ووٹ کا کھوٹ

یارِ بغاوت مآب حضرت حبیب جالب رحمتہ اللہ علیہ کی خواہش تھی کہ وہ سیاسی جلسوں میں ہنگامہ مچانے پر ہی اکتفا نہ کریں اور ایک قدم آگے بڑھا کر صوبائی یا قومی  اسمبلی کے ممبر منتخب ہوکر عملی سیاست بھی کریں ۔

 وہ نیشنل عوامی پارٹی کے بہت پُرانے کارکن تھے جن کے تمام لیڈروں کے ساتھ   بشمول مولانا بھاشانی اور عبد الولی خان ، جالب کے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن پارٹی کا خیال تھا کہ وہ قابلِ انتخاب نہیں ہیں جسے انگریزی والے الیکٹیبل کہتے ہیں ۔ اس پر شاعر کا دماغ گھوم گیا اور اُس نے اپنی پارٹی بنا لی ۔ پاکستان پرولتاریہ پارٹی ۔ اور اُنہوں نے شاہو کی گڑھی کے اُس علاقے سے صوبائی  نشست پر انتخاب لڑنے کی ٹھانی جہاں ریلوے مزدوروں کی ایک بڑی آبادی تھی جو مرزا ابراہیم کی ٹریڈ یونین سے وابستہ تھے ۔ یہ پارٹی کیا تھی ؟ شاعرِ عوام حبیب جالب اور  پھرحبیب جالب ۔ پارٹی کے عہدیدار روز بدلتے تھے ۔ ایک بار مجھے جنرل سیکریٹری بنانے کا اعلان کیا اور اگلے پیگ کے بعد یہ اعلان واپس لے لیا کہ ایک پارٹی میں دو شاعر بہت ہو جائیں گے ۔ ایک دوست نے جالب سے پوچھا کہ پارٹی کا منشور کیا ہے ؟ تو  حضرت ِجالب نے فرمایا:

نہ پرچی نہ چندہ

نہ دفتر نہ بندہ

یہ تو بہت مختصر ہے  ، نواب ناطق نے کہا تو جالب ترنت بولے کہ اے بے ریاست کے نواب ، " یہ تو طویل سے بھی کچھ زیادہ ہے ، اس کو سمجھنے کے لیے شاعر کا نہیں سیاست دان کا دماغ درکار ہے ۔ تمہیں پتہ ہے ووٹ کیا ہے اور وہ ووٹر کا کیا لگتا ہے ؟

کیا لگتا ہے ، ناطق نے استفسار کیا تو جالب نے تان اُڑائی :

روٹی ، کپڑا اور دوا

گھر رہنے کو چھوٹا سا

مُفت مجھے تعلیم دلا

میں بھی مُسلماں ہوں واللہ

پاکستان کا مطلب کیا

لا الہ الاللہ

یہ ہیں ووٹر کی وہ ضرورتیں جن کو پورا کرنا ووٹر کی تعظیم اور ووٹ کی عزت ہے اور میں نہیں چاہتا کہ یہ سرمایہ دار لوگ ووٹ کی عزت لوٹتے رہیں ۔ جالب نے پورا زورِ سخن لگا کر اپنی انتخابی مہم چلائی لیکن جیسا کہ نیپ کا خیال تھا کہ جالب الیکٹیبل نہیں ہے ، اس لیے جالب کے  نجی مُخلص دوستوں میں کسی نے اُس کی انتخابی مہم کو سنجیدگی سے نہ لیا لیکن شاعر اپنی ضد پر  اڑا رہا ، ڈٹا رہا ۔

الیکشن مہم کی شام  تک مرحوم سلیم شاہد اور میں جالب کی حوصلہ افزائی کے لیے کمر بستہ تھے اور حسبِ توفیق جالب کے ساتھ ساتھ رہے ۔ انتخابی تقریروں کے بعد ایک وکیل صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر  آگ کو پانی کر کے پینے کے بعد جالب تو گھر چلے گئے اور سلیم شاہد اور میں ڈی پی ایڈلجی کے سامنے شاعروں اور ادیبوں کو  پیرِ مُغاں کے در سے خیرات لیتے دیکھنے لگے جو بڑا دل چسپ منظر تھا ۔ اتفاق سے اُس روز مے فروش کی دکان کے باہر پولیس کا ٹھیکری پہرا تھا اور وہ شراب خریدنے والوں کی پکڑ دھکڑ میں لگے تھے کہ کچھ مال کما سکیں ۔ دریں اثنا ہمارا ایک بائیں بازو کا  انقلابی " الموت"  شیشی لے کے دکان سے نکلا تو پویس نے دھر لیا ۔ اس پر سلیم شاہد نے آگے بڑھ کر اُسے پولیس کے چنگل سے رہائی دلانی چاہی تو پولیس نے اُنہیں بھی پکڑ لیا اور بولے ، " تُوں وی پیتی ہوئی اے " ۔

 میں جو کافی فاصلے پر کھڑا تھا ، میری طرف اشارہ کر کے سلیم شاہد نے کہا کہ : " اوہ وی میرے نال اے ۔" چنانچہ ہمہ یاراں حوالات کا محاورہ بندھ گیا ۔ ہمیں پکڑ کر پرانی انار کلی تھانے  لایا  گیا۔ سلیم شاہد جسے چھڑانے گئے تھے اُس انقلابی کا دور دور تک پتہ نہ تھا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تو پولیس سے نقد معاملہ کر کے نو دو گیارہ ہو گیا تھا اور ہم شکاری کے جال میں پھنس کر رہ گئے ۔ پہلے پولیس نے ہمیں اپنے ڈاکٹر کے پاس پیش کیا کہ ہمارے نشے میں ہونے کا تصدیق نامہ حاصل کیا جائے تو سلیم شاہد اُس  ڈاکٹر سے بھی اُلجھ پڑے اور بولے ، " توں وی آیا سئیں شاعر بنن ٹی ہاؤس وچ " ۔ معاملہ مزید خراب ہوگیا اور رات لاک اپ میں گزارنا لازم ٹھہر گیا ۔  تب تک جالب کو معلوم ہوچکا تھا کہ کیا بیتی ہے ۔ وہ سخت غُصے میں تھا کہ میرے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی گئی ہے گویا ۔ صبح ہوتے ہی ہم سب کے ایک  وکیل دوست میاں منت اللہ ( مرحوم ) ہماری ضمانت کو آن پہنچے اور ہم رہا ہو کر جالب کے غیض و غضب کی عدالت میں پیش ہوئے مگر چند مسالہ دار جملوں کے بعد سکون ہو گیا ۔

حبیب جالب الیکش میں نشست نہ جیت سکے اور کچھ دن کے لیے اُن کی سیاست  پر اُداسی  چھا گئی تھی ۔ دریں اثنا میں اور سلیم شاہد پی کر واویلا کرنے کے الزام میں ملوث ہوئے ۔ حلقہ ء اربابِ ذوق کے جنرل سیکریٹری اعجاز بٹالوی نے سُنا تو کہا کہ یہ ایک سنگین کیس ہے جس میں تم دونوں ملوث ہو گئے ہو ۔ دریں اثنا عدالت سے سمن آئے اور ہمیں ضلع کچہری میں نواب محمد احمد خان آنریری میجسٹریٹ  کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ یہ وہی نواب محمد احمد خان ہیں جنہوں نے بھگت سنگھ کو سزا سنائی تھی اور جن کے قتل کے الزام میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی ۔ ہمارے خلاف پولیس کا گواہ ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک پروڈیوسر اکرم بٹ کا بھائی تھا ۔ جو ہمارے وقوعہ کے روز پہنے ہوئے لباس کی درست نشانی نہ بتا سکا لیکن عدالت نے ہمیں جرمانہ کردیا ۔ میرے پاس تو جرمانہ ادا کرنے کے پیسے ہی نہ تھے مگر سلیم شاہد اور کافی ہاؤس کے ایک دوست کی مدد سے میں بھی جرمانہ ادا کر کے  ایک سنگین بوجھ سے سبکدوش ہو گیا ۔

جالب کے ہار جانے کا مجھے سخت ملال ہوا ۔ کہاں جالب جیسا سادہ لوح شاعر اور کہاں الیکٹیبل سیاستدان جو بڑا چالاک تاجر ہوتا ہے ۔ وہ اپنا کاروبار چلانے کے لیے اپنی دولت سے قصیدہ خوان  خوشامدی خرید لیتا ہے ۔ یہ پارٹی  اُس کی سیاسی قوال پارٹی ہوتی ہے جو اُس کے عقب میں بیٹھی تالیاں بجا بجا کر گاتی ہے:

"ووٹ کو عزت دو ، ووٹ کو عزت دو ۔"

 مگر ووٹ کو عزت دینے کا مطلب کیا ہے ؟ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب سیاسی اصطلاح  میں یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ووٹ کے ذریعے اقتدار کی کرسی کو فتح کیا ہے ، اُن کو کُرسی پر بٹھا کر ظُلم ، کرپشن ، منی لانڈرنگ ، عدم مساوات اور لاقانونیت کی کھلی چھٹی دی جائے  تاکہ وہ ملکی وسائل کو اپنے نجی اور خاندانی مفادات کے لیے استعمال کریں لیکن بے چارے جالب کی اتنی اوقات کب تھی کہ وہ یہ کام کرنے کے لیے اسمبلی کا رکن منتخب ہوتا ۔ تاہم جالب پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ روشن ستارہ ہے جو نہ صر صر کو صبا کہ سکا نہ ظلمت کو ضیا ۔

پیارے حبیب جالب ! تو امر ہے ۔

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اُس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

loading...