سیاست کی بِّلی اور اقتدار کے چھیچھڑے

اچھا انسان کیا ہوتا ہے ؟اِس بحث کو ہر فرد کی اپنی ذات سے آغاز ہونا چاہیے کہ وہ خود اچھا انسان ہونے کے معیار پر پورا اُترتا ہے یا نہیں۔  اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بزعمِ خوش اپنے آپ کو اچھا آدمی قرار دے لے تو وہ اپنے معیار سے دوسروں کو ناپتا ہے کہ آیا دوسرے اُس کے اچھے انسان کے پیمانے پر پورے اُترے ہیں یا نہیں ۔

 اچھا ہونے کے بارے میں مختلف درویشوں کا اپنا نقطہ  نظر ہے ۔ بابا فرید کہتے ہیں:

کالے میڈے کپڑے تے کالا میڈا ویس

گُناہیں بھریا میں پھراں تے لوک کہن درویش

تو سوال یہ ہے کہ گُناہوں میں ڈوبے کسی شخص کا اچھے انسان کا تصور یا معیار کیا ہوگا ۔ کیا بُرا انسان اچھے انسان کا مسئلہ نہیں کہ وہ اسے بھی اپنے جیسا اچھا انسان بننے میں مدد دے نہ کہ اُس کے بُرا انسان ہونے کا چرچا کرتا پھرے ۔ محبت اچھے یا بُرے کے درمیان فرق نہیں کرتی ۔ کبیر صاحب فرماتے ہیں:

کھڑا کبیرا چوک میں سب کی مانگے خیر

نہ کاہو سے دوستی ، نہ کاہو سے بیر

لیکن یہ اُس سماجی اخلاقیات کا بیانیہ نہیں ہو سکتا جہاں لوگ ایک دوسرے سے وابستہ مفادات کو دوستی کہتے ہیں ۔چنانچہ دانشوری کے بیوٹی پارلر سے میک اپ کروانے والے لوگ اپنے آپ کو اچھائی کی کسوٹی پر جانچنے کے بجائے دوسروں کی اچھائی ناپنے کی دکان کھول لیتے ہیں اور پھر دوسروں کے بارے میں جو رائے مرتب کرتے ہیں وہ نفرت اور نجی تعصبات پر مبنی ہوتی ہے ۔وہ بالعموم دوسروں کی مہیا کی ہوئی ایسی  اطلاعات کی بنا پر اپنی رائے مرتب کرتے ہیں جو یک طرفہ ہوتی ہیں ۔ اور اب اس وقت پورے کا پورا سیاسی اور سماجی کارخانہ اسی یک طرفہ الزام تراشی کی بیماری میں مبتلا ہے ۔ بے چارہ بیمار معاشرہ  جو ایک دوسرے کے لتّے لے رہا ہے ۔

تمام سیاسی جماعت کے لیڈروں کا اچھے لیڈر کا ایک پیمانہ ہے جس سے وہ دوسروں کوناپ رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے حق میں نفرتیں اُگل رہے ہیں اور یہ وہ مکروہ سیاسی چکر ہے جو ہر سیاسی دور میں چلتا ہے اور وقفوں سے دوہرایا جاتا ہے ۔ اس شیطانی یاوہ گوئی کی گواہیاں ٹی وی کی فوٹیج اور اخبارات کے صفحات میں محفوظ ہیں کہ جب جنرل مشرف بیماری کی بنیاد پر بیرونِ ملک جانا چاہتے تھے تو نون لیگی از قسم سعد رفیق اور احسن اقبال کیا کہتے تھے ۔ بالکل وہی باتیں جو آج نواز شریف کے بارے میں کہی جا رہی ہیں ۔ اور بیشتر سیاسی افلاطونوں اور ارسطوؤں کی حالت یہ ہے کہ نہ تو اُنہیں قومی زبان پر عبور ہے ،نہ ہی کوئی دوسری زبان اُن کے قابو میں ہے اور نہ ہی اُنہیں تاریخ سے شناسائی ہے ۔ وہ نیند میں چلنے اور خواب میں بڑبڑانے والوں کی طرح اول فول بولتے چلے جاتے ہیں مگر خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو جاہل مطلق ۔

 یہ معاشرے کا عمومی رویہ ہے ۔ گفتگو میں دوسروں کی قے کی ہوئی باتوں کی جگالی کر تے ہیں اور سُنے سنائے واقعات چُرا کر اُن میں بطور کردار خود داخل ہو جاتے ہیں اور اپنی اس جہالت پر دانشور ی بگھارتے ہیں ۔میرا خیال تھا کہ علامہ فواد چودھری وزارت اطلاعات سے نکل کر سائینس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں آئے ہیں تو شاید سائینس کے احترام میں اُن کے اکھڑ پنے اور کھردرے رویے میں تبدیلی آ جائے گی مگر نہیں ، وہ تو اب تک اُسی طوالتِ موج پر بول رہے ہیں ۔ آخر ان پاکستانی افلاطونوں کو شائستگی اور نرم خوئی کون سکھائے گا؟ اُنہیں کون بتائے گا کہ مدینے کی ریاست کی اخلاقیات کے احیاء کے لیے خود پر کڑے قوانین نافذ کرنے پڑتے ہیں ، تحمل سیکھنا پڑتا ہے اور اپنی زبان کو لگام دینی ہوتی ہے ۔ ٹھہرے ہوئے مدھر لہجے میں لوگوں سے بات کرنی ہوتی ہے ۔ جیسے بابا سیالکوٹی کہہ گئے ہیں :

خموش اے دل ، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھا

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

سیاست میں اندازِ تکلم اور طرزِ گفتگو کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ سیاست دان کی گفتگو میں وہ سلیقہ ہوتا ہے جس سے سانپ بھی مرجاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی  ، مگر یہاں ہر طرف ٹوٹی ہوئی لاٹھیوں کا انبار ہے اور جہالت اور بد تمیزی کے سانپ ہر طرف رینگتے اور پھنکارتے پھرتے ہیں ۔ سوہنیو ! اگر مدینے کی ریاست کے خواب لوگوں کو دکھاتے ہو تو مدینے کی ریاست کے والی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تھوڑا سا ادب ہی سیکھ لو ۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ مدینے کی ریاست کے والی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گفتگو کے بھی آداب ہیں ۔ اس ضمن میں ایک فارسی شاعر نے کیا اچھی بات کہی ہے :

ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب

ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبی ست

یعنی اگر کوئی شخص کستوری اور عطر گلاب سے ہزار بار بھی مونہہ دھوئے ، تو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام زبان پر لانا بے ادبی ہے۔ مگر یہاں ہر وہ شخص جس کے مونہہ سے سیاسی بد زبانی کا تعفن اُٹھ رہا ہے وہ مدینے کی ریاست کی بات یوں کرتا ہے جیسے خاکم بدہن  ریاض ملک کے نیا بحریہ ٹاؤن بنانے کی بات ہو ۔ لاحول ولا قوۃ ۔

یہ صورتِ حال بے حد تشویشناک ہے  مگر سیاسی حاتم طائی ، غریب  مزدوروں اور دیہاڑی داروں کو آئی ایم ایف اور سابقہ حکومتوں کی نالائقی کے قصّے سنا رہے ہیں ، حالانکہ ان قصوں سے نہ بھوکے کا پیٹ بھر سکتا ہے اور نہ ہی رمضان کی شرمناک مہنگائی کا تدارک ممکن ہے ۔ قانون یہ ہے کہ اگر کوئی حکمران عام آدمی کو روزی روٹی کی ضمانت نہیں دے سکتا تو اُس کا حقِ حکمرانی منسوخ ہوجاتا ہے ۔ اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ حکمران طبقہ ، اسمبلیوں کے حکمران ، بیورو کریٹ اور بڑے بڑے دولت مند اپنی دولت اور اختیار کے بل پر گلچھرے اُڑا رہے ہیں جنہیں دیکھ کر آسمان صدا دیتا ہے کہ تم نے لوگوں کو جو خواب دکھائے تھے اور جو وعدے کیے تھے وہ کسی بھی صورت میں پورا کرو خواہ اس کی کوئی سی قیمت بھی ادا کرنی پڑے ، ورنہ یاد رکھو کہ اصل احتساب کا اختیار اُس کے پاس  ہے جسے آسمان " مالک یوم الدین" کہتا ہے ۔

وہ کسی کی ذرا سی کرپشن پر چھوٹ نہیں دے گا اور تم سب کے سب احتساب کی چکی میں پس کر نابود ہو جاؤ گے اور تاریخ میں تمہارا نام تک نہیں ہوگا ۔ مگر ہم ایک عجیب قوم ہیں جس کا ایک فرد بر سرِ اقتدار آنے کے لیے 22 کروڑ لوگوں کا حقِ جمہوریت چھین لیتا ہے۔ ایک دوسرا نوسر باز ٹولہ اپنے تین شہید وں کے لہو کا پرچم بنائے تیس برس سے لوگوں کو روٹی کپڑے اور مکان کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے ہے اور اپنے محلات اور مال و دولت کے قارونی ذخائر میں روز افزوں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ مگر لوگ اُس نعرے کے عملی جامہ پہننے کی آس میں ان کے گرد جمع ہیں ۔ ایک دوسرا گروہ ہے جو ترقی کے نام پر موٹر وے بنا کر ، نمائشی پُل  تعمیر کر کے اپنا ذاتی کاروبار چمکاتا رہتا ہے مگر عام آدمی کی حالت جوں کی توں رہتی ہے اور وہ خطِ غُربت سے نیچے سسکتا رہتا ہے ۔

ہمارے یہاں سیاست کی بِلّی نے جن چھیچھڑوں کے سپنے دیکھے تھے اُن کی تعبیر تمہیں لانی ہے ورنہ اپنی ارتھی اٹھانی ہے ۔ وقت کسی سے کوئی رو رعایت نہیں کرتا اور ایک ایک پل اور ایک ایک پیسے کا حساب لیتا ہے اور لے رہا ہے تو چیخو مت ، اور ماضی کے چوروں کو الزام دینے کے بجائے چوری کا مال برآمد کرو تاکہ غریب قوم کا گھر آباد ہو اور یہ نہ ہوا تو تمہارا گھر بھی اُجڑ جائے گا ۔

loading...