صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تردید کردی

  • بدھ 15 / مئ / 2019
  • 860

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت ایران سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر ایک لاکھ 20 ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے گزشتہ ہفتے قومی سلامتی سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ایران سے لاحق خطرات کے پیش نظر  منصوبہ تجویز کیا ہے۔

اخبار کے مطابق منصوبے میں ایران کی جانب سے امریکی فوج یا خطے میں امریکہ کے مفادات پر کسی حملے یا اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری تیز کرنے کی صورت میں ایک لاکھ 20 ہزار تک امریکی فوجی خطے میں تعینات کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ٹائمز کے مطابق اسے ذرائع نے بتایا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ایران پر زمینی حملے کی تجویز شامل نہیں تھی کیوں کہ اس کے لیے مزید فوجی دستوں کی ضرورت پڑتی۔

اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ منصوبہ اس سے قبل پیش کیے جانے والے لائحہ  عمل کی نظرِ ثانی شدہ شکل تھا جس میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سمیت ایران کے خلاف سخت موقف رکھنے والے اہلکاروں کی سفارشات پر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

تاہم منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو 'فیک نیوز' قرار دیا۔ صدرنے کہا کہ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ کیا وہ مشرقِ وسطیٰ فوج بھیج سکتے ہیں تو یقیناً وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کے بقول فی الحال امریکہ کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہےکہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر ایسی کوئی ضرورت پڑی تو ان کی حکومت اس سے کہیں زیادہ فوج وہاں بھیجے گی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ حکومت پہلے ہی ایک طیارہ بردار جہاز اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل جنگی طیارے مشرقِ وسطیٰ بھیج چکی ہے جب کہ پیٹریاٹ میزائل کی بیٹری اور جنگی کشتیوں کو لنگر انداز ہونے کی سہولت فراہم کرنے والے لینڈنگ پلیٹ فارم ڈاک شپ بھی علاقے کی جانب روانہ کردیے گئے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدام ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات پر حملے کے خطرے کے پیشِ نظر کیا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیاں موثر ہوگئی ہیں جن کے ردِ عمل میں ایران نے اپنی بعض جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکی پابندیوں، طیارہ بردار جہاز کی آمد اور اس پر ایران کے سخت ردِ عمل کے باعث خطے کی صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

loading...