اسد بگلا کا ڈرامہ بھنڈاری

گزشتہ ماہ  موریشس  کے حینیسی ہوٹل، اے بین میں ا سد بگلا کی نئی کتاب بھنڈاری کا اجراء ہوا۔  پروگرام کا انعقاد پٹرو  سمک کتب خانے کی طرف سے ہوا۔  بطور مہمانِ خصوصی قائم مقام صدرِ جمہوریہ  پراماسیوم ویاپوری جی۔او۔ایس۔کے تھے اورنائب وز یرِ اعظم محترمہ فضیلہ جیوا دوریاؤ بھی خصوصی مہمانوں میں شامل تھیں۔

تقریب کی نظامت کرتے ہوئے فینلے سازیش  نے  کی۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب بھنڈاری ہمیں مسلمانوں کی تہذیب کی سیر کراتی ہے۔ اپنی تقریر میں اسد بگلا  نے حنیسی پارک ہوٹل کے پیٹروسمک کتب خانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے  کہا کہ وہ مقامی فن کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور انہوں نے  انتظامیہ اور تمام اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا۔   انہوں نے بتایا کہ یہ  کتاب موریشس کے معاشرے سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ موریشس کے تکثیری معاشرے میں قومی اتحاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر قوم و ملت کی تہذیب و ثقافت کا پاس رکھاجارہا ہے تاکہ ایک انبساطی پل  تعمیر  ہوسکے۔  بریانی موریشس کا ہر فرد پسند کرتاہے۔  پورٹ لوئیس کی ڈے فورژ سڑک میں فروخت کی جانے والی بریانی  مقبول ِ عام ہے۔
بریانی دراصل ایک ثقافتی سرمایہ ہے جس سے ہماری اقدار کی عکاسی ہوتی ہے۔  ٹیکنالوجی اور ترقی کے اس دور میں ہم  چار سو سال پرانی روایت کا تحفظ کر رہے ہیں۔  بریانی بنانے کا طریقہ نسل در نسل منتقل ہوتاگیا۔  عرصہ دراز سے بھنڈاری کا مؤدبانہ پیشہ ایک فن مانا جاتا ہے۔  اس سے تہذیب کا ایک بیکراں سرمایہ منسلک ہے۔ اس کے علاوہ اس ڈرامے کو لکھنے کے پیچھے مصنف کا مقصد یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل کو مثبت مشاغل کی طرف راغب کیا جاسکے جس سے ان کے کردار کی تشکیل ہو اور وہ بے راہ روی اور دیگر سماجی مسائل کی زد میں نہ آجائیں۔
کتاب بھنڈاری میں موریشس کی تہذیب اورمقامی رنگ دیکھے جاسکتے ہیں۔  بھنڈاری کی اصطلاح خصوصاً موریشس میں مستعمل ہے۔  دوسرے ملکوں میں اسے باورچی یا خانساما ں کا لقب دیا جاتا ہے۔  بھنڈاری کے پیشہ کا براہِ راست تعلق موریشس کی بحری تاریخ سے ہے۔  بھنڈاری یورپی جہازوں میں بھنڈار کے میر ساماں تھے جو لشکروں کے لئے کھانا تیار کرتے تھے۔  موریشس میں انہوں نے یہاں کے مقامی باشندوں سے شادی کی اور یہیں کے ہو کے رہ  گئے۔
موریشس میں کوکنی، مہمان اور صورتی معاشروں نے اس کھانے کو مقبولِ عام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بھنڈاری  اسد بگلا کے بچپن کی یادوں سے ماخذہے۔ انہوں نے اس بھنڈاری کی یاد کو ڈرامے میں قید کیا ہے۔  وہ بھنڈاری جو ہر وقت بن سنور کر رہتا، ایک نہایت مہذب انسان تھا اور اپنے وقت میں دوسروں سے آگے تھا۔  اسے شاعری کا شوق تھا۔  ہندو تہذیب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے وہ نبات خور نمکین فروخت کرتا۔  بھنڈاری کے اپنے چینی پڑوسی سے اچھے تعلقات تھے جو  بریانی چاپ اسٹیک سے کھاتا تھا۔
  یہ ڈرامہ اصل میں اس بھنڈاری کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔  ڈرامے کے لئے شفاحبائی خان کو ٹائپنگ کے لئے،فرانچیسکا آنجلین  کو کریول زبان کی تصحیح کے لئے اور  رشید نیرواکو ڈرامائی نقطۂ نظر پیش کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا گیا۔   نسرین بانو عاشق نے دیدہ زیب سرورق تیار کیا جو جامعہ مسجد اور باٹیمکس کی عمارتوں کے پائیں گاہ کے مناظر سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہے۔  فیضل ڈیلو نے ان اوزاروں کی مصوری بنائی جو بریانی کے بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔  عنایت حسین عیدن،  خدا دین سمودھی اور ممتاز امریت صاحب نے نظر ثانی کا کام انجام دیا۔ کریم جی جوانجی کمپنی نے مالی امداد فراہم کئے۔  جناب بشیر نکچیدی اور لے پرینٹان  سے جناب احمد سلیمان کا بھی شکریہ ادا کیاگیا۔
مشہور و معروف منصورہ ایشانی کی بریانی بنانے کا نسخہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ آپ کوکنی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسلامک کلچرل سینٹر کے چیرمین پروفیسر حسین صبراتی اور دیگر اراکین کا بھی شکریہ ادا کیاگیا۔
نائب وزیر اعظم فضیلہ جیوا دوریاؤ  نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسد بگلا  کو مبارکباد پیش کی اور رسمِ اجراء کی کامیابی پر بھی اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ کتاب موریشس کے کثیر المذاہب ملک ہونے کی دلیل ہے۔  طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہوئے سماج کے ان اہم نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے پڑھنے میں لطف پیدا ہوتا ہے۔  بریانی کا تعلق ثقافتی وراثت سے جڑا ہوا ہے۔  اس میں اہلِ موریشس کی عام روزمرہ معمولات درج ہیں۔  بھنڈاری بریانی تیار کرنے میں سخت نظم و ضبط کا پابند ہے۔  اپنے اسسٹنٹ کے ساتھ اس کا صبر وتحمل ہاتھ سے جاتا رہا۔  اس کے لئے بریانی تیار کرنا کوئی مذاق نہیں۔  دیگچی کوٹیڑھا چڑھانے پر اسے اپنے خلاف سازش کا گمان ہوتا ہے اور وہ غلط نتیجہ اخذ کرتا ہے۔اس کتاب میں بریانی کی ایک گرم پلیٹ سے موریشس کی مشترکہ تہذیب کو اجاگر کیا گیا ہے جس سے قومی اتحاد و یگانگت ابھر کر سامنے آتا ہے۔ خوبصورت الفاظ کے سہارے مقامی فن کو فروغ دیا گیا ہے۔  اس میں تخیل کی پرواز ہے اور یہ سنجیدگی اور متانت کا ثمرہ ہے۔  اس میں موریشس کے مسلمانوں کی روایت ہے۔  وزیر صاحبہ نے مزید فرمایا کہ انہیں ڈرامے کے اسٹیج ہونے کا اشتتیاق ہے۔
قائم مقام صدرِ جمہوریہ ویاپوری  کے ہاتھوں کتاب کا اجراء ہوا۔  انہوں نے سامعین کو بتایا کہ آزادی سے موریشس ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔  معیارِ زندگی میں اضافہ ہوا، ثقافتی زندگی کی توسیع و ترویج ہوئی۔  لوگ بہتر خوراک کی طرف راغب ہونے لگے اور بریانی ہردلعزیز ہوئی اور ایک معاشی ذریعہ بھی بن گیاہے۔  ادب تفکر کرنے والے ذہن اور محسوسات سے بھرے دل کا ترجمان ہوتا ہے۔  انہوں نے  مبارکباد پیش کی کہ موریشس کے ادب میں ایک اور اضافہ ہوا۔  مستقبل میں کھانا  معیشت کا ستون بن سکتا ہے جس سے معیشت پنپ پائے گی۔
ڈرامہ بھنڈاری کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ عام فہم بنانانے کے لئے مقامی بولی کریول میں بھی لکھا گیا ہے۔  رسمِ اجراء نہایت تزک و احتشام سے ہوئی اور اس میں موریشس کے کئی معتبر شخصیتوں نے شرکت کی جن میں سابق نائب صدرِ جمہوریہ جناب عبدالرؤوف بندھن  اور اردو اسپیکنگ یونین کے چیرمین جناب شہزاد عبداللہ احمد صاحب بھی موجود تھے۔
loading...