آئی ایم ایف سے تحریری اتفاق رائے ہوگیا ہے، چھے سے آٹھ ارب ڈالر ملیں گے: اسد عمر

  • منگل 16 / اپریل / 2019
  • 310

وفاقی وزیِر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ  نے دستاویزی بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دے دی ہے۔  اس دستاویز پر دستخط کئے جاچکے ہیں۔ اس میں شرح تبادلہ، پبلک فنانس، مالی خسارے اور توانائی کی قیمتوں پر اتفاق رائے سے نکات شامل کئے گئے ہیں۔

اسد عمر نے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف کا وفد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد کا دورہ کرے گا جس میں تکنیکی امور زیر غور آئیں گے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے دورہ امریکہ کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو کو اجلاس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’ہم نے سمجھوتے پر اتفاق کرلیا ہے اور تمام بڑے مسائل کو حل کرکے دستاویزی شکل دے دی گئی ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’پاکستان نے فنانشل ٹاسک فورس  کو عملدرآمد رپورٹ بھیج دی ہے جس پر پیرس سے تعلق رکھنے والی ایجنسی، زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مئی کے تیسرے ہفتے میں اپنا وفد بھیجنے سے قبل نظرِ ثانی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مشن رواں ماہ اسلام آباد کا دورہ کرے گا جس میں متعدد تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر تحریری سمجھوتہ ہوگیا ہے اور تمام پالیسی معاملات طے پاگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں قرض کی کل رقم کا ذکر نہیں ہے، تاہم یہ رقم 6 ارب ڈالر سے 8 ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عالمی بینک اور ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے بڑی رقم موصول ہوگی جو پہلے سے طے شدہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 15 ارب ڈالر کی مالیاتی کمی کا سامنا ہے جس کے لیے 7 سے 8 ارب ڈالر عالمی بینک جبکہ 6 سے 8 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور ایشئن ڈیولپمنٹ بینک سے ملنے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی بانڈز کی بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

جب ان سے چینی قرضوں سے متعلق آئی ایم ایف کے مطالبات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی اطلاعات بے بنیاد اور حیران کن ہیں کیوں کہ آئی ایم ایف نے اس بارے میں گزشتہ برس اکتوبر میں پوچھا تھا جس کے بعد حکومت نے چینی قرضوں سے متعلق تمام تر تفصیلات فراہم کردی تھیں کیوں کہ ہمیں محسوس ہوا کہ اس میں کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا بوجھ عام عوام پر نہیں آئے گا تاہم خراب پالیسیوں کی بدولت بحران کا شکار معاشی معاملات کو بہتر کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم حکام اس بارے میں مجھے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں گے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر خزانہ نے پھر دعویٰ کیا کہ حکومت کی کامیاب حکمتِ عملی کے باعث گزشتہ 8 ماہ کے دوران معاشی بحران پر قابو پالیا گیا ہے اور دوست ممالک سے موصول ہونے والے قرضوں نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد دی۔

loading...