ڈینگی مچروں سے ملیریا پر تبادلہ خیال


 

بابا کہہ رہے تھے کہ سیاستدانوں سے ِ خواہ وہ بلدیاتی ہوں ، صوبجاتی ہوں یا وفاقی سطح کے ہوں، عوامی مسائل پر بات کرنا ایسا ہی ہے ، جیسے ڈینگی مچھروں سے ملیریا کے نقصانات پر تبادلہ خیال کیا جائے ۔

 ڈینگی مچھر ملیریا پھیلاتے ہیں اور سیاستدان مسائل  اور پھر اپنے پھیلائے ہوئے مسائل کے حل کے لیے بجٹ کے شہد کے چھتے پر جھپٹ پڑتے ہیں اور اپنے اپنے چھینے ہوئے حصّے میں سے ذاتی اور  عزیز و اقارب کا کمیشن منہا کر کے ، جو کچھ بچتا ہے اُس میں سے نصف تو میڈیا کے بھونپوؤں کا مونہہ بند کرنے پر اُٹھ جاتا ہے  اور جو کچھ باقی نصف سے عوام نام کی مظلوم اور غیر ضروری جمعیّت کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے  کہ لو یہ ہے تمہاری خدمت جو ہماری جمہوری ذمہ داری ہے کیونکہ ہم تمہارے سکہ بند خّدام ہیں ۔ لا حول ولا قوۃ۔

اور یہ ہے اُس جمہوریت کا بیان جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صادق اور امین حکمرانوں اور حِزبِ اختلاف کے بے کُرسی نا خُداؤں کی پاکیزہ جمہوریت ہے، جو راتوں کو پاکستان کی سڑکوں پر پاک سر زمین گاتے ہوئے رونے لگتی ہے ۔ مگر یہ جمہوریت کا نجی نقطہ ء نظرہے ورنہ بے چارے سیاستدان تو ہمہ وقت عوام اور جمہوریت کے ناموس کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور ایک دوسرے کا گریبان چاک کرتے رہتے ہیں ۔

پاکستان اپنی جمہوریت کے حوالے سے ایک منفرد ریاست ہے کہ یہاں ہر شے تاجرائی جا چکی ہے ۔ معذرت خواہ ہوں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ علماء فضلاء کے لیے تاجرائی جا چکی کا استعارہ مشکل اور اجنبی ہو سکتا ہے ، اس لیے اُن کی سہولت کے لیے عرض ہے کہ ہر شے کمرشلائزڈ ہے ۔ تعلیم سے صحت تک ، سیاست سے مذہب تک ،خدمتِ خلق سے میڈیا تک اور پولیس سے گداگری تک سب کچھ تاجرایا جا چکا ہے ۔اس جمہوریت میں ہر شعبہ مالی نفع نقصان کی بنیاد پر چلتا ہے اور اِن محکموں ، اداروں اور شعبوں کے سر براہ اور عملہ ذاتی مالی مفادات کے لیے کام کرتا ہے ۔یہاں خدمت کے عبادت ہونے کا فارمولا یہی ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو دے ۔ پاکستان میں افرادی ، سماجی اور شہری وجود کا جو ڈھانچہ نظر آتا ہے وہ حکمران قوتوں کی ضروریات کے عین مطا بق ہے ۔مسائل کی چکی پیستے روتے پیٹتے عوام تو اپنی اپنی مجبوریوں اور اذیتوں کی بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ سیاسی تُجّار اپنے اپنے بینڈ کے ساتھ اقتدار اور اختلاف کے ترانے بجاتے رہتے ہیں جس کا ٹیپ کا مصرع اور انترہ حسبِ ذیل ہوتا ہے :

یہ کُرسی میری ہے تیری نہیں ہے

اور سب سے زیادہ تعجب اُن ریش پوشوں پر ہوتا ہے جو خود کو زمین پر رحمت اللعالمین کا نمائندہ قرار دیتے ہیں مگر کام وہی کرتے ہیں جس کی نشان دہی حافظ شیرازی کر چکے ہیں کہ :

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کُنند

چُوں بخلوت می روند آں کارِ دیگر می کُنند

حالانکہ مذہب کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ عام آدمی کی نفسیاتی اور اخلاقی تربیت کر کے لوگوں کو صادق و امین بنائے  اور پھر اُنہیں خُدا کی طرف بلائے ۔ اور صادق اور امین بنانے سے پہلے اُن کی روزی روٹی کا مسئلہ حل کرے اور اگر یہ مسئلہ حل نہ ہو تو معاشرے پر وہی کہاوت صادق آتی ہے :

پیٹ نہ پؑیاں روٹیاں تے سبھے گلاں کھوٹیاں

اس سلسلے میں صوفیا کے یہاں واضح اشارات موجود ہیں ۔ سلطان باہو فرماتے ہیں :

مُرشد اوہی سہیڑیے جیہڑا دو جگ خوشی وکھائے ہو

پہلے غم ٹُکڑے دا میٹے ، وت رب دا راہ سمجھائے ہو

اس کلام کو پڑھ کر ایک دانشور نے سوال اُٹھایا کہ کیا مرشد دفترِ روزگار ہے جو روزگار دلوائے گا ۔ اس پر فقیر نے کہا کہ حضرت باہو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی درویش سے رب کا راستہ معلوم کرنے کے لیے رابطہ کرے تو اُس کو ہدایت کی جائے کہ وہ پہلے جا کر حلال روزی کمائے تو اُس پر رب کا دروازہ وا ہو سکتا ہے لیکن ہم کرپشن اور منی لانڈرنگ کے چبوتروں پر بیٹھے نعرہ تکبیر بلند کر کے خُدا کو ڈھونڈ رہے ہیں جہاں نہ راستہ ہے نہ ہدایت ، اور ایسے میں کسی کرپٹ سے ، کرپشن کے مضمرات پر بحث کرنا ایسا ہی جیسے ہے  ڈینگی مچھروں سے ملیریا کی برائیاں کرنا ۔ مگر ہم یہی کرتے ہیں ۔

loading...