جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر کی آن لائن انتہاپسندی کے خلاف ’ کرائسٹ چرچ کال‘

  • جمعرات 16 / مئ / 2019
  • 280

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے نیوزی لینڈ کی 2 مساجد پر حملے کی لائیو ویڈیو وائرل ہونے پر آن لائن انتہاپسندی کے خلاف ' کرائسٹ چرچ کال' کے نام سے مہم کا آغاز کیا ہے۔

مارچ میں نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملوں میں 50 افراد کے جاں بحق ہونے کے کئی ہفتوں بعد مختلف ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں نے انٹرنیٹ پر پُرتشدد اور انتہا پسند  مواد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنےپر اتفاق کیا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ میں حملہ آور نے مساجد میں فائرنگ کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کی تھی جس پر فیس بک کو لائیو اسٹریمنگ سے متعلق قوانین سخت کرنے پر زور بھی دیا جارہا تھا۔

' کرائسٹ چرچ کال' کی سربراہی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے پیرس میں اس مہم کے آغاز کی سربراہی کی جس میں دنیا بھر سے سربراہان اور نمائندگان بھی شریک تھے۔ تاہم امریکی حکومت نے کرائسٹ چرچ کال کی حمایت نہیں کی اور پیرس اجلاس میں نمائندگی نہیں کی۔

اجلاس میں اس مہم پر اتفاق کرنے والے رہنماؤں نے بیان میں کہا کہ ’ ایسے مواد کی آن لائن تشہیر کی وجہ سے متاثرین، اجتماعی سیکیورٹی اور دنیا بھرکے تمام افراد کے انسانی حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں‘۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ خاص طور پر فیس بک کو کرائسٹ چرچ حملے کے بعد سے حملے کی فوٹیج اپلوڈ ہونے اور اسے ہٹانے کی کوششوں کے باوجود کروڑوں مرتبہ شیئر ہونے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز فیس بک نے کہا تھا کہ لائیو اسٹریمنگ پر کچھ پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں۔

ٹوئٹر، وکی پیڈیا، ڈیلی موشن اور مائیکروسافٹ کے ہمراہ گوگل اور اس کے یوٹیوب یونٹ نے بھی اس حوالے سے کیے گئے عہد میں حصہ لیا ہے۔

سماجی روابط کی کمپنیوں نے کہا کہ وہ انتہا پسند مواد کی شناخت اور تیزی سے ہٹانے کے لیے نئے ٹولز تلاش کرنے میں تعاون کریں گی جیسا کہ پر تشدد پوسٹس یا تصاویر کی ڈیٹا بیس شیئر کرنا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ مختلف پلیٹ فارمز پر نہ پھیل سکیں۔

ایمانوئیل میکرون کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پہلی مرتبہ حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، کمپنیوں اور ڈیجیٹل ایجنسیوں نے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے سے متعلق اقدامات اور طویل المدتی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’ اس سے قبل کہ مزید نقصان پہنچے ہمیں اس مسئلے پر قابو پانےکی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ صرف قوانین کی حد تک نہیں ہے بلکہ کمپنیوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے اور بتانا ہے کہ ان کا کردار بھی ہے۔

loading...