو ایک دوسرے سے کئی دہائیوں کے بعد ملنے اور ایک دوسرے کا حال پوچھنے کے لیے جمائی گئی تھی لیکن پروفیسر مرزا حامد بیگ نے تین طلبائ و طالبات کی موجودگی کو  کلاس سمجھ کر آئینِ اکبری پڑھانا شروع کردیا  اور سامعین کو جی بھر کے سیر کیا ۔ پھر لاہور کی راتوں کے میکشوں کو اُن کے گھروں تک چھوڑنے کا قصہ بیان کیا اور سب کو خوب محظوظ کیا ۔ اس کے لیے پروفیسر مرزا حامد بیگ کا میں تہِ دل سے شکر گزار ہوں ۔ لیکن میرے لیے سب سے اہم انکشاف مستان علی کی وہ کتاب تھی جس کا موضوع سسی تھی ، جس کی بابت میرے میزبان جناب غلام حسین ساجد نے دل چسپ باتیں بتائیں۔

میں کتاب کی تلاش میں بُک لینڈ بھی گیا مگر وہ کتاب مجھے نہ مل سکی ، لیکن اس کتاب کے مصنف کا لب و لہجہ اتنا دلکش ہے کہ میں کتاب کے نہ ملنے پر اداس ہوگیا ۔ بایں ہمہ  یہ محفل ،  اس محفل میں پُرانے اور نئے ادبی دوستوں سے ملاقات اور جناب غلام حسین ساجد کی نوازشات مجے نہال کر گئیں ۔ یہ چند ساعتیں میرے لاہور کے سفر کا ایک خوبصورت باب ہیں ، جو میری لوحِ دل پر رقم ہے اور جسے میں کبھی بھلا نہیں سکوں گا ۔ محفل ختم ہوئی تو ساجد صاحب کا ڈرائیور مجھے میرے اگلے ٹھکانے تک بھی پہنچا آیا ۔ ( جاری ہے )

loading...