وہ جھوٹے ہیں بندوق جھکا لیں

 صدر مملکت عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے باہر دیے گئے دھرنے کے نتیجے میں 19 افراد کی واپسی ہوئی ہے وہیں ممتاز حسین کے اہلخانہ اب بھی ان کی راہ دیکھ رہے ہیں

انسان غائب کیوں ہو جاتے ہیں اور ان کے لواحقین ان کے غائب ہونے پہ دکھی کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوال بہت سال پہلے اس وقت ذہن میں اٹھا جب ایک بار نانی اماں کو ‘میلادِ اکبر’ کی ایک دعا رو رو کے پڑھتے ہوئے سنا،’الہی جو ہیں مفقود الخبر ان کی خبر آ وے۔’

بچہ ذہن تھا، الفاظ میں الجھ گیا۔ نانی اماں سے سوال کیا کہ مفقود الخبر کیا ہوتا ہے اور لوگ آخر مفقود الخبر کیوں ہو جاتے ہیں۔ نانی اماں نے بہت ڈرانے والے انداز میں ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے کہا کہ شش! یہ باتیں نہیں پوچھتے۔ پھر میری شکل دیکھ کے ترس آگیا اور بولیں، ‘پہلے وقتوں میں بادشاہ لوگوں کو جنگوں اور تجارت پہ بھیج دیتے تھے اور ان کی خبر نہیں آ تی تھی، پھر انگریز کبھی ، چپکے سے کالے پانی بھیج دیا کرتا تھا اور جانے والوں کی خبر نہیں ملتی تھی اور اب، لے جانے والے، شاہی قلعے کی کوٹھڑیوں میں غائب کر دیتے ہیں۔ مفقود الخبر کر دیتے ہیں۔‘

بات سمجھ نہیں آئی، لیکن لفظ دماغ میں کنکھجورے کی طرح پنجے گاڑ کے پڑ گیا۔ ذرا بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ میرے ایک چچا بھی مفقود الخبر ہیں۔

وجہ یہ تھی کہ وہ تحریکِ پاکستان میں تھے اور ہر تحریک اپنی انتہا پہ جا کے متشدد ہو جاتی ہے۔ پچاس سال ان کی کوئی خبر نہ آئی، پھر ایک سیاہ رنگ کا کارڈ، جرمنی کے کسی دیہاتی علاقے سے آ یا جس سے معلوم ہوا کہ چچا کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی بیوی (جو کہ جرمن تھیں) نے جانے کس طرح ان کے گھر والوں کی خبر لے کے یہ کاڑد بھیجا ہے۔ اس وقت تک، چچا کا انتظار کرنے والا ایک شخص بھی زندہ نہ تھا۔

کراچی میں صدر عارف علوی کے گھر کے باہر شیعہ مسنگ پرسنز کا کیمپ لگا ہوا تھا۔ بچے، بوڑھی عورتیں، لڑکے، اپنے غائب ہوجانے والوں کے نام کے پلے کارڈ اور تصویریں لیے بیٹھے تھے۔ رمضان کا مہینہ ہے اور کراچی کی گرمی ہے۔ لیکن شائد لاپتہ ہوجانے والوں کی یاد اتنا دہکتا ہوا آبلہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے یہ گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ دھرنا دس مئی کو انیس لاپتہ افراد کی بازیابی اور باقی کی بازیابی کے وعدے کے بعد ختم کردیا گیا۔ اس طرح ستائیس لاپتہ افراد بازیاب کرا لیے گئے۔

دھرنے کے شرکا کی کئی اور شرائط بھی تسلیم کی گئیں۔ یہ ایک خوش آ ئند اور جمہوری روایت ہے۔ لیکن جبری گمشدگیوں کا یہ طریقہ جو دیگر کالونیل ہتھکنڈوں کی طرح ہی ہمیں وراثت میں ملا ہے آخر مکمل طور پہ ختم کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

ہر جمہوری ملک کی طرح پاکستان میں بھی ایسے افراد اور گروہ پائے جاتے ہیں جو اکثریت سے کسی نہ کسی طرح اختلاف رکھتے ہیں۔ جن کی اپنی سوچ ہے یا جن کو ریاست سے کوئی شکوہ ہے۔ جمہوری طریقہ یہ ہے کہ ان کی بات سنی جائے، انہیں اپنے جلسے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر ان کی بات میں دم نہیں ہو گا تو لوگ انہیں رد کردیں گے۔ سٹریٹ پاور ہی یہ بات ثابت کرتی ہے کوئی مطالبہ حقیقی ہے یا فنڈڈ۔

میڈیا کو ان جلسوں کی مکمل کوریج کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ ان کو سن کے ان کے مطالبات کے بارے میں اپنی رائے قائم کر سکیں۔ اگر ان گروہوں یا افراد کی بات غلط ہو گی اور عوامی مفاد کے خلاف ہو گی تو کون ان کے ساتھ کھڑا ہو گا؟ کسی کو ڈرا کے خاموش کرانا، کسی کے جلسے کو سبو تاژ کرنا، کسی لیڈر کو نظر بند کر دینا، کسی سوال کے جواب میں مکا تان لینا کیا ثابت کرتا ہے؟

جواب بالکل سادہ ہے۔ مفقودالخبر،بلوچ، پشتون، احمدی، شیعہ، تو، میں، ہیں تو سب پاکستانی شہری۔ ان کو اپنی رائے کے اظہار کا بھی حق حاصل ہے اور اگر انہیں یہ لگتا ہے کہ کسی طرح ان کے حقوق غصب ہو رہے ہیں تو اس پہ بات کرنے کا بھی ان کو حق پہنچتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ غلط بات بھی کہہ رہے ہیں تو ان کو بولنے کاحق ضرور حاصل ہے۔

بیرونی طاقتوں کی مدد بھی اسی وقت مانگی جاتی ہے جب اپنے بات سننے سے انکار کردیں۔ بات یہ ہے کہ بات دبائی نہیں جاسکتی۔ بات کہنے والے کو کہنے دیں۔ غائب ہونے والا کبھی غائب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے پیچھے اپنی کہانی چھوڑ جاتا ہے۔ ویرانوں میں بنا دی جانے والی اجتماعی قبریں بھی کبھی نہ کبھی دریافت ہو ہی جاتی ہیں، شاہی قلعے کے ٹارچر سیل بھی آخر کھل ہی جاتے ہیں۔

دعا یہ ہے کہ آئندہ کوئی مفقود الخبرنہ ہو۔ جسے گرفتار کیا جائے، اعلانیہ کیا جائے، جو لوگ جبری طور پہ گمشدہ ہیں واپس آ جائیں اور جبر کا یہ سلسلہ جو کئی صدیوں پہ محیط ہے ختم ہو جائے۔ اٹھی ہوئی بندوق اور تانی ہوئی سنگین صرف ایک بات ثابت کرتی ہے کہ کہنے والا سچا ہے۔ اگر آپ انہیں جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو بندوق جھکا لیں، وہ ایک پل میں جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...