پارلیمنٹ پر مکمل اعتماد کے بغیر موجودہ بحران سے نکلنا مشکل ہے

سابق وزیر خزانہ  اسد عمر نے قائمہ کمیٹی مالی امور کا چئیر مین منتخب ہونے کے بعد وعدہ کیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ  طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد  کمیٹی کو تفصیل سے بتائیں گے کہ  انہوں نے کن امور پر آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں مراعات لینے کی کوشش کی تھی۔  یہ وعدہ ایک طرف حکومتی صفوں میں  پڑنے والی دراڑوں کا پتہ دیتا ہے  تو دوسری طرف  یہ بات خوش آئیند ہے کہ اسد عمر پارلیمنٹ کے ارکان کو اعتماد میں لینے کا وعدہ کررہے ہیں۔

کسی بھی معاہدہ کی صورت میں قومی اسمبلی حتمی فیصلہ کرنے کا حتمی فورم ہونا چاہئے۔ لیکن  حکومت  اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ پارلیمانی نظام میں قائم حکومتوں کا یہی رویہ دراصل نظام  کی کارکردگی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔  اب  متنوع  میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے  ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے۔ حکومت اگر کوئی معاملہ خفیہ رکھتی ہے اور کسی بھی مقصد سے  کسی معاہدہ یا لین دین  کے بارے میں تفصیلات سامنے لانے سے گریز کرتی ہے تو اس سے افواہوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔  یہ قیاس آرائیاں ملکی جمہوری نظام کے حوالے سے مہلک اور خطرناک ثابت ہوتی ہیں کیوں یہ ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان رشتے کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

ایک تو اس قسم کی افواہ سازی کا سلسلہ روکنے کا سب سے بہتر طریقہ   یہی ہو سکتا ہے کہ معاملات کو  سامنے لایا جائے اور حکومت کھل کر مختلف امور پر  عوامی نمائیندوں  کے سامنے اپنی مشکلات بیان کرے۔ اس طرح ایک طرف اسے مثبت اور قابل عمل مشورے دستیاب ہو سکتے ہیں تو دوسری طرف  اعتماد سازی کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ موجودہ بحران میں یہ ماحول پیدا کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ  ہمہ وقت یہ سوال پاکستانی مباحث میں سر فہرست رہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو کب تک کام کرنے کا موقع ملے گا۔  بدقسمتی سے یہ طے کیا جاچکا ہے کہ پارلیمنٹ اور اس میں ڈالا گیا اعتماد کا ووٹ کسی وزیر اعظم کو حتمی اختیار دینے  کے لئے کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ووٹ یاا عتماد کا اظہار محض ایک رسم ہے جو  دکھاوے کے لئے پوری کرلی جاتی ہے۔ طاقت کا اصل محور دوسرے ادارے ہیں۔

یہ قیاس آرائیں بے بنیاد بھی ہو سکتی ہیں لیکن ماضی قریب  میں ہونے والے اقدامات اور فیصلوں کو دیکھتے ہوئے  اس قسم کی افواہوں کو راسخ ہونے سے روکنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اہل پاکستان بار بار اس سچائی  کا تجربہ کرچکے ہیں کہ  منتخب حکومت کو بعض طاقتیں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتی ہیں اور ان کے ذریعے   ایسے  فیصلے کروائے  جاتے ہیں جن کا ماخذ پارلیمنٹ نہیں ہوتی۔ یعنی درپردہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عناصر ہی نہیں پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے والے لیڈر بھی ملکی آئین کے تحت قائم ہونے والے اس سب سے بااختیار ادارہ  پر اعتماد کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ 

سابق وزیر اعظم  نواز شریف نے 2014 کے دھرنے کے دوران دباؤ اور سیاسی بے یقینی کی صورت حال میں جب پارلیمنٹ پر اعتماد کیا اور تمام پارلیمانی جماعتوں نے جمہوریت کے تسلسل کے لئے حکومت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا تو وہ اپنی حکومت بچانے میں بھی کامیاب ہوئے ۔اور تاحیات دھرنا دینے کا دعویٰ کرنے والوں کو دھرنا ختم کرکے اسی ایوان میں واپس آنا پڑا جس کے بارے میں کنٹینر پر کھڑے  ہو کر  غیر پارلیمانی زبان استعمال کی جاتی تھی۔ اسی کو پارلیمنٹ کی طاقت کہا  جاسکتا ہے۔

بدقسمتی سے  نواز شریف کو جب پاناما لیکس کے  بعد ذاتی قسم کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے اور اس معاملہ کو جمہوری فورم کے ذریعے حل کرنے کی بجائے اس کی عدالتی تحقیقات کروانے کا قصد کیا اور  معاملہ سپریم کورٹ  تک پہنچا دیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں  وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑے، ان کی حکومت ایک جزو معطل ہو کر رہ گئی  بلکہ اس تنازعہ کے نتیجہ میں قائم ہونے والے مقدمات میں آنے والے ایک فیصلہ  کی وجہ سے وہ اس وقت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔  مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی   نیب کو سیاسی انتقام کا ہتھکنڈا قرار دیتی ہے لیکن  ان دونوں پارٹیوں  نے اپنے اپنے دور میں  پارلیمنٹ پر مکمل اعتماد کرنے  کی حکمت عملی اختیار کرنے سے گریز کیا تھا۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ ناکام تجربات عبرت کا سبب ہونے چاہئیں۔

عمران خان نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے دو وعدے کئے تھے۔ ایک یہ کہ وہ  تسلسل سے  پارلیمنٹ کے سامنے اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیں گے تاکہ حکومت کی کارکردگی بھی سامنے آسکے اور اس حوالے سے اپوزیشن بھی مثبت تنقید کے ذریعے حکومت کی اصلاح کا کام کرسکے۔ ان کا دوسرا وعدہ یہ تھا کہ وہ  کبھی عوام سے جھوٹ نہیں بولیں گے اور  ہر معاملہ پر بے لاگ اور صاف انداز میں ساری سچائی عوام کے سامنے رکھ دیں گے۔ لیکن پارلیمنٹ میں سوالوں کے جواب دینا تو کجا اب  منتخب وزیر اعظم یہ کہتے ہیں  کہ  انہیں پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے۔  رہا معاملہ عوام کو سب سچ صاف صاف بتانے کا  ، تو اس حوالے سے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں اور بھینسوں کا  حساب عام کرنے کے علاوہ  ، انہوں نے کسی سچ پر  عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں  کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت شدید سیاسی تنہائی کا شکار  ہیں۔

عوام کے  ساتھ براہ راست مواصلت کا طریقہ اور متبادل ، ریکارڈ شدہ پیغام یا منتخب  پسندیدہ صحافیوں سے ملاقات  نہیں ہوسکتا۔  بلکہ اس قسم کے طریقے اختیار کرنے والے لیڈر کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔  اسی  رویہ سے وہ عناصر ، جن کی اعانت اور سرپرستی کی بنیاد پر  اپوزیشن عمران خان کو  ’سیلیکٹڈ وزیر اعظم‘ کہتی ہے ، قوت پکڑتے ہیں اور منتخب لیڈر کی رہی سہی آزادی بھی مسلوب کردی جاتی ہے۔  اس مجبوری سے نجات پانے کا سب سے بہتر  طریقہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت اور وزیر اعظم نے دانستہ یا نادانستہ  ملک کے پارلیمانی نظام پر سوال اٹھا کر اور اٹھارویں ترمیم اور صدارتی نظام کے مباحث کی حوصلہ افزائی کے ذریعے  ملک کی منتخب پارلیمنٹ کی قدر و قیمت  کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم کے علاوہ اہم حکومتی وزرا نے  پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی کو غیر ضروری سمجھ رکھا ہے۔ یوں بھی  عمران خان کی کابینہ  میں غیر منتخب  لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی افتاد طبع کے حوالے سے  بھی کسی منتخب ادارے  کے سامنے جوابدہ ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔

تحریک انصاف کی حکومت اس وقت جن سیاسی و انتظامی مشکلات کا شکار ہے، وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ہی  ان میں  کسی  حد تک کمی کرسکتی  ہے۔ لیکن   حکمران جماعت نے اپوزیشن لیڈروں کو بدعنوان اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے  ان کے حق نمائیندگی کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ یہ انکار دراصل پارلیمانی نظام حکومت کی افادیت  کو تسلیم  نہ کرنے کے مترادف ہے ۔ اب حکومت چونکہ پارلیمانی نظام  ہی کی پیداوار ہے تو پارلیمنٹ کے کمزور اور بے توقیر ہونے  سے اس کی وقعت، اہمیت اور  قدر و قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے۔  پارلیمنٹ میں موجود سب ارکان قابل قدر اور باعث تکریم ہوتے ہیں ۔ سیاسی نظریات یا  اختلافات کی بنیاد پر کسی رکن یا جماعت  پر الزام تراشی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کارکردگی کو متاثر کرنا دانشمندی نہیں ہوسکتی۔ موجودہ حکومت جس قدر جلد اس سچائی کو تسلیم کرسکے اس کے لئے اتنا ہی سود مند ہوگا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ  موجودہ حالات میں  ملکی معیشت کو  درست کرنے کا آخری ہتھکنڈا تھا۔  حکومت کے اس قدام سے بحث مطلوب نہیں  ہے کہ یہ معاہدہ کیوں کیا گیا۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت بروقت پارلیمنٹ کو اس معاملہ پر اعتماد میں لینے سے کیوں گریز کررہی ہے۔ آخر کیوں ملک کے سابق وزیر خزانہ کو جو دراصل اس معاہدہ کو طے کروانے میں بنیادی کردار ادا کرچکے ہیں ، اب یہ کہنا پڑا ہے کہ   موجودہ معاہدہ ، ان اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے جو انہوں نے  مجوزہ معاہدہ کے لئے  متعین کئے تھے۔ اسد عمر اب بھی حکمران پارٹی کے قابل قدر رکن ہیں لیکن  ابھی تک انہیں کابینہ میں واپس لانے کی سب کوششیں  ناکام ہو چکی ہیں۔  اب وہ مالی امور کی  قائمہ کمیٹی کے سربراہ بنائے گئے ہیں اور اس حیثیت میں وہ بھی  پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی  بات کررہے ہیں۔

پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے اور اسے مضبوط کرنے سے ہی  کوئی سیاسی حکومت اپنی  قوت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اس مرکز سے دوری اور فاصلہ کسی بھی حکومت کو ان  ہی اداروں کے رحم و کرم پر لا کھڑا کرتا ہے  جو اپنی صوابدید کے مطابق حکومتوں میں اکھاڑ پچھاڑ کرنا قومی مفاد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔

عمران خان اس سچائی کو جان سکیں تو ان کی مشکلات بھی آسان ہو ں گی اور ملک   بھی بے یقینی اور بداعتمادی کی فضا سے باہر نکل سکے گا۔

loading...