مواخذے کی کوشش ہوئی تو سپریم کورٹ جاؤں گا: ٹرمپ

  • جمعرات 25 / اپریل / 2019
  • 560

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان نے ان کا مواخذہ کرنے کی کوئی کوشش کی تو وہ یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جائیں گے۔ بدھ کو ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے "بہت بڑا جرم" تو دور کی بات کسی معمولی جرم کا ارتکاب بھی نہیں کیا ہے ۔

دو ٹوئٹس پر مشتمل اپنے پیغام میں صدر نے کہا ہے کہ رابرٹ ملر کی رپورٹ ان سے نفرت کرنے والوں اور برہم ڈیموکریٹس نے لکھی جنہیں لامحدود وسائل حاصل تھے۔ لیکن اس کے باوجود صدر کے بقول وہ ان کے خلاف کچھ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کے باوجود ڈیموکریٹس نے کبھی بھی ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو وہ سیدھا سپریم کورٹ جائیں گے۔

صدر کے اس بیان نے قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سپریم کورٹ امریکی صدر کے خلاف کانگریس کی جانب سے کی جانے والی مواخذے کی کارروائی میں مداخلت کرسکتی ہے یا نہیں۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت اور صدر ٹرمپ پر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے خصوصی نمائندے رابرٹ ملر نے اپنی ضخیم رپورٹ رواں ماہ ہی پیش کی ہے۔

یہ رپورٹ ملنے کے بعد سے ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس اس بارے میں مشاورت میں مصروف ہیں کہ آیا صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے یا نہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اپنی پارٹی ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر احتیاط سے کام لیں۔ لیکن کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع نہ کی تو لبرل ووٹرز ان سے ناراض ہوسکتے ہیں۔

رابرٹ ملر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ صدر ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کے کسی ذمہ دار نے 2016 کا صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے روس کے ساتھ کوئی ساز باز کی تھی۔ لیکن انہوں نے صدر کو اپنے خلاف جاری تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے مکمل طورپر بری الذمہ قرار نہیں دیا ہے۔

رپورٹ میں صدر کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہ کرنے اور کسی کارروائی کی سفارش نہ کیے جانے پر محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ صدر کے خلاف کسی قانونی کارروائی کا جواز نہیں ہے۔ محکمہ انصاف کی اس رائے سے ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس متفق نہیں ہیں اور صدر کے خلاف مزید تحقیقات اور ان کی روشنی میں مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

صدر ٹرمپ ملر رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد سے بارہا ڈیموکریٹس کو اپنے خلاف طویل اور خود ان کے بقول لاحاصل تحقیقات شروع کرانے پر مطعون کرچکے ہیں۔

loading...