پلاسٹک ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے

بحیرہ روم کے جزیرے سارڈینا کے ساحل پر ایک وہیل مچھلی مردہ حالت میں پائی گئی ہے۔ یہ اب سے چند دن قبل کا واقعہ ہے۔

وہیل مچھلی کے معائنے سے پتہ چلا کہ اس کی موت کا سبب پلاسٹک کی تھیلیاں، پلاسٹک کے کانٹے چمچے اور دیگر ناقابل حل غیر نامیاتی غلاظت ہے، وہیل کے پیٹ سے ایسا 22  مواد ملا ہے۔ یہ خبر ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے  ایک خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس واقعہ سے ٹھیک دو ہفتے قبل فلپائین کے ساحلوں پر بھی ایک وہیل مچھلی کی موت تقریباً انہی وجوہ کی بنا پر ہوئی تھی۔ اس کے پیٹ سے چالیس کلو پلاسٹک کا فضلہ برآمد ہؤا تھا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شائع شدہ اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے سے ہی وہیل مچھلی کی ختم ہوتی نسل کو حضرت انسان نے کن مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

آبی حیات کی مشکلات صرف انسان کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ صورت حال صرف معمولی سی توجہ سے ختم کی جاسکتی ہے۔

پلاسٹک کو فنا ہونے میں تقریباً چھ سو سال لگتے ہیں۔ اس کا فضلہ دراصل خود انسانی بقائے حیات کے لیے مشکلات کا باعث ہے۔ اور کرہ ارض کے ماحول میں تبدیلی کا بھی سبب بن رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ کرہ ارض پر خود انسانی حیات کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔

اونچی عمارتیں اور تارکول کی سڑکیں کرہ ارض کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ کا باعث بن کر زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔ ہم سب کو اپنے  اردگرد کے ماحول کی درستگی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے بہتر یہ ہے کہ پلاسٹک کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔

loading...