پاکستانیوں کے مغالطے

خبر تو ٹی وی نے چھین لی۔ اخبار کے دامن میں اگرچہ حروفِ مطبوعہ کی کمی نہیں مگر قابلِ مطالعہ تحریروں کے لیے انتخاب کر نا پڑتا ہے۔ عام طورپر لوگ، ایک تجربے کے بعد پسندیدہ لکھاریوں کی ایک فہرست بنا لیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک فہرست میں نے بھی بنارکھی ہے۔

میں اخبارات میں لکھنے والوں کو دوحصوں میں تقسیم کر تا ہوں :کالم نگار اور راقم الحروف۔ اپنی سہولت کے لیے میں کالم اور مضمون کے فرق کو نظر انداز کرتا ہوں کہ بہت سے تحریروں کی جنس مشتبہ ہے۔ ایک نظرسے دیکھیے تو مضمون دکھائی دیتا ہے اور دوسری نظر سے کالم۔ مضمون اور کالم دونوں مذکر ہیں مگر پڑھنے کے بعد، لازم نہیں کہ آپ لغت کے فیصلے سے اتفاق کریں۔ دانا چونکہ گوہر پہ نظر رکھتے ہیں، اس لیے صدف پر وقت ضائع نہیں کرتے۔ میں بھی جنس کے تعین کا تردد نہیں کرتا۔ (یاد رہے کہ یہ کالم اور مضمون کا ذکر ہو رہا ہے۔)

اخبارات کے ادارتی صفحات پر ’راقم الحروف‘ کا قبضہ ہے۔ کم و بیش، اسی فی صد علاقہ اس کے کنٹرول میں ہے۔ معلوم نہیں یہ کوئی فردِ واحد ہے جوکئی ناموں سے ظہور کرتا ہے یا یہ تعداد حقیقی ہے۔ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تنزلات کا معاملہ ہے : ’اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے‘ ۔ حقیقت کا فیصلہ تو کوئی رجل ِغیب ہی کر سکتا ہے، میں تو صرف اسلوب کی غیر معمولی یکسانیت کو دیکھنے ہوئے سب پر ایک ہی حکم لگاتا ہوں۔ یوں پڑھنے کی مشقت سے خود کو محفوظ رکھتا ہوں۔ اب جو بیس فی صد باقی ہے، اس میں سے دس فی صد کا معاملہ خربوزے جیسا ہے۔ لازم نہیں ہر دفعہ میٹھا ہو۔ دس فی صد کی ضمانت ہے کہ مٹھاس ان کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے۔ ان میں سے ایک یاسر پیرزادہ بھی ہیں۔

یاسر کالم نگار ہیں مگر ان کا کالم مضمون کی صفات لیے ہوئے ہے۔ اسلوب کے اعتبار سے کالم، نفسِ مضمون کے حوالے سے مضمون۔ پڑھنے بیٹھیں توکالم کا حظ اٹھائیں۔ بے تکلفی، سلالت، روانی اور شگفتگی ایسی ہے کہ پڑھتے ہوئے کہیں سانس پھولتا ہے نہ فشارِ خون بلند ہو تاہے۔ مسکراہٹ ہونٹوں سے جدا نہیں ہوتی۔ آپ تحریر کے ساتھ بہتے چلے جاتے ہیں جیسے کوئی سفینہ پرسکون سطحِ آب پر رواں ہو۔

کلام مکمل ہو نے پریہ منکشف ہوتا ہے کہ اس میں تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ تھا۔ یہ تو کھیل کھیل میں پڑھائی تھی۔ اس میں تو ہمارے سماج کے ایک بہت سنجیدہ مسئلے کا بیان تھا جس نے ہم سب کی نیند حرام کررکھی ہے۔ اس نے تو مجھے ایک ایسے واہمے (myth) سے نکالا ہے جسے میں نے مذہبی تقدس دے رکھا تھا۔ جسے میں ایک تاریخی صداقت سمجھ بیٹھا تھا، وہ توکسی داستان گو کی اختراع تھی۔ کالم پڑھنے کے بعدسوچ کے دریچے وا ہو نے لگتے ہیں۔ خیالِ تازہ کے جھونکے ارد گرد کی فضا کو معطر کر دیتے ہیں۔

یہ سب باتیں اگر وعظ و نصیحت کے اسلوب میں کہی جائیں تو یقیناً بے اثر رہ جائیں۔ جیسے باپ ہرروز اپنے بچوں کو نصیحت کر تاہے اور اگلے دن وہ پھر وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔ باپ اگر کچھ سمجھ بوجھ رکھتا ہو تو دو تین دن ہی میں جان جاتا ہے کہ وہ کارِ عبث میں وقت برباد کررہا ہے۔ اگر زیادہ سمجھ دارہوگا تو بات کہنے کا اسلوب بدل دے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر باپ اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان میں زیادہ تر راقم الحروف ہی ہوتے ہیں۔

یاسر پیرزادہ کا اسلوب اور موضوعات کا انتخاب ان کے کالموں کی تازگی کوبرقرار رکھتا ہے۔ انہیں پرانا نہیں ہو نے دیتا۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے کالموں کے نئے مجموعے کو پڑھ کر ہوا۔ ”پاکستانیوں کے مغالطے“ پڑھتے وقت، مجھے کہیں یہ احساس نہیں ہوا کہ میں کوئی تحریر دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مغالطے ختم ہوتے ہیں نہ انہیں بار بار دہرانے والے۔ یہ صدقہ جاریہ ہے۔ جواب میں یاسر پیرزادہ جیسوں کو بھی صدقہ دینا یا اتارنا پڑتا ہے۔

یہ کتاب پڑھ کر خیال ہو تا ہے کہ ہماے مغالطوں کی فہرست کتنی طویل ہے۔ تاریخ کیا تھی اور ہم کیا سمجھتے رہے؟ مذہب کی تعلیم کیا ہے اور ہم کن واہموں میں پڑے ہیں؟ تاریخ، مذہب، روحانیت کے باب میں ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی اگربڑی بڑی غلط فہمیوں میں مبتلا ہے تو ایک عامی سے کیسا گلہ؟ جب راہ دکھانے والے ہی مغالطوں میں مبتلا ہوں گے تو ان کے حاضرین، ناظرین ا ور قارئین کا کیا قصور؟

ہمارے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ ہمارے ذہن میں ریاست اور قائد اعظم کی ایک تصویر ہے۔ ہم قائد کی اصل تصویر کو تاریخ کے چوکھٹے سے نکالنے اور اپنی مصور شدہ تصویر وہاں لٹکا دیتے ہیں۔ قائد اعظم کی کوئی تقریر ہمارے تصورِ قائد کی نفی کرتی ہے تو ہم اس تقریر ہی کا انکار کر دیتے ہیں۔ ہم ایران وہند سے روحانیت کے نام پر ایک مغلوبہ بناتے اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ا س پر اسلام کا لیبل چسپاں کر دیں۔ ہم اپنے ماضی کی محبت میں اس طرح گرفتار ہیں کہ اس کے اوراق بھی اپنی منشا کے مطابق ترتیب دیتے ہیں۔

زمانہ مگر بہت بے رحم ہے اور حقیقت پسند بھی۔ یہ کسی غلط فہمی کو تادیر باقی نہیں رہنے دیتا۔ یہ کبھی تاریخ کے اوراق الٹتا اورواقعات کو اصل صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ کبھی علم کی دنیا سے ایسی شہادتیں جمع کر تا ہے کہ جسے ہم سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں، ہمارے لیے شرم ساری کا سامان بن جا تاہے۔ یاسر نے اصل حقیقتوں کو حسن ِ بیان اور ظاہر ہے کہ درد مندی کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ مقصود اصلاح ہے، کمزوریوں سے لذت اٹھانا نہیں۔

یاسر کے اسلوب کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ وہ ایک جملے میں جہاں ِ معنی کو سمو دیتے ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ ا س کے لیے قدرتِ کلام کے ساتھ، صحتِ فکر بھی ضروری ہے۔ دیکھیے ایک مغالطے کو کیسے بیان کیا ہے : ”پاکستان اُسی دن معرضِ وجود میں آگیا تھا، جس دن یہاں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ اور اسی دن اس مشن کی تکمیل ہو گی جس دن آخری ہندو یہاں سے ہجرت کر جا ئے گا۔“

یہ جملے دیکھیے : ”میں اس بد بودار جمہوریت پر لعنت بھجتا ہوں جس میں چند خاندن عوام کی ہڈیوں سے گودا تک نکال کر کھا جائیں۔ میں تو اس خوشبودار آمریت کا قائل ہوں جس میں اکیلا شخص یہ کام کر سکتا ہے۔“ ۔
”میں سچی محبت کی قائل ہوں جس میں جسم سے نہیں، روح سے پیار کیا جاتا ہے“ ۔ ”ٹھیک ہے۔ میں تمہاری کلاس فیلو سے شادی کر لیتا ہوں۔ تم میری روح سے پیار کر تی رہنا“ ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے مغلاطوں کا اس سلالت اوربے تکلفی کے ساتھ کم ہی لوگ بیان کر سکے ہیں۔

یاسر پرزادہ نے ان کالموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک کا تعلق نظری و فکری مسائل سے ہے۔ ایک کا تاریخ مغالطوں سے اور ایک حصے میں سماجی نوعیت کے موضوعات کوجمع کردیا ہے۔ اس کتاب نے ان مغالطوں کی ایک جامع فہرست بھی مرتب کر دی ہے، جن سے نکلے بغیر شاید ہم فکری بلوغت کے راستے پر پہلا قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔ کئی سال پہلے علی عباس جلال پوری نے ایسے ہی مغالطوں پر ایک کتاب لکھی تھی۔ ان کے علمی مرتبے کے اعتراف کے باوصف، میں اس سے کلی اتفاق نہیں کر سکا۔ یاسر کی کسی بات سے مجھے اختلاف مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ان کالموں کو دوبارہ پڑھ کر مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اگر اخبارات میں راقم الحروف کے بجائے، یاسر پیرزادہ جیسے لکھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے تو بالغ نظری کی ایک تحریک برپا کی جاسکتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں اس کی بہت شدت سے ضرورت ہے جہاں آج بھی شادی کے لیے جسمانی بلوغت کو کافی سمجھا جا تا ہے۔ شاید اس کے بعد لوگ خاندان جیسے ادارے کی بنیاد رکھتے ہوئے، ذہنی بلوغت کی اہمیت کے بھی قائل ہو جائیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...