خطِ غربت و امارت کا توازن

برِ کوچک کا مسلمان پچھلی کئی صدیوں سے سیاستدانوں ، حکمرانوں ، حملہ آور وں ، قابض شاہوں اور اُن کے مذہبی کمیشن ایجنٹوں کے ہاتھوں جذباتی طور پر  بلیک میل ہو رہا ہے اور بلیک میلنگ کا یہ کالا دھندہ آج بھی بڑی شد و مد سے جاری ہے ۔ اس کیفیت اور صورتِ حال کی طرف  اقبال نے اشارہ بھی کیا تھا  کہ :

شہری ہو ، دہاتی ہو ، مسلمان ہے سادہ

مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن

پاکستان کا مذہبی منظر نامہ عجیب اور پُر پیچ ہے کہ ایک طرف بہتر فرقوں کا سِکّہ چلتا ہے اور دوسری طرف اسلام کا تصور ، تصوف اور شریعت کے مصنوعی اور مُلا ساختہ گرداب میں غوطے کھا رہا ہے ۔ اس پر چالاک مفاد پرستوں نے تصوف اور شریعت کو الگ الگ خانوں میں بانٹ کر دو الگ مذاہب کی سند جاری کر رکھی ہے اور اس کے لیے ابنِ تیمیہ اور ابنِ عربی کے بُت بنا کر  اُن کی پوجا کی جا رہی ہے ، حالانکہ تصوف اور شریعت ایک ہی کاغذ کے دو صفحے اور ایک ہی سکے کے دو رُخ اور لازم و ملزوم ہیں ۔

 اور جذباتی بلیک میلنگ کا سلسلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو افسانوی رنگ دے کر اسوہ ء حسنہ کی قدم بہ قدم پیروی کی عملی حقیقت کو پسِ پشت ڈال دیا  گیا ہے ،جس کا نتیجہ ایک غلط طرزِ فکر کی صورت میں نکلا کہ زندگی میں عملاً صادق اور امین بننے کی ضرورت نہیں ، بس درودِ پاک کے ذریعے  شریعت کا عملاً منکر جنت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو جو " انا بشر مثلکم " کی حقیقی مثال تھی ، ایک افسانوی رنگ دے کر کئی کہانیاں ایجاد کر لی گئیں ۔ چنانچہ ایک مابعد الطبعاتی ، خیالی اور ماورائے بشریت تصور ایجاد کر کے رائج کیا گیا  ہے جس کی تفہیم عام مسلمان کے بس کی بات ہی نہیں ۔ یہ سلسلہ پچھلی بارہ صدیوں سے اسلامی معاشرت کی عملی ترقی کی راہ میں تارِ عنکبوت کی طرح آویزاں ہے جس کے ساتھ مفسروں اور علماء نے امت کو معلق کر رکھا ہے ۔

 یہ ایک تنویمی نیند ہے جو طاری کر دی گئی ہے تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے با برکت اسم کا منتر پھونک کر لوگوں کو بس میں کیا جا سکے اور  اُس کی طاقت سے لوگوں پر حکومت کی جا سکے ۔ اور اب یہی عمران خان نے کیا ہے  کہ لوگوں کو مدینے کی ریاست کا خواب دکھا کر پی ٹی آئی کے ٹرک کے پیچھے لگا لیا ہے اور یہ نہیں سوچا کہ مدینے کی ریاست کی بنیاد اخوت پر تھی  کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، اس لیے جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ اپنے بھائی کے لیے پسند کرو ۔ اور خُدا کی قسم وہ مومن نہ ہوگا ، جس نے خود تو کھا لیا لیکن اُس کا ہمسایہ بھوکا رہا ۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بشریت کی اُس سطح پر تھے جہاں جنگِ خندق میں ایک عام مسلمان کے مقابلے میں ایک کے بجائے پیٹ پر  دو پتھر باندھ کر عام مزدور کی طرح خندق کی کھدائی فرما رہے تھے ۔ اور یہ ہے وہ نقطہ جو عمران خان کے پارٹی کے اکابرین ، اسمبلی کے اراکین ، بیوروکریٹوں اور ملکی اداروں کے سربراہوں سمجھ میں نہیں آ رہا  کہ مدینے کی ریاست کے حکمران کا قصرِ اقتدار مسجد تھی اور تخت لکڑی کا وہ منبر تھا جس پر خطبہ دیا جاتا ہے جہاں خلیفہ مسکینی و دلگیری کے ساتھ عام آدمی کی طرح روکھی سوکھی کھاتا اور موٹا جھوٹا پہنتا تھا ۔ وہاں عمال ، گورنروں اور سرکاری اہل کاروں کے لیے الگ سرکاری  کنٹینیں  نہیں تھیں جہاں  سبسڈی دے کر حکمراں طبقے کو سستا کھانا مہیا کیا جاتا ہو ۔وہاں ایسا نہیں تھا کہ حکمران طبقہ تو امتیازی مراعات کے بل پر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے اور عام مسلمان  اور اقلیتی شہری خطِ غُربت سے نیچے زندگی بسر کرے ۔

مدینہ کی ریاست میں تو دجلہ کے کنارے سوئے کُتےکے راتب کی بھی ضمانت دی گئی ہے  لیکن مدینے کی ریاست کے احیا کے نام پر جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ اسلامی تعلیمات کی مکمل نفی ہے لیکن پس منظر میں مدینے کی ریاست کی قوالی گائی جا رہی ہے جس میں اس زمانے کے ابو لہب ، ابو جہل اور ابو سفیان اپنے کاروبار کر رہے ہیں جو دین سے سراسر بغاوت ہے ۔

پاکستان میں جو کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے ہیں ، وہ پاکستانی معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر استوار کرنا ہے تاکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جانے والی رقم کی تحریری گواہی موجود ہو ۔ اس کے لیے سورہ بقر میں واضح ہدایات موجود ہیں :

" مومنو ! جب تم آپس میں کسی مقرر معیاد کے لیے لین دین کا معاہدہ کرو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں سے کسی فریق کا نقصان نہ کرے "  البقر ۔ ۲۸۲

لیکن ہمارے یہاں بہترین جدید تحریری سہولتیں ہونے کے باوجود لوگ ہُنڈی اور حوالے کے فرسودہ نظام کے غلام بنے ہوئے ہیں جس کا واحد مقصد حقائق کو چھپانا اور ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کا بہانہ تراشنا ہے ۔

ترقی یافتہ اور جدید معاشروں میں یہ قانون رائج ہے کہ سب کچھ تحریری حساب میں رہے۔ یہاں ناروے میں اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک دن یا دن میں دو گھنٹے کام کرتا ہے تو اُس کی اجرت میں سے انکم ٹیکس منہا کر کے سرکاری کھاتے میں جمع ہوتا ہے اور اجرت مزدور کی جیب میں چلی جاتی ہے مگر پاکستان میں بڑے تاجر ، صنعتکار ، آڑھتی ، اور دکاندار دن بھر کی کمائی تھیلے میں ڈال کر بستر کے نیچے چھپا دیتے ہیں یا اپنی خفیہ تجوری میں دفن کر دیتے ہیں اور کسی کو ستر سال میں پتہ نہیں چلا کہ اس قوم کی سالانہ خام آمدنی کیا ہوتی ہے ، چنانچہ جو اعداد و شمار سرکاری ادارے پیش کرتے ہیں وہ جعلسازی پر مبنی مفروضے ہوتے ہیں جو ملک کو اقتصادی پیروں پر کھڑا ہونے ہی نہیں دیتے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس معاشرے میں ایک طرف خطِ غُربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کا اژدہام ہے اور دوسری طرف خطِ امارت سے بہت اوپر اللوں تللوں ، گلچھروں اور عیاشیوں میں زندگی بسر کرنے والوں کا ٹولہ ہے جو غیر شرعی زندگی بسر کر کے اسلام کا نظریاتی استحصال کرتا اور ملکی وسائل  کو جو خُدا کی دین ہیں اور قوم کی مشترکہ ملکیت ہیں ، باپ کا مال سمجھ کر اُن پر سانپ بن کر بیٹھتا ہے ۔ یہ حد سے گزرنے والے لوگ خُدا کی کتاب میں شیطانوں کے بھائی بند ہیں اور شیطان کے بھائی بندوں کا معاشی نظام کوئی نظام نہیں بلکہ نری حرامکاری ہے۔

 مدینے کی ریاست میں کرنے کا بنیادی کام یہ ہے کہ خطِ امارت سے اوپر رہنے والوں کے پر قینچ کر کے اُنہیں عیاشی اور زر اندوزی کی فضا میں اُڑنے سے روکا جائے اور اُن کے اثاثوں کے ختنے کر کے ملکی معیشت کو متوازن بنایا جائے ۔ورنہ یہ ملک عمران خان کیا ، کوئی بھی ٹھیک نہیں کر سکے گا ۔اور پچھلے ستر سال کی طرح یہ ملک آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی کالونی بنا رہے گا  اور عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے سامنے کشکول لیے غربت و افلاس اور  ذلت و رسوائی کا عبرت ناک نمونہ بنا رہے گا ۔

 یہ سیاستدان جنہوں نے ستر برس سے اس ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے ہاں گروی رکھا ہوا ہے ، اس قوم کو اقتصادی غلامی کا طوق پہنائے اس کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کرتے رہیں گے۔  پاکستان کی آٹھ لاکھ مساجد میں مانگی جانے والی دعائیں اس امت کی تقدیر نہیں بدل سکیں گی  ، کیونکہ اس امت کے ساتھ خُدا اور رسول ؐ کے نام پر دھوکا کیا جا رہا ہے جو بند ہونا چاہیے ورنہ وہی ہوگا کہ :

تمہاری داستانوں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

loading...