معاشی تنزلی کو کیسے روکا جا سکتا ہے


12مئی کو عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان کو 39ماہ کے دوران قسطوں میں 6ارب ڈالر قرضہ دیا جائے گا۔
 آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد ورلڈ بینک اور ایشیائی بینک بھی کم شرح سود پر دو سے تین ارب ڈالر قرضہ دیں گے۔  پچھلے کئی ماہ سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس تاخیر کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ہیجانی کیفیات تھیں۔ اس معاہدے کی شرائط نے بجلی اور گیس کو مزید مہنگا کرنا پڑے گا جس سے صارفین پر اگلے تین سال میں 3سو چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
 بجلی اور گیس کی ریگو لیشن کے اداروں نیپرا اور اوگرا کو خود مختار بنایا جائے گا جس سے حکومت بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کے الزام سے بری ذمہ ہو جائے گی۔ پیٹرول بھی مزید مہنگا ہوگا۔ پہلے ہی ایک لیٹر پر چالیس روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ روپے کی قدر کا تعین منڈی کرے گی۔ اس حوالہ سے مرکزی بینک اور حکومت منڈی کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس اقدام سے ڈالر کی قیمت کسی حد تک بڑھ سکتی ہے۔ پچھلے پندرہ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں پہلے ہی 35%بڑھ چکی ہے۔ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ مالی خسارہ میں چھ فیصد سالانہ کی شرح سے کمی کرنا ہوگی۔ ترقیاتی بجٹ، صحت، تعلیم کے پہلے سے انتہائی قلیل بجٹ اور بچی کچی سبسڈیوں میں مزید کٹوتیاں کرنی ہوں گی۔  اسٹرکچرل اصلاحات یعنی سرکاری شعبوں میں چھانٹیاں اور نجکاری کا پروگرام شامل ہے۔ شرح سود 14% تک جا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر750ارب  روپے کے ٹیکس لگائے جائیں گے، ان اقدامات سے معیشت کی شرح نمو 2.5%تک گر جائے گی۔ ہماری محنت کی منڈی میں ہر سال پندرہ لاکھ نوجوان روز گار کیلئے داخل ہو رہے ہیں جن کو روز گار کی فراہمی کیلئے شرح نمو کی سطح7%بڑھوتی کی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف کے پروگرام پر مکمل طور پر عمل کرنے کے باوجود بحرانی کیفیات سے نکلنے کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی ہے جس کی بنیادی وجوہات پاکستان کا عالمی سامراجی جکڑ بندیوں کا شکار ہونا ہے جسے جدید نو آبادیاتی کہا جا سکتا ہے۔ سیاست اور معیشت کے بارے میں آزدانہ فیصلے نہیں  ہوتے۔  حکمران طبقات نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ آزاد معیشت کی منڈی میں بنیادی کردار عالمی سرمائے اور ان کی گماشتہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ہے۔جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ذریعے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو اپنی مصنوعات کی کھلی درآمدات کیلئے مجبور کر رکھا ہے۔ اس طرح ان ممالک کی مقامی صنعت اور کاروبار بحرانی کیفیات سے دو چار ہیں۔ ان ممالک کو زیادہ درآمدات کی وجہ سے توازن ادائیگی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے مسائل رہتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے نظام میں سٹرکچرل اصلاحات کے نام پر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر قرضہ حاصل کرنے اور انہیں غیر متعلقہ اداروں میں خرچ کرنے اور انتظامی بد خالی کی وجہ سے مطلوبہ ٹارگٹ نہ حاصل کر پاتے ہیں۔جس سے بحران میں مزید اضافہ چلا ہوتا جا رہا ہے۔
آج کل پاکستان میں آئی ایم ایف کے مصری ماڈل کا تذکرہ ہے جس کے تجربات مصر میں عوام کے مفادات میں نہیں رہے ہیں۔آئی ایم ایف کے پروگرام شروع کرنے سے پہلے وہاں پر غربت 33%تھی اب وہاں پر 53%آبادی سطح غربت سے نیچے ہے۔کیونکہ آئی ایم ایف کی ہدایت کے مطابق ٹیکس ریفارمز کے سب سے زیادہ اثرات نچلے طبقات اور مقامی صنعت پر ہوئے ہیں۔
موجودہ بحران کا حل کیا ہے؟ پاکستانی معیشت کی تباہی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے تمام لوگ پریشان ہیں، اسٹاک مارکیٹ مسلسل گراوٹ سے دو چار ہے۔چھوٹے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔ آئی ایم ایف جس طرح سے دباؤ ڈال رہا ہے اس کا تعلق صرف پاکستانی معیشت سے نہیں بلکہ پاکستان کی داخلی اور خارجی سیاست سے ہے۔ماضی میں خارجی دباؤ کے تحت دہشت گردی کی جنگ میں الجھایا گیا جس سے پاکستان کی سیاست سماج اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ خمیازہ قبائلی عوام کو بھگتنا پڑا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ فاٹا کے علاقوں کو صوبہ پختونخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے اور ان کی منتخب اداروں میں نمائندگی کیلئے نشستوں میں اضافہ کر نے کیلئے ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔ جس سے یقینا مثبت نتائج سامنے آئیں گے جبکہ فاٹا کی ترقی کیلئے این ایف سی سے 3%حصہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔بلوچستان میں ہونے والے اکا دکا دہشت گردی کے واقعات بھی معاملات میں خاصہ بگاڑ پیدا کر رہے ہیں جس سے سی پیک کی پیش رفت کے حوالہ سے خدشات لا حق ہیں۔  پاکستان کی تمام کمزوریوں اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے آئی ایم ایف کی خاصی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ ملک کے اندر پولیٹکل پولر رائزیشن نے حکومت کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ اس داخلی اور سیاسی بحران کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر نہیں ہے مگر تحریک انصاف نے اس کو نہ روکا تو تمام تر ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔
 تحریک انصاف نے تاریخ، سیاست معیشت اور فلسفہ کا ادراک رکھنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ اس جماعت کا تعلق مڈل کلاس سے ہے جن کوئی مالی مسائل نہیں ہیں۔اسی لئے اس پارٹی کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ اگر پیٹرول دو سو روپے لیٹر بھی ہوگا تو لوگ خوشی سے خرید لیں گے۔ مگر لوگ عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ہماری اپر مڈل کلاس کے ریاست کے بارے میں خیالی تصورات اور کرپشن کی آلودگیوں میں گرفتار ہیں۔وہ کرپشن فری سماج قائم کرنے کی خواہشات رکھتی ہے۔ اگر اس کے مفادات کو نہ چھیڑا جائے، سیاسی محاذ آرائی اور احتساب کی سیاست کی وجہ سے کاروبار سر گرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔
پاکستان میں جس شدت کا بحران پیدا ہو رہا ہے اس کی سنگینی کا کسی کو احساس نہیں ہے ہماری سیاسی قیادت سمجھ رہی ہے یہ چار عشروں کے حالات کا تسلسل ہے حالانکہ ہمارے مقتدرہ طبقات قیام پاکستان کے بعد سے اپنے فائدہ کیلئے ائیر پورٹس، ہائی وے سڑکیں، سامان تعیش اور گاڑیاں امپورٹ کرتے رہے ہیں۔ جہاں سے انہیں کمیشن کک بیکس وصول ہوتے تھے۔ ملک میں صنعت کاری کے عمل کو فروغ دینے کی بجائے ہر چیز کی درآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے آج ملک صارف کی منڈی بن چکا ہے۔ہر شخص کی خواہش ہے کہ درآمدی منصوعات خریدے۔اداروں میں ملک کے حکمران طبقات نے اپنی مرضی کے افراد کو بھرتی کیا جنہوں نے ہمیشہ اپنے اور اپنے سر پرستوں کے مفادات کیلئے پالیسیاں بنائیں۔
پاکستان میں کبھی ڈالر چا روپے کا تھا اب ایک سو بیالیس روپے کا ہو چکا ہے۔ قرضے لینے کی ہمیں خوشخبریاں سنائی جا رہی ہیں۔ عوام کو مہنگائی کی صورت میں روزانہ خوش خبریاں مل رہی ہیں۔ لوگوں کو نوکری سے برطرف کار خانے اور ادارے بند ہو رہے ہیں۔رمضان میں اشیائے ضرورت کے نرخ 30%سے50%تک بڑھائے جا چکے ہیں۔ اور اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضے سے ملک کی معاشی سمت کو درست کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنے سے کسی ملک نے ترقی نہیں کی۔ ارجنٹائن، وینز ویلا اور افریقہ کے کئی ممالک عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔
 حکومت کا کہنا ہے اگلے سات سالوں میں 31ارب ڈالر واپس کرنا ہے جس پر پانچ ارب ڈالر سود بھی ادا کرنا ہے دوسرے مالیاتی اداروں کے قرضے الگ ہیں۔ قرضے عام لوگوں نے اتارنے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی 80%بلا وسطہ ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت شائد امیر طبقات پر ٹیکس لگانے کی جرات نہ کرے۔ امیر طبقات کے حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ نہ ہی ناجائز اثاثوں، رئیل اسٹیٹ اور ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی امید ہے۔ لگتا ہے کہ معاملات یوں ہی چلتے رہیں گے اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ موجودہ معاشی بحران کی سنگینیوں کو  کم کرنا عمران خان کی نئی معاشی ٹیم کیلئے بڑا امتحان ہے۔

loading...