سفر در سفر ۔8 ۔ اسلام آباد مشن

میرے پاس تین شہروں کا ویزہ تھا   جبکہ مجھے پاکستان بھر میں بہت سے کام پورے کرنے تھے اور بہت سے ایسےعزیز و اقارب سے ملنا تھا جنہیں میں نے دیکھا تک نہیں تھا ۔ لیکن اِس خیال سے کہ کہیں مجھ پر ویزے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام نہ لگ جائے ، میں تین شہروں کے علاوہ کہیں نہیں گیا ، بلکہ اپنی دونوں بڑی بہنوں کی آخری آرامگاہوں پر جا کر فاتحہ خوانی بھی نہیں کر سکا ۔

اب مجھے لاہور سے اِسلام آباد جانا تھا جہاں سمندر پار پاکستانیوں کے نادرا  دفتر سے اپنے اوریجن کارڈ  کے کیس کی بالمشافہ پیروی کرنی تھی ۔ اس سلسلے میں پہلی درخواست میں نے چند برس پہلے اوسلو میں اُس وقت دی تھی جب نادرا کی برانچ سفارت خانہ میں بھی قائم تھی لیکن مطلوبہ  دستاویزات کی عدم فراہمی کی بنا پر  اُس درخواست کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔ چنانچہ دوسری بار میں نے دو ستمبر  کو پچھلے برس آن لائن درخواست بھجوائی جس کی منظوری مختلف اعتراضات کی بنا پر  معرضِ التوا میں پڑی تھی ۔ چنانچہ میں نے اپنی خواہرِ نسبتی ، اُس کی بیٹی اور برادرِ نسبتی کے بیٹے کے ہمراہ اسلام آباد کا رُخ کیا ۔ ہماری کرائے کی گاڑی شریف برادران کی تعمیر کی ہوئی موٹر وے پر فراٹے بھر رہی تھی ۔ جگہ جگہ ٹول ٹیکس کے ناکے تھے ۔ 

اسلام آباد اب وہ چالیس سال پُرانا متوازن آبادی کاشہر نہیں تھا جہاں میں نے ایک جریدے میں کام کیا تھا ۔ہمارا دفتر زیرو پوائنٹ پر واقع تھا جہاں سے شام کو  ویگن میں بیٹھ کر ر اولپنڈی صدر کے علاقے میں شالیمار ریستوران میں دوستوں سے ملاقات کے لیے جانا معمول تھا ۔ یہاں جن دوستوں سے ملاقات ہوتی تھی اب اُن میں احمد داؤد  ، ممتاز مفتی اور محمد منشا یاد  موجود نہیں کیونکہ  وہ ملک عدم میں نئے افسانوں کے پلاٹ  بنا رہے ہوں گے ۔ وہ  تینوں  اعلی پائے کے قلمکار اور افسانہ نگار  ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے انسان  تھے  جنہیں بھلانا  میرے لیےممکن نہیں ۔

پہلے مرحلے میں ہمیں اپنی ہم سفر خاتون کو اُس کی نند کے ہاں پہنچانا تھا ، جو بحریہ ٹاؤن میں مقیم تھی ۔ اور اگلا پڑاؤ نادرا کا دفتر تھا ۔ڈرائیور چونکہ لاہور کا تھا ، اس لیے اس لیے اُسے اسلام آباد کی گلیاں محلے ڈھونڈنے میں دقت ہو رہی تھی ، تاہم راستے کے نشانات اور سڑکوں کے ناموں کی تختیاں پڑھتے ، چھوٹی بڑی سڑکیں ناپتے ہم نادرا کے دفتر پہنچ گئے ۔کاؤنٹر پر حاضری لگوائی تو معلوم ہو  کہ ہم غلط جگہ پر آ گئے ہیں اور ہمیں نادرا کے ایک دوسرے دفتر میں جانا ہے جو سمندر  پار پاکستانیوں کے لیے مخصوص ہے ۔ بتائے ہوئے پتے پر پہنچے تو لنچ میں 15 منٹ باتی تھے ۔ ریسیپشن پر موجود حفاظتی عملے نے رہنمائی کی ، میرے کیس سے  متعلقہ افسر انچارج شہزاد صاحب کو فون کیا اور بتایا کہ وہ لابی میں آ کر مجھے ملیں گے ۔

 لابی میں پہنچے تو اذان کی آواز گونجنے لگی اور لابی میں نماز کے لیے صفیں بچھائی جانے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے لابی مسجد کا منظر پیش کرنے لگی ۔ شہزاد صاحب لابی میں تشریف لا چکے تھے ۔ چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ تھی ۔ بھلے آدمی لگے ۔ اںہوں نے مجھ سے پاسپورٹ مانگا تو معلوم ہوا کہ موجودہ پاسپورٹ کی کاپی تو اُن تک پہنچی ہی نہیں ۔ ہوا یہ تھا کہ جن صاحب نے میری دستاویزات آن لائن بھیجی تھیں اُنہوں نے غلطی سے کینسل شدہ پاسپورٹ کی کاپی بھیج دی تھی جس میں نارویجین پاسپورٹ افسر نے غلطی سے میری جنم بھومی ہندوستان لکھ دی تھی کیونکہ میرا جنم 1944 میں ہوا تھا اور تب پاکستان تھا ہی نہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان میں تقسیم سے پہلے پیدا ہونے والے لوگوں کا جنم کا ملک اگر پاکستان لکھا جائے تو اس کو موجودہ پاکستان   لکھا جائے ، بصورتِ دیگر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ جو لوگ 1947 سے پہلے پیدا ہوئے وہ ایسے ملک میں کیونکر پیدا ہو سکتے ہیں جو اُس وقت تھا ہی نہیں ۔ اور اِن غلط اندراجات نے بہت سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مشکلیں کھڑی کی ہیں اور اُنہیں پی او سی کے حصول میں اڑچنیں پیش آئی ہیں ۔ شہزاد صاحب نے فرمایا کہ اس پاسپورٹ کی کاپیاں فراہم کی جائیں جو بعد ازاں لاہور جا کر میں نے بھجوا دی تھیں ۔ جواباً ای میل سےاطلاع ملی کہ میری درخواست منظور کر لی گئی ہے اور کارڈ چھپنے کے لیے نھجوایا جا رہا ہے ۔ الحمد للہ ۔ لیکن یہ بھی  کہا گیا کہ کارڈ ناورے میں اُس پتے پر بھجوایا جائے گا جو درخواست میں درج ہے ۔

نادرا کے دفتر سے فارغ ہو کر ہم نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے دفتر پہنے جہاں شہرِ سُخن کا شہزادہ ، میرِ غزل حسن عباس رضا کام کرتے ہیں ۔ حسن جمع عباس جمع رضا ۔ یہ ایک نام نہیں بلکہ  تین ناموں کا مرقع ہے ۔ ایک تعویذ ہے جس میں ان تین ناموں کی برکات ہیں اور حسن کی شخصیت اتنی دلکش ہے کہ وہ کروڑوں دلوں کا مکین لگتا ہے اور جب شعر گا کر پڑھتا ہے تو مہدی حسن لگتا ہے ۔ دریں اثنا  اوسلو کے ایک دوست غُلام مجتبیٰ سومرو کا فون آیا کہ وہ بھی کہوٹہ سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور بک فاؤنڈیشن میں ہی ملاقات ہوگی ۔ سومرو صاحب اوسلو کے پاکستانی سفارت خانے میں کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کا دفتر سنبھالتے تھے مگر اب کہوٹہ میں پاسپورٹ آفس کے مدار المہام ہیں ۔نہایت نستعلیق اور دوستدار آدمی ہیں اور سینے میں بہت خوبصورت دل رکھتے ہیں ۔ ایسا بھلا آدمی سول سروس میں شاذ ہی ہوتا ہے ، مگر ہوتا ہے ۔

بُک فاؤنڈیشن کے دفاتر میں پہنچ کر حسن کا کمرا تلاش  کیا تو وہ خالی تھا ۔ میں اور میرا بھتیجا وہیں براجمان ہو گئے اور حسن کو فون کیا ، جو نیچے کینٹین میں تھے اور میری آواز پر تُرنت آئے اور گلے ملے ، چالیس برس کے بعد کی جپھی کا اپنا ہی سواد ہوتا ہے ۔ لو جی  جانے کیوں عدم صاحب یاد آ گئے :

گلے آپس میں جب ملتے ہیں دو بچھڑے ہوئے ساتھی

عدم ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے

جانے اس ماحول میں اس شعر کا کیا حوالہ لیکن بعض خیالات اپنے آپ میں کوئی مخفی مفہوم لیے ہوتے ہیں ۔ حسن کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے پی او سی کا تذکرہ ہوا تو اُنہوں نے فون پر محبوب ظفر صاحب کو دعوتِ ملاقات دی جو اگلے چند منٹوں میں پہنچ گئے ۔ پی او سی کے ضمن میں میری مشکلات کا ذکر سُن کو اُنہوں نے فون پر کسی سے میرے ستارے ملانے شروع کیے تو لگا کہ بس میری مشکل حل ہو گئی ۔ میں کہہ رہا تھا نا کہ حسن ، عباس اور رضا ایک نہیں تین نام بلکہ تین طاقتیں ہیں جو ستاروں کی چالوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں ۔ جب مجھے نادرا سے ای میل موصول ہوئی کہ میری درخواست منظور ہو گئی ہے تو مجھے پتہ چل گیا کہ حسن عباس رضا اور محبوب ظفر صاحب نے ستارے ملا دیے ہیں ۔

 ہم نہایت پر سکون ماحول میں دفتر سے باہر آئے تو سومرو صاحب موجود تھے ، اُن سے مل کر جو خوشی ہوئی اُسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ وہ مجھے ڈنر پر مدعو کرنا چاہ رہے تھے جب کہ مجھے  اپنے قافلے کے ساتھ لاہور واپس پہنچنا تھا ، اس لیے سومرو صاحب کی دعوتِ طعام میں شرکت کا اعزاز حاصل نہ کرسکا لیکن اب میری باری ہے کہ میں واپس پاکستان جا کر اُن سب دوستوں کا مٹھائی سے لبریز شکریہ ادا کروں جنہوں نے میری پاکستانی پہچان بحال کروائی ہے ۔ حسن ، محبوب ظفر صاحب  اور غلام مجتبیٰ سومرو صاحب کو ناروے سے میرا مودبانہ سلام !

 
loading...