ایران کا راستہ روکا گیا تو اس کے نتائج بر آمد ہوں گے: ظریف

  • جمعرات 25 / اپریل / 2019
  • 970

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کو تیل فروخت کرنے اور آبنائے ہرمز کو استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو اسے نتائج کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی اُنھوں نے امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی۔

امریکہ نے پیر کے روز ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مئی تک اسے بند کر دیں یا پھر پابندیوں کا سامنا کریں۔ اس سے قبل امریکہ نے ایرانی تیل کے آٹھ بڑے خریداروں کو چھ ماہ کا استثنیٰ دیا تھا کہ وہ محدود مقدار میں درآمدات جاری رکھ سکتے ہیں۔

ظریف نے نیو یارک میں ’ایشیا سوسائٹی‘ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اپنے تیل کی فروخت جاری رکھے گا۔ ہم اپنے تیل کے نئے خریدار تلاش کرتے رہیں گے۔ اور اس کے لیے ہم اپنے تیل کی فروخت کے لیے آبنائے ہرمز کی محفوظ گزرگاہ کا استعمال جاری رکھیں گے‘۔

ایرانی وزیر نے متنبہ کیا کہ ’اگر امریکہ ہمیں روکنے کی غلط حرکت کرتا ہے تو پھر اسے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے‘۔ اُنہوں نے اپنے کلمات کی وضاحت نہیں کی۔ امریکہ کی جانب سے منگل کے روز کیے گئے اعلان کے بعد تیل کے نرخ نومبر کی بلند ترین سطح چھو رہے ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا آیا ایران کے خلاف امریکی دباؤ کی مہم کا مقصد مزید مذاکرات یا حکومت کی تبدیلی کی کوشش ہے تو ظریف نے کہا کہ ’بی ٹیم کم از کم حکومت کی تبدیلی کی خواہاں ہے‘۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مبینہ ’بی ٹیم‘ میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ابھی بحران کی سی کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن یہ خطرناک صورت حال ہے۔ حادثوں کا امکان ہے۔ ہو سکتا ہے ’بی ٹیم‘ علاقے میں کہیں بھی حادثے کی منصوبہ بندی کرے، خاص طور پر جب انتخابات نزدیک ہوں گے۔ ابھی ہم وہاں تک نہیں پہنچے‘۔ ظریف نے امریکہ کے ساتھ تعاون کا مشورہ دیا تاکہ ایران اور افغانستان میں استحکام آ سکے، جو ایران اور امریکہ دونوں کے لیے اولیت کا معاملہ ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن، نازنین زاغری رتکلیف کے تبادلے پر تیار ہیں جو 2016 سے ایران میں زیر حراست ہیں۔ ان کے بدلے میں آسٹریلیا میں گزشتہ تین برسوں سے قید ایرانی خاتون کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے، جن کی حوالگی کا امریکہ خواہاں ہے۔

نازنین زاغری کے لیے ظریف نے کہا کہ ’ہمیں ان کے لیے افسوس ہے، اور میں نے ان کی مدد کے لیے بہت کوششیں کیں۔ تاہم آسٹریلیا میں اس خاتون کے لیے کوئی بات نہیں کرتا، جنہوں نے قید میں ایک بچے کو جنم دیا۔ میں ان کی حوالگی کی پیش کش کا اعلان کرتا ہوں۔ ان کا تبادلہ کر دیں‘۔

loading...