نیوزی لینڈ مساجد حملہ کے ملزم برینٹن ٹیرنٹ پر دہشتگردی کی فرد جرم عائد

  • منگل 21 / مئ / 2019
  • 560

نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ  کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملے میں ملوث برینٹن ٹیرنٹ پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے  اے ایف پی  کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ  اس فرد جرم میں الزام عائد کیا جائے گا کہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردانہ کارروائی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ دہشت گردی کی فردِ جرم کے علاوہ برینٹن ٹیرنٹ کو قتل کی 51 اور اقدام قتل کی 40 فرد جرم کا سامنا بھی ہے۔ پولیس نے کہا کہ حملے کے 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد دہشت گردی کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ پراسیکیوٹرز اور حکومتی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے اضافی الزامات سے آگاہ کرنے کے لیے حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔  پولیس حملے میں متاثرہ خاندانوں اور بچ جانے والے افراد کو جذباتی اور چیلنجنگ عدالتی کارروائی کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔

کرائسٹ چرچ میں پندرہ مارچ کو دو مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، انہوں نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی جس میں اس کی ذہنی حالت کی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسے اپیل دائر کرنےکی ضرورت ہے یا نہیں۔

گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے دنیا بھر کے رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہمراہ آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ' کرائسٹ چرچ کال' کے نام سے مہم کا آغاز کیاتھا۔

loading...