افغانستان میں امریکہ شکست کے دہانے پر ہے: طالبان

  • بدھ 15 / مئ / 2019
  • 450

طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ میں امریکہ شکست کے دہانے پر ہے اور جلد افغانستان سے چلا جائے گا۔

امریکی خبررساں ادارے وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق شیر محمد ستنکزئی کی جانب سے یہ دعویٰ 28 اپریل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے ’اندرونی اجلاس‘ میں سامنے آیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ یا تو امریکہ ’اپنی مرضی سے چلا جائے گا یا اسے واپس جانے پر مجبور کردیا جائے گا‘۔

طالبان رہنما نے یہ بیان امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حالیہ دور سے 2 روز قبل دیا تھا۔ تاہم طالبان کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے شیر محمد ستنکزئی کی تقریر کی ویڈیو جمعہ کو جاری کی تھی۔

اس وقت تک امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد اور طالبان نمائندوں کے مابین ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے حالیہ دور اختتام پذیر ہوئے ایک روز گزر چکا تھا۔

ویڈیو میں طالبان رہنما کو موجودہ حالات میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے لڑنے اور ماضی میں ملک پر برطانیہ اور روس کو شکست دینے پر افغان قوم کو سراہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ صدی کے دوران 2 سپر پاورز کو شکست دینے کے لیے خدا نے ہماری مدد کی اور تیسری سپر پاور، جس سے ابھی محاذ آرائی جاری ہے، وہ بھی شکست کے دہانے پر ہے‘۔ چند روز قبل ہی سابق امریکی سیکریٹری دفاع  نے متنبہ کیا تھا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ افغان حکومت کو مستحکم کیے بغیر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی صورت میں طالبان ملک کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سست روی لیکن درست طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’جب بہت زیادہ معصوم لوگ مر رہے ہوں اور تنازع کے خطرات شدید ہوں تو مذاکرات کی حالیہ رفتار ناکافی ہے‘۔

loading...