آئی ایم ایف کے ساتھ نیا معاہدہ عوام اور ریاست کا رشتہ کمزور کرے گا

حال ہی میں مالی امور کے  مقرر ہونے والے مشیر  عبدالحفیظ شیخ نے   ایک اچھے ترجمان کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کو ایک مثبت  اقدام اور حکومت کی کامیابی کے طور پر  پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔  تاہم اس حوالے سے دیے گئے انٹرویو میں  انہوں نے ان عوامل پر براہ راست بات کرنے سے گریز کیا ہے جن کا اثر عام آدمی کے بجٹ اور روزمرہ مصارف پر پڑنے والا ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران  حکومت 600 ارب روپے کے اضافی محاصل جمع کرنے  کی پابند ہے۔ ان میں سے 100 ارب روپے انرجی سیکٹر پر سبسڈی  ختم کرکے یعنی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے پورے کئے جائیں گے۔

آئی ایم ایف  کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت حکومت  کو آئیندہ 39  ماہ کے دوران  ماہانہ اقساط میں   6 ارب ڈالر وصول ہوں گے۔  یہ قرضہ اس کے بعد تین سال کی مدت میں واجب الادا ہوگا۔  اس پروگرام کے تحت  ماہانہ اقساط میں ادائیگی کے طریقہ سے  سمجھا جاسکتا ہے کہ آئی ایم ایف اپنے نمائیندوں کےذریعے  ہر مرحلہ پر ان اقدامات کی نگرانی کرے گا  جن پر اس معاہدہ میں اتفاق کیا گیا ہے۔ اس دوران اگر یہ محسوس کیا گیا کہ حکومت    ان اہداف  کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جو  اس پروگرام میں مقرر کئے گئے ہیں تو آئی ایم ایف مزید ادائیگی روک کر ادا شدہ  قرض  کی فوری واپسی کا تقاضہ بھی کرسکتا ہے۔   معاہدہ کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن اس کے بنیادی خدوخال گزشتہ کئی ماہ سے  تبصروں اور بیانات کے ذریعے عوام تک پہنچائے جاتے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے  خزانہ  کے ارکان نے  آج سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو چئیر مین منتخب کرنے کی کارروائی کے دوران   اصرار کیا کہ  ان شرائط کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ  ان کا جائزہ لیا جاسکے۔

اپوزیشن نے   آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کو ملک کو فروخت کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیاہے اور پارلیمنٹ میں اس کی سخت مزاحمت کا اشارہ بھی دیا ہے ۔ تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس ماہ کے آخر میں بجٹ پیش ہونے سے پہلے اس معاہدہ کی تفصیلات  سامنے لائی جائیں گی۔  اوّل تو  اسٹاف کی سطح پر طے پانے والے پیکیج کو ابھی آئی ایم ایف کا بورڈ آف ڈائیریکٹرز منظور کرے گا جس کے بعد اس پر عمل درآمد ممکن ہوگا۔ دوسرے  یہ بات واضح ہے کہ عالمی ادارے سے ملنے والی اس امداد کے نتیجے میں ملک کے عام شہریوں  کی معیشت متاثر ہوگی۔

حکومت کے لئے یہ سیاسی  طور سے سنگین مسئلہ ہے ۔ اس لئے بجٹ میں بھی  محاصل میں اضافہ اور دیگر مالی اقدامات کو پیش کرتے ہوئے  اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یوں ظاہر کیا جائے کہ اس سے  ملک کا عام شہری متاثر  نہیں ہو گا بلکہ امرا کو ہی اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ کسی  بھی ترقی پذیر معیشت کے لئے یہ آئیڈیل صورت حال ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور امرا  سے محاصل وصول کرنے  کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی   بالآخر عام شہریوں کو ہی بالواسطہ محاصل کی صورت میں سارا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مشیر مالی امور عبدالحفیظ شیخ نے  آئی ایم ایف کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے  مذاکرات کے اختتام پر طے پانے والے معاہدہ  کے بارے میں بتانے  کے لئے پریس کانفرنس کرنے کی بجائے سرکاری ٹی وی پر بات کرنے کو ترجیح دی اور  نہایت مختصر انداز میں اس معاہدہ کو پاکستانی معیشت کے  لئے  غیبی امداد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ عالمی مالیاتی فنڈ جن اصلاحات کی بات کرتا ہے حکومت انہیں پہلے ہی ملک  کے مفاد میں سمجھتی تھی۔ یعنی آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم کیا جائے، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے ، امیر لوگوں کو ملنے والی سبسڈی بند کی جائے اور امرا سے ٹیکس وصول کیا جائے۔حکومت دنیا کو مالی ڈسپلن کا پیغام بھیجنا چاہتی تھی اور یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ ہم اپنے مالی مسائل حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اگرچہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے نتیجے میں بعض شعبوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوگا تاکہ اخراجات پورے کئے جاسکیں‘۔

مشیر مالی امور نے عوام پر اس معاہدہ کے اثرات کے حوالہ سے سوال کا براہ راست جواب دینے کی بجائے  اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس سے غریب متاثر نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انرجی سیکٹر میں 50 ارب روپے  کی اضافی  سبسڈی دینے  اور سماجی بہبود کے پروگراموں احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ کے لئے  مزید  80 روپے  فراہم کرنے  کی نوید دیتے ہوئے ان منفی پہلؤں پر بات کرنے سے گریز کیا ہے  جن سے ملک میں مہنگائی  کاطوفان آنے اور بے روزگاری میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ متعدد اقتصادی ماہرین  اس بات سے متفق ہیں  کہ  نئے مالی پیکیج کے نتیجہ میں  ملک کی پیدا واری صلاحیت میں  کمی ہو گی  جبکہ ہر سال  پندرہ لاکھ نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں آتے ہیں۔ اس طرح نئے مالی اقدامات ملک میں مہنگائی کے ساتھ بے روزگاری میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔ اس سے غربت میں اضافہ اور کساد بازاری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

چھے ارب ڈالر کے نئے معاہدہ کے بارے میں آئی ایم ایف  کے پاکستان  میں نگران  ارنیسٹو رامیریز ریگو نے  جو بیان  جاری کیا ہے اگرچہ اس میں بھی ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی  جو اس معاہدہ کے تحت ضروری ہوں گے تاہم اس پریس ریلیز سے مشیر مالی امور کے بیان  کے مقابلے میں  صورت حال    زیادہ وضاحت ہوتی ہے۔   بیان میں کہا گیا ہے  کہ ’ اس پروگرام کا مقصد مستحکم اور قوی پیداواری اضافہ کے لئے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ یہ مقصد اندرونی اور بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن ختم کرتے ہوئے، شفافیت اور سوشل مصارف بڑھا کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو قومی پیداوار میں کمی، افراط زر، قرضوں کی زیادتی اور برآمدات میں کمی جیسے اہم معاشی مسائل کا سامنا ہے‘۔

ان مسائل کا حل تجویز کرتے ہوئے  بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’معیشت کی کمزوری دور کرنے کے لئے فیصلہ کن پالیسی و اصلاحات  کی ضرورت ہے جس کے تحت بیرونی سرمایہ کاری سے  ان  کمزوریوں پر قابو پایا جاسکے۔ تاکہ منڈیوں کا اعتماد بحال ہو اور معیشت کی پیداواری صلاحیت میں معمول کے مطابق  اضافہ ہو۔ اس طرح پرائیویٹ سیکٹر  میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔  اس مقصد کے لئے اس بیل آؤٹ پیکیج کے علاوہ انرجی کے شعبہ میں اخراجات کی وصولی اور سرکاری اداروں کی صورت حال کو بہتر بنانا ضروری ہوگا‘۔

بیان  میں واضح کیا گیا ہے کہ ’حکومت بجٹ میں بنیادی خسارہ کو کل قومی پیداوار کے 6۔0 فیصد تک محدود کرنے  کی کوشش کرے گی۔ یہ مقصد محاصل میں اضافہ، سبسڈی ختم کرنے، خصوصی مراعات کے خاتمہ اور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے  حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اسٹیٹ بنک افراط زر کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کرے گا کیوں کہ اس سے غریب آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے مارکیٹ کو ایکسچینج ریٹ کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے کر مالی شعبہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور معیشت میں وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے‘۔

آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ ’اسٹرکچرل اصلاحات  کے ذریعے ہی معاشی احیا کی امید کی جاسکتی ہے۔ تاکہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوسکے۔ اس  کے لئے  سرکاری اداروں کا بہتر انتظام، اداروں اور حکومت کو مستحکم کرنے کے اقدامات، منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اور دہشت گردی کی مالی امداد کی روک تھام کے ذریعے تجارت کا بہتر ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے‘۔

آئی ایم ایف کے بیان میں بالواسطہ طور سے ان تمام  قیاس آرائیوں کی تصدیق کی گئی ہے  جو اس حوالے سے  کی جاتی رہی ہیں  کہ اس معاہدہ کے تحت محاصل میں اضافہ اور  سرکاری اداروں کا خسارہ کم کرنے کا مطالبہ  کرنےکے علاوہ     روپے کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا تقاضہ کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ماہرین کے خیال میں اس سے تجارت بڑھے گی اور  روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ  دیگر ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ  فوری طور سے اتنے کڑے مالی اقدامات سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوگی اور قومی پیداوار سکڑ جائے گی۔  آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ سے اگلے ہی روز کراچی اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 937 پوائنٹ کم ہو گیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مارکیٹ بھی اس معاہدہ  کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

حکومت کو قومی خزانہ خالی ہونے اور محاصل میں کمی کی وجہ سے آئی ایم ایف سے قرض لینے کی شدید ضرورت تھی۔ کہا جاسکتا ہے کہ  اس معاملہ میں تحریک انصاف کی حکومت نے بدانتظامی کا مظاہرہ کیا لیکن  موجودہ حالات میں  کوئی بھی حکومت اس قسم کا مالی پیکیج لینے پر مجبور ہوتی۔  اس معاہدہ کا بنیادی نکتہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ اور اخراجات میں کمی ہے۔ آمدنی بڑھانے کے لئے  لوگوں کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے  لیکن وہ اس پر تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے پاکستان کی حکومت بار بار ایمنسٹی اسکیم کا  اعلان کرتی ہے تاکہ کسی حد تک  کالے دھن کو   عام معیشت کا حصہ بنایا جاسکے اور حکومت کو فوری طور پر کچھ وسائل بھی مل جائیں۔  موجودہ حکومت بھی ایسی اسکیم متعارف کروارہی ہے۔

تاہم  ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد میں شدید کمی کی وجہ سے  محاصل  جمع کرنے میں  مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ عام آدمی خواہ وہ غریب ہو یا امیر اسے  شدت سے یہ احساس ہے کہ کسی بھی مشکل میں اسے خود ہی اپنی دیکھ بھال کرناہے۔  حکومت یا ریاست اس کا ہاتھ  نہیں پکڑے گی۔ عدم اعتماد اور عدم تحفظ کے اسی ماحول کی وجہ سے  لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ اس  بے اعتمادی کو ختم  کئے بغیر کوئی بھی حکومت  وہ مالی اہداف  حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی جنہیں اسٹرکچرل اصلاحات کے  ناقابل فہم خول میں لپیٹ کر بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اندیشہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا نیا معاہدہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کرے گا۔ اسی لئے یہ پیکیج بہتری کی بجائے ابتری کا پیغام ہے۔

loading...