ہوشیار باش! پاکستان میں جمہوریت داؤ پر ہے

پاکستان میں سیاست دانوں پر بداعتمادی نے جمہوریت کے بارے میں شبہات کو جنم دیا ہے۔   بداعتمادی کی اس فضا کو پیدا کرنے میں سیاست دانوں کا بھی کردار رہا ہوگا  لیکن ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے والے متعدد دوسرے عوامل بھی اس تاثر کو راسخ کرنے  کی حتی الامکان کوشش کرتے  رہے ہیں کہ   عوامی نمائیندگی  کے منصب پر فائز لوگوں  کے بارے میں  عوام  کو یقین دلادیا جائے کہ ان عناصر ہی کی وجہ سے  ملک  میں جمہوریت کام نہیں کرتی۔

یہ بات حیرت کا سبب ہونی چاہئے کہ جو ملک سیاسی جد و جہد کے نتیجہ میں اور عوامی مقبولیت اور قبولیت کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اس میں جمہوریت کو ہی مشکوک بنایا جاچکا ہے۔  ان پڑھ لوگوں  سے قطع نظر ملک کا پڑھا لکھا اور باشعور طبقہ بھی  عام طور سے یہ سوال اٹھاتا ہے کہ  اس جمہوریت کے نتیجے میں اگر  بدعنوان اور نااہل لوگوں نے ہی اقتدار  میں آنا ہے تو ہمیں ایسی جمہوریت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ دلیل سامنے لاتے ہوئے کبھی یہ واضح کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ  ملک پر فوجی آمروں نے طویل مدت تک حکومت کی ہے۔ اس ادوار میں نہ سول ملٹری تنازعہ موجود تھا اور نہ امور مملکت کے نگران اعلیٰ کو کسی سے مشورہ لینے  یا اسے ماننے کی ضرورت تھی ۔ پھر  یہ ساری حکومتیں  کیوں ناکام رہیں اور وہ کیا عوامل تھے کہ ہر فوجی حکمران کو توہین آمیز انداز میں اقتدار سے رخصت ہونا پڑا؟

ملک میں جمہوری حکومتوں کی ناکامیوں  اور سیاست دانوں پر بدعنوانی کے الزامات کی درجنوں وجوہ بیان کی جاسکتی ہیں۔ ان سے اتفاق یا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہ مباحث حقیقت حال کو سمجھنے اور ملک  میں ایک بہتر سیاسی مزاج پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان مباحث کو تعمیری اور مثبت انداز میں شروع کرنے کی کوئی روایت ملک میں مستحکم نہیں ہوسکی۔ اس کی بجائے ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے، الزام تراشی کو نعرہ بنانے اورسیاسی اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کرنے کا رویہ  اختیار کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ اس پس منظر میں سیاست دانوں پر اسٹبلشمنٹ کے پروردہ ہونے کا نعرہ بھی خوب استعمال ہوتا ہے۔ تاہم حیرت کی بات ہے کہ اس نعرے کو ان سیاست دانوں کے خلاف تو استعمال کرنے کا چلن عام ہے جو اسٹبلشمنٹ کی لاٹھی پکڑ کر اقتدار  تک پہنچتے ہیں  لیکن اس اسٹبلشمنٹ  کے کردار پر بات کرنے کی کوئی صحت مند  روایت سامنے نہیں آسکی جو سیاسی عناصر کو  اقتدار پر تسلط کے ایجنڈے  کی تکمیل کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔

بالواسطہ طور سے سب مانتے ہیں کہ ملک کے موجودہ مسائل کی جڑ جمہوری عمل میں غیر منتخب اداروں کی  دخل اندازی ہے لیکن عملی طور سے اسٹبلشمنٹ کے اس کردار کو قبول کرلیا گیا ہے ۔  سیاسی مباحث   اسی نہج پر چلائے جاتے ہیں جو ملک کی  مقتدرہ  کے متعین ایجنڈے کی تکمیل کا مقصد پورا کرسکیں۔ اس ایجنڈے کا بنیادی نکتہ  ملک کی جمہوری سیاسی قیادت کے بارے میں  اس تاثر کو یقین میں بدلنا ہے کہ وہ بددیانت اور نااہل ہے اور اپنے طور پر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس مقصد کے لئے سیاسی لیڈروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے  کا طریقہ اس تواتر سے استعمال کیا گیا ہے کہ اب  ہر کس و ناکس اس کے بارے میں آگاہ ہے۔ لیکن اسے  حالات کی ستم ظریفی یا بازی گروں   کی مہارت کہیں کہ یہ سب   جاننے کے باوجود  مورد الزام سیاست دان ہی رہتے ہیں۔

اسی تصویر کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ ملک کی  مختصر تاریخ میں جمہوری لیڈروں کی ناکامی  ،  عوام دشمنی، مفاد پرستی، کرپشن اور نااہلی  پر تو سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے اور ہر دوسرا ماہر یا تجزیہ نگار ان واقعات اور سانحات کی نشاندہی کرنے کے لئے  شواہد اور معلومات سامنے   لانے میں مشغول رہتا ہے  جن سے سیاست دانوں کی پے در پے ناکامیوں  اور بدنیتی کا پتہ چلتا ہے۔ ایک ایسی تصویر میں خوب رنگ بھرے جاتے ہیں جس کا عنوان  ’سیاست دان ملک دشمن اور جمہوریت مسائل کی جڑ‘ رکھ دیا جائے تو یہ  پاکستان کے سیاسی منظر نامہ  کا حقیقی سر نامہ  بن سکتا ہے۔  اس تصویر میں  نئے رنگ بھرنے اور اسے پر تاثیر بنانے کا عمل اب بھی  پوری تندہی سے جاری ہے۔ حالانکہ یہ تاثر بھی عام کیاگیا ہے کہ ملک پر ایک ایسی  پارٹی اور فرد کی حکومت ہے  جسے درپردہ قوتوں کی اشیرواد حاصل ہے۔  جسے ملک کے وزیر اعظم کی زبان میں ’ سول ملٹری اشتراک‘  یا ایک پیج پر ہونے  کی خوش خبری کا نام بھی دیاجاتا ہے۔ اس کے باوجود اس دل پسند حکومت کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جارہا ہے  جو ماضی میں ان عناصر کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ لیکن ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے والے یہ سارے سیاسی لیڈر کبھی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملاتے بلکہ  ایک کی تکلیف کے بعد دوسرا  اس عمل کا حصہ بننے کے لئے بخوشی تیار ہوجاتا ہے۔

یہ عمل  پرانے کھلاڑیوں  کے ساتھ نئی سیاسی پارٹیاں بنانے، فارورڈ بلاک قائم کرنے، آزاد ارکان  سامنے  لانے یا  کسی پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی صورت میں جاری و ساری رہتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں  یہ کام زیادہ آسان اور دلچسپ ہوگیا ہے۔ جو معاملات پہلے برسوں میں طے ہوتے تھے اب انہیں دنوں میں نمٹا لیا جاتا ہے۔ تیس چالیس   برس پہلے تک  کسی سیاسی شخصیت کی کردار کشی کے لئے مضامین لکھوانے اور ان کے اثرات و ثمرات سمیٹنے  میں سال ہا سال لگ جاتے تھے پھر بھی  مکمل کامیابی  یقینی نہیں ہوتی تھی۔ جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو  کے معاملہ میں  کیا  جانے والا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ ان کی کردار کشی کی کون سی سرکاری اور غیر سرکاری کوشش نہیں کی گئی لیکن وقت نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا اور وہ لوگ جو کسی زمانے میں ان کوششوں کا حصہ بنے تھے بعد میں میثاق جمہوریت  پر اتفاق کرنے پر  بھی مجبور ہوئے۔ تاہم اس وقت تک ایک طرف  پیپلز پارٹی  اقتدار کے سنہرے راستے پر گامزن ہو چکی تھی اور مسلم لیگ (ن) میثاق جمہوریت  کی افادیت کو بھول کر میمو گیٹ  کے غداروں کی تلاش میں ہی حب الوطنی  کا مفہوم تلاش کرنا ضروری سمجھنے لگی تھی۔ اس وقت تک نواز شریف ایند کمپنی کو  ڈان لیکس اور پاناما پیپرز کی ہلاکت  خیزی  کا اندازہ نہیں تھا۔

چہیتی ، سلیکٹڈ یا سول ملٹری  ہم آہنگی کی  علمبردار حکومت کے دور میں ملک کا سب سے طاقت ور شخص  چار نامور ٹیلی ویژن اینکرز کو  کھانے کی دعوت دیتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ وزیر خزانہ کو تبدیل کیا جارہا ہے۔  بادشاہ گر کے دربار میں حاضری  کی خوشی سے سرشار یہ ٹی وی اینکر  یہ خبر عوام تک تو نہیں پہنچاتے لیکن    یہ اطلاع وہاں تک رسائی حاصل لیتی ہے   جہاں اسے پہنچانا مقصود تھا۔      یہ ہتھکنڈا کارگر  نہ ہؤا تو دو ٹیلی ویژن چیلنز کے باخبر  رپورٹروں  نے ’باوثوق‘ ذرائع سے   یہ اطلاع عوام کو پہنچا دی کہ اسد عمر کو  مہنگائی کرنے اور معاشی پالیسیوں میں ناکام ہونے پر تبدیل کیا جارہا ہے۔ وزیر اطلاعات نے اس قسم کی رپورٹنگ کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا اور پیمرا نے اس ’غیر ذمہ داری‘ کا نوٹس بھی لیا لیکن چوبیس گھنٹے کے اندر اسد عمر بھی  گئے اور ساتھ میں فواد چوہدری  کو بھی لپیٹ لے گئے۔ جو  اب نیا پاکستان بنانے کے لئے سائنسی ایجادات کی نگرانی کررہے ہیں۔

قصہ مختصر یہ   کھیل  محبوب چننے اور  دل بھر جانے پر چہیتوں کو خوار کرنے  کے عمل کا نام ہے۔  سیاسی  نعرے، الزام تراشیاں اور پھبتیاں اس عمل کے  پیچ و خم ہیں  جن پر  باری کا انتظار کرنے والے کھلاڑی پوری تندہی سے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔   سیاست دانوں کی بدعنوانی و نااہلی یامیڈیا کی غیر ذمہ داری  کے مباحث میں جمہوریت کو مشکوک اور غیر ضروری بنانے  کا مقصد حاصل کرنے کی کوششیں زور شور سے جاری ہیں۔ لیکن ملک کے آمرانہ  ادوار کی ناکامیوں  یا بادشاہ گروں  کی غلطیوں پر کبھی گفتگو کی ضرورت محسوس نہیں  کی جاتی۔   کبھی  ان قدامات  سے  ہونے  والے خسارے کا حساب  بھی نہیں کیا جاتا جن کی وجہ سے  ملک کو دنیا بھر میں دہشت گردی کے حوالے سے جانا جانے لگا ہے اور ہمسایہ ممالک مسلسل شبہ اور  خوف کا شکار رہنے لگے ہیں۔

جمہوریت کو مشکوک بنانے کی بحث میں سیاست دانوں کی بے اعتدالیوں کا ضرور حصہ ہوگا لیکن  یہ حصہ شریفوں اور زرداریوں  تک محدود نہیں  ہے بلکہ انصافی بھی  اس عمل میں طاقتور کی  ہی لاٹھی بنے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس لاٹھی کی چوٹ سہنے کے بعد بھی عمران خان یا تحریک انصاف کو     ’ہائے ‘ کہنے کا یارا نہیں۔  یہ نکتہ سیاست دان سمجھیں یا نہ سمجھیں عام آدمی کو ضرور سمجھنا ہے۔ کیوں کہ   اقتدار کا پروانہ ملنے کے امیدوار سیاست دان  اور صاحبان اقتدار کے دسترخوان  سے ٹکڑے چننے والے ’باخبر‘ صحافی اور دانشور  یہ   شعور عام نہیں ہونے دیں گے۔

جمہوریت  طاقت ہے کیوں کہ یہ عام شہری کو اپنے بنیادی حق  کے بارے میں آگاہی دیتی ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ کرنا ہو تو  جنوری 1965 میں ہونے والے   ملک کے پہلے صدارتی انتخاب  کی تاریخ پر نگاہ ڈال لینا ہی کافی ہوگا۔ ایوب خان نے یہ انتخاب  خود ساختہ آئین کے تحت کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے مضحکہ خیز ماڈل  کے تحت کروایا تھا لیکن  نام نہاد بنیاد ی جمہوریت کے اس   معرکہ کو جیتنے کے  لئے بھی اسے انتخابی دھاندلی کرنا پڑی تھی اور محمد علی جناح  کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو غدار کہنا پڑا تھا۔

 جمہوریت کو مشکوک کرنے اور موجودہ آئینی انتظام کی بجائے  کوئی دوسرا نظام لانے کی کوشش کرنے والوں کو اصل خطرہ  فرد کی اس طاقت سے ہے جو ووٹ کی صورت میں اسے حاصل ہے۔ جمہوریت پر نقب زنی کے لئے سیاسی نظام کے  مباحث انہی ہتھکنڈوں کا حصہ ہیں جن کے تحت سیاست دانوں کو بے توقیر کیاجاتا ہے تاکہ جمہوریت کو بے آبرو کرکے اس ملک سے در بدر کیاجاسکے۔

کٹھ پتلی سیاست دان اور  ریٹنگ کے محتاج  اینکر و صحافی  طاقت کے ان مراکز  کے ہتھکنڈے ہیں جنہیں جمہوریت سے خطرہ ہے۔    پاکستان میں ’قومی مفاد‘ نام کی غیر واضح اصطلاح ہر غلطی  پر دلیل کا کام دیتی ہے۔ لیکن اگر اس ملک کو آگے بڑھنا  اور باقی رہنا ہے تو جمہوریت کو اپنائے رکھنے کے سوا  کوئی چارہ نہیں ہے۔  یہ ملک عوام کی خواہش سے بنا تھا اور ان کا ووٹ ہی اسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

loading...