سراج الحق ، بلاول کے افطار ڈنر میں کیوں نہیں گئے ؟

گزشتہ رات بلاول بھٹو زرداری  کے افطار ڈنر پر اپوزیشن کے اہم پارٹی لیڈروں کی ملاقات کے بعد آج مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک اجلاس منعقد کیا ۔  دونوں مواقع پر ملک کو درپیش  صورت حال اور معاشی بحران زیر بحث آیا۔

  اگرچہ   مسلم لیگ (ن) کی حال ہی میں نامزد ہونے والی نائب صدر مریم نواز نے آج پارلیمنٹ میں اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو حکومت گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خود ہی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے گھٹنوں کے بل گر جائے گی۔ تاہم میڈیا کے علاوہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والے سب  لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر  عمران خان کی حکومت کے خلاف کس قسم کی تحریک چلانا چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز افطار ڈنر کے بعد پریس کانفنرس سے خطاب کرتے ہوئے  بتایا تھا  کہ سب لیڈروں نے مولانا فضل الرحمان کو عید الفطر کے بعد آل پارٹی کانفرنس منعقد کرنے کا کام سونپا ہے۔ اس کانفرنس میں اپوزیشن لائحہ عمل تیار کرے گی۔  اپوزیشن  احتجاج کے اشارے دیتے ہوئے حکومت  کو گرانے سے گریز کرنے  کا اعلان تو کررہی ہے لیکن حکمران جماعت کو دیگر معاملات کی طرح  اپوزیشن کے اس عہد پر بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے لے کر ان کی مشیر اطلاعات فردوس  عاشق اعوان  مع دیگران نے یہ واضح کرنے میں دیر نہیں  کی  کہ جمہوریت بچانے کے نام پر  سارے بد عنوان اکٹھے ہوکر بیٹھ رہے ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان کا خیال ہے کہ ان ملاقاتوں میں ’بدعنوانی سے ذخیرہ کی ہوئی دولت کو  محفوظ رکھنے  کے ہتھکنڈے تلاش کئے جاتے ہیں‘۔

عمران خان اور فردوس عاشق اعوان  کی یہ خوش گمانی درست بھی ہو  تب بھی یہ حکومت کے لئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اپوزیشن  کے’ بدعنوان لیڈر ‘قوم کی لوٹی ہوئی دولت  بچانے  میں کامیاب ہورہے ہیں  تو یہ بدعنوانی کے خلاف  برسر پیکار حکومت  کے ایک نکاتی ایجنڈا  کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔  تحریک انصاف کی حکومت شریف خاندان اور زرداری  سے قوم کی دولت واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کروانے کو اپنا نصب العین قرار دیتی رہی ہے۔ اس حوالے سے   بہت سے افسانوں پر قوم کو اعتبار کرنے  پر آمادہ بھی کیا گیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ اسدعمر برسر اقتدار آتے ہی  بدعنوان سیاست دانوں کی لوٹ مار کے 200 ارب ڈالر بیرون ملک سے واپس لا کر  ملک و قوم  کے سارے دلدر دور کرنے کا اعلان کرتے تھے۔

وہ یہ دولت تو واپس نہ لاسکے لیکن قوم کو مہنگائی اور معاشی  بے یقینی کے گڑھے میں پھینکنے  کی وجہ سے خود  ضرور وزارت خزانہ سے نکالے گئے اور اب  مالی امور کی قائمہ کمیٹی کا چئیرمین بننے کے بعد وہ صحافیوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان سے تو پکوڑوں سموسوں کا بھاؤ پوچھا جائے۔  آئی ایم ایف اور مالی معاملات پر استفسار نہ کیا جائے۔     اسد عمر کو کابینہ سے نکالتے وقت جو نشتر زنی کی گئی تھی اس کے نتیجے میں منتخب  نہ ہونے کے باوجود مشیر کے طور پر  وزارت  اطلاعات کی نگران بننے والی فردوس عاشق اعوان کو البتہ  لگتا ہے کہ اپوزیشن کا واحد مقصد بدعنوان سیاسی لیڈروں  کی ناجائز دولت کو بچانے کے طریقے  ڈھونڈنا ہے۔ عمران خان اور ان کی  پوری حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اس  بات کی سو دلیلیں  دی جاسکتی ہیں کہ حکومت معاشی معاملات درست کرنے میں  کیوں  ناکام ہو رہی ہے۔  لیکن اگر اپوزیشن کے  ’عیار‘ لیڈر اس قدر مستعد حکومت کے ہوتے  اپنی ناجائز دولت کو چھپانے میں کامیاب ہورہے ہیں تو اسے کسی کی ناکامی  یا کامیابی قراردیا جائے گا؟

بدقسمتی سے  ملک کے وزیر اعظم ابھی تک یہ سمجھنے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ ان کی معاملات پر گرفت نہیں ہے اور ملک و قوم کو مالی خسارہ کے علاوہ خارجی اور داخلی اعتبار سے جن سنگین مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کے لئے ملک کی تمام  نمائیندہ سیاسی جماعتوں  کے درمیان تعاون و اشتراک  بے حد ضروری ہے۔ وہ ابھی تک  اپنی چندہ مانگنے کی صلاحیت  اور لوگوں  کی  طرف سے  بے دریغ عطیات دینے کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ’ وہ  یہ کرکے دکھائیں گے کہ کس طرح ملک کے لوگ  ان کی اپیل پر قومی اخرجات کا بوجھ اٹھانے کے لئے روپیہ جمع کریں گے‘۔

 عمران خان اس قسم کی باتیں کرتے ہوئے یہ بھول  جاتے ہیں  کہ شوکت خانم ہسپتال تعمیر کرنے کے  لئے ذکوٰۃ اور خیرات اکٹھا کرنا دوسری بات ہے  لیکن ملکی بجٹ کی ضرورتیں   لوگوں کے چندے  سے پوری نہیں ہوسکتیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ  یہ ہے کہ عوامی بہبود کے کسی منصوبہ میں  لوگ جنت میں جگہ حاصل کرنے کی امید پر چندہ  دیتے ہیں۔ یہ چندے اسی ’ناجائز‘ دولت میں سے دیے جاتے ہیں جو حکومت کو ٹیکس نہ دینے  کے ہتھکنڈے اختیار کرکے جمع کی جاتی ہے۔ حکومت کو ٹیکس یا چندہ دینے کے لئے اگر ریاست اور عوام  کے درمیان  ٹھوس اعتماد نہ بھی موجود ہو تو بھی مارکیٹ اور سرمایہ کے درمیان اعتبار کی کیفیت بحال ہونی چاہئے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے  منڈیوں کے اس اعتبار کو  ہی ٹھیس پہنچائی ہے۔

عمران خان    موجودہ حالات  میں قومی اشتراک عمل  کے جس اصول کو ماننے اور سمجھنے سے انکار  کررہے ہیں ، پیپلز پارٹی کے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری نے اسے بخوبی سمجھا ہے اور گزشتہ رات منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں اس کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔  بلاول کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت جس بحرانی صورت حال کا سامنا ہے ، اس میں سب سیاسی قوتوں کو مل کر ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔  یہی ایک نکتہ اپوزیشن  کی نیک نیتی  اور صائب حکمت عملی پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ ملک کی اپوزیشن  یہ سمجھتی ہے کہ ملک کسی  ایسے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا  جس میں سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں تصادم اور فساد کی  کیفیت پیدا ہوجائے۔ مسلم لیگ کی مریم نواز نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔   تاہم  یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ   اگر حکومت نے  بدستور ہٹ دھرمی اور سیاسی  کم نظری کا ثبوت  دیتے ہوئے  اہم قومی معاملات پر اپوزیشن کو الگ رکھنے کی حکمت عملی ترک نہ کی تو بجٹ سیشن کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں اپوزیشن کوئی بھی انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔

اس بات کا اشارہ پیپلز پارٹی کے  ایک لیڈر نے گزشتہ روز پارٹی کے ایک اجلاس کے بعد ان الفاظ میں دیا ہے کہ ’ ملک کے عوام  مہنگائی اور بے روزگاری کے موجودہ طوفان میں شدید مایوسی اور پریشانی کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر پیپلز پارٹی  عوام کی آواز نہیں بنے گی تو وہ اپنے ووٹر اور سیاسی حمایت سے محروم ہوجائے گی‘۔  یہ ایک نکتہ باقی سیاسی پارٹیوں کے پیش نظر بھی ہوگا۔ اس لئے ملک میں احتجاجی تحریک کا فیصلہ اپوزیشن کی بجائے حکومت کو ہی کرنا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے وزیر اعظم ، پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیں اور  حکومت کی حکمت عملی کی وضاحت کرنے کے  علاوہ اپوزیشن کی مثبت اور ٹھوس تجاویز کو منصوبہ کا حصہ بنائیں۔  یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب عمران خان اور ان کے ساتھی ملک کو اپنی  ذاتی جاگیر کی بجائے  سیاسی  رائے سے قطع نظرحکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سب لوگوں کا وطن سمجھنے پر آمادہ ہوں۔

موجودہ بحران   اگرچہ معاشی بدانتظامی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے منڈیوں میں بے یقینی گہری ہوتی جارہی ہے۔ تاہم اس کا یہ سیاسی پہلو بھی  قابل غور ہے کہ   مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی    حکومتیں  معمولی اکثریت  کے باوجود مضبوطی  سے  کھڑی ہیں۔ حتی  کہ اپوزیشن لیڈر بھی اسے گرانے کی بات زبان پر لانے سے گریز کررہے ہیں۔  اس  افسوں سازی  کا  کچھ  حال  جماعت اسلامی  کے امیر  سراج الحق نے  بلاول بھٹو زرداری  کے افطار ڈنر میں  جانے سے معذرت کرکے بیان کردیا ہے۔

جماعت اسلامی  کے رویہ کو اگر مقتدر حلقوں کا بیرومیٹر سمجھا جائے تو راوی     تحریک انصاف کی حکومت کے  لئے ابھی چین ہی چین  لکھتا ہے۔ تبدیلی کے لئے موسم  سازگار نہیں ہؤا  ۔

loading...