نظریہ پاکستان کے سٹریچر پر پڑی بیمار معیشت

 

بندہ لاہ جُتّی لوتے تے مارے پنج ویلے ست ست کھلّے اپنے ای سِر وچ ۔ ۔ ۔ ۔

ہم ایک عجیب قوم ہیں  ، جس میں ہر شخص ڈاکٹر ہے اور مریض صرف ایک ہے لیکن اُس کا علاج بائیس کروڑ  ڈاکٹروں کے پاس ہے ہی نہیں اور مریض بے چارہ لندن کے کسی ہسپتال میں  اپنے پسند کے ڈاکٹر سےعلاج کے لیے بے چین ہے ۔

 مگر نہیں ،  شایداصل کہانی یوں ہے کہ اس زمیں پر  ایک قوم جو کرپشن اِزم کی مریض ہے ، پچھلے ستّر برس سے نظریہ پاکستان کے سٹریچر پر پڑی صحت مند معیشت کے اُس جھونکے کی منتظر ہے جو اُس کی مسیحائی کرے لیکن اس مریض پر مسلط کروڑوں ڈاکٹر مریض کو سُکھ کا سانس لینے ہی نہیں دیتے ۔ اور بدقستی یہ ہے کہ الیکٹرونک میڈیا اپنے سوشل میڈیا ورکرز کی مدد سے افواہوں کے انبار لگا کر کنفیوژن پھیلاتا رہتا ہے اور میڈیا کے یہ ڈھنڈورچی حسبِ صلاحیت اپنی خوشامد ، کاسہ لیسی اور چمچہ گیری کے معجزے دکھاتے رہتے ہیں ۔ وہ اس ملک کی سیاسی جماعتوں اور دیگر حکمران قوتوں کے نمک خوار ہیں جو ایک طرٖف قصیدہ گوئی اور دوسری طرف اپنے آقاؤں کے حریفوں کی مذمت کر کے اُن کے لتّے لیتے رہتے ہیں  لیکن کسی کو یہ فکر نہیں کہ اس بیمار قوم کے مرضِ انحطاط و زوال کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ۔سبھی مریض کوظاہری میک اپ کے ذریعے صحت مند دکھانے پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کو اپنی اعلیٰ کارکردگی شمار کر کے اُس کے اشتہار لگواتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے:

مہنگے میک اپ سے جو ہو جاتا ہے چہرا تازہ

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ہمارے ہاں شاہ پرستی اور شخصیت پوجا کی روایت کے لوگ خود کو حکمران سمجھتے ہیں جب کہ اصل حکمران قانون ہوتا ہے ۔ اور جو شخص مسندِ اقتدار پر بیٹھا ہو اُس کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ قانون کا پہیہ ٹھیک چل رہا ہے یا نہیں مگر وہ اپنا فرضِ منصبی نبھانے کے بجائے خود کو قانون سمجھنے لگتا ہے اور میڈیا  گاہے با ادب خادم کی طرح اور گاہے درباری ظریف اور مسخرے کی طرح اُس کے آگے کورنش بجالاتا رہتا ہے ۔ تو کیا ایسی ہی ہوتی ہے جمہوریت ؟

کیا ان میڈیا کے بزعمِ خویش   صاحبِ نظر دانشور وں نے کبھی حکمرانوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ کسی ملک کی معاشی ترقی میں بہتری کا پیمانہ عام آدمی کا بہتر معیارِ زندگی ہے ۔ اگر عام آدمی کا اوسط معیارِ زندگی دو وقت کی روٹی ، سر پر چھت ، مفت تعلیم اور طبی امداد کے بہم ہونے کی گواہی دیتا ہے  تو ملک خوش حال ہے ورنہ خوشحالی حکمران صرف اور صرف  تاجر طبقے کا تمول  اور حکمرانوں کے خوشامدیوں کی کوٹھیاں ، کاریں ، اور بنک کی جمع پونجی ہوتی ہے اور  معاشرے میں بیڈ گورننس یعنی بد انتظامی اپنے عروج پر ہوتی  ہے ، جب کہ عام لوگ دو وقت کی روٹی بھی عزت و آبرو سے نہیں کما پاتے ۔

ایسے میں  ہیجڑوں کی طرح ویلیں لے کر اہلِ زر و سیم کی شان میں سٹھنیاں گاتا میڈیا اس ملک کے غریب عوام کا بد ترین دشمن ہے ۔ اور جب کبھی یہ عام آدمی کے مسائل پر فوکس کرتا ہے تو بھی اس کا ہدف اُس کے آقاؤں کےمخالف سیاسی حریف ہوتے ہیں اور وہ عوام کا نام لے لے کر اپنے آقاؤں کی اقتدار سے محرومی پر بین کرتا ہے ۔ چنانچہ ہم نے ایک ایسی پلاسٹک کی معیشت تعمیر کی ہے جس کی جڑیں زمین میں تو  کہیں نہیں ہیں ،  البتہ صرف بیرونی ممالک سے لیے گئے قرضوں میں ہیں ۔

اس ملک کی جو درگت پچھلے ستر برس میں بنی ہے وہ کسی ایک حکومت کی کارکردگی  یا کمائی نہیں بلکہ ایک بد قسمت قوم کی متعدد نالائق سیاسی قیادتوں کا کیا دھرا ہے جس میں چار فوجی قیادتیں اور اُن کی متعدد سویلین حکومتیں ہیں ۔ اور ، ہمارا میڈیا مسائل کی جڑ اور کرپشن کی ماں کو نشانہ بنانے کے بجائے شطرنج کے اناڑی کھلاڑی کی طرح  جمہوریت کا سانپ سیڑھی کھیل کھیلتا رہتا ہے اور اس پر اپنی پیٹھ بھی خود ہی ٹھونکتا رہتا ہے اور ایسی ایسی چالیں چلتا ہے کہ بے اختیار خود ہی سبحان اللہ بھی کہتا جاتا ہے ۔ اس جمہور دشمن جمہوریت میں نو دولتیوں کا جو طبقہ خوب پنپا ہے وہ اُن لفافیوں کا ہے جو ککھ پتی سے لکھ پتی ، کروڑ پتی اور ارب پتی بنے ہیں اور کرائے کے مکانوں سے نکل کر پلاٹوں کی خرید و فروخت کرتے فارم ہاؤسوں کے جاگیر دار بنے ہیں اور اپنی اس خوش حالی کو ملکی ترقی کہتے ہیں ۔ آج کے یہ میڈیا ہاؤس بھی اُن شاہراہوں ، پلوں اور فلائی اووروں جیسے ہیں جو کوڑے کے ڈھیروں اور کچرا کُنڈیوں پر رکھے گئے گملوں کی طرح ہیں جن میں پلاسٹک کے پھول دار پودے گڑے ہیں ۔

اب کوئی پوچھے کہ کیا ملکی معیشت اس طرح کی ہوتی ہے ؟ کہ عام آدمی کو مصاٗب کی چکی پیسنے پر مامور کردیا جائے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ان اذیت خانوں میں مدھوبالا اور ایان علی کی تصویریں لگا دی جائیں اور کہا جائے کہ کتنے خوبصورت ہیں  یہ اذیت خانے ۔

وہ معیشت جو میڈیا کے اشتہاروں ، حکمرانوں کی تقریروں ، اینکروں اور تجزیہ کاروں کی آرا ء ، اخباری مضامین اور اُن منصوبوں کی افتتاحی تختیوں کے سہارے کھڑی ہوتی ہے جو کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے ، معیشت نہیں اذیت ہوتی ہے جو اس قوم کا نصیب ہے ۔ اور تو اور خالد مقبول صدیقی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ آباؤ اجداد نے جو پاکستان بنایا تھا اور اُسے ترقی سے ہمکنار کیا تھا وہ پاکستان کے مونہہ پر تھپڑ کی طرح ہے کہ ہمارے لیے پڑھے لکھے لوگ یو پی سے آئے تھے ورنہ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال تو ان پڑھ تھے اور وہ سارے پنجابی ، سندھی ، بلوچ اور پشتون بھی ان پڑھ تھے جنہوں نے پو پی کے مہاجرین سے علم حاصل کیا اور ترقی کا سبق پڑھا  اور آج وہی ترقی ہمارے لیے سرمایہ حیات ہے ۔

 میرا جی چاہتا ہے کہ اس ترقی کو شاپر میں ڈال کر خالد مقبول صدیقی کے خوبصورت مونہہ پر دے ماروں  اور پھر ۔ ۔ ۔

بندہ لاہ جُتی لوے تے ۔ ۔ ۔

 

loading...