خلا میں روزے رکھنے والے شہزادے کے تاثرات

  • منگل 07 / مئ / 2019
  • 640

سال رواں کے ماہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے لیکن دنیا میں کم از کم ایک شخص ایسا ہے جس نے زمین سے باہر خلا میں روزہ رکھا تھا۔

1985 میں خلا میں جانے والے پہلے عرب خلا باز شہزادہ سلطان بن سلمان نے 1405 ہجری کے رمضان میں امریکی اسپیس شٹل ڈسکوری کے سفر کے دوران روزہ رکھا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ سلطان نے اس بارے میں اپنے تاثرات بتائے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ناقابل فراموش خلائی سفر کے دوران انہوں نے 6 دن میں قرآن مجید ختم کیا۔ وہ 29 ویں روزے کے دن خلائی سفر پر روزانہ ہوئے تھے اور انہوں نے خلا میں روزے کو ناقابل فراموش تجربہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا 'اس سال رمضان کا مہینہ گرم موسم میں آیا تھا، جبکہ میں ہوسٹن میں اسپیس سینٹر میں اس سفر کے لیے خصوصی تربیت لے رہا تھا۔ تربیت کے دوران ہمیں شدید گرمی اور پیاس کی کیفیات سے گزارا گیا۔ یہ سفر پہلے 24 رمضان کو شیڈول تھا مگر 29 ویں روزے تک التوا میں چلا گیا'۔

اس تربیت کے دوران وہ روزے رکھتے رہے اور ناسا کے ڈاکٹرز نے روزے سے ان کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ بھی کیا۔ 29 ویں روزے کو وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ خلائی شٹل پر روزہ رکھ کر سوار ہوئے جبکہ خلا میں روزے کے اوقات کے حوالے سے انہوں نے سعودی عالم شیخ عبدالعزیز بن باز سے مشورہ بھی کیا۔

سعودی شہزادے کا کہنا تھا 'مذہبی عالم نے مجھے بتایا کہ میں سحر اور افطار اس وقت کے مطابق کروں جہاں سے میں روزہ رکھ کر سفر پر روزانہ ہوا تھا۔ میں نے اپنا سفر فلوریڈا سے کیا تھا'۔ انہوں نے اس امریکی ریاست میں سورج غروب ہونے کا وقت ذہن میں رکھ کر افطار کیا۔

انہوں نے اس خلائی سفر کے دوران نمازیں زمین کے اوقات کے مطابق پڑھیں جبکہ وضو کے لیے گیلے نیپکن کا استعمال کیا کیونکہ وہاں کشش ثقل نہ ہونے کی وجہ سے پانی سے وضو کرنا مشکل تھا۔

 

loading...