کچھ مشاغل، شوق اور یادیں


وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے جس کے ساتھ ذہنی ارتقا کا سفر بھی جاری ہے۔ دنیا میں نئی ایجادات اور دریافتوں نے شعور اور معاملہ فہمی کے نئے دریچے کھولے ہیں جس سے سالوں سے چلنے والی روایات ، مشاغل، ثقافت اور سماجیت سے ہم دور ہو چلے ہیں۔ان کے بارے میں نئی نسل کوئی علم نہیں رکھتی ۔ ان تمام حرکیات پر معاشی ماحولیاتی، سماجی اور گلوبل ثقافتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں ، ہم نے اپنے سماج کے اندر بطور فیشن ان جدید رویوں کو اپنانے کی کوشش کی ہے مگر اس کی کوئی سائنسی اور تحقیقی روایات نہیں ہیں ۔
ہم نے سماجی طور پر کبھی ان ایجادات اور تبدیلیوں کے فکری ہیت ترکیبی کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ گزشتہ نصف صدی سے بلوغت کے بعد مجھے اپنے عہد کے دانشوروں ، ادیبوں ، شاعروں اور عمرانی علوم کے ماہرین کے ساتھ بیٹھنے اور سیکھنے کا موقع ملا ہے جس سے سماج کی معاشی ، ثقافتی، اور سماجی حرکیات کو سمجھنے کی مدد ملی ہے۔ ماضی میں ہمارے دوست ڈاک کی ٹکٹیں اکٹھا کیا کرتے تھے جن کیلئے وہ ان گھروں تک جا پہنچتے تھے جنہیں بیرونی ممالک سے خطوط آتے تھے ، کچھ کرنسی کے سکے اکٹھے کرتے تھے لوگ گھروں میں اونچے چبوترے پر پنجرے بنا کر کبوتر رکھتے تھے ۔ اب بھی کچھ کبوتر باز موجود ہیں جو شدید دھوپ میں اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف لگائے ہوئے اپنے کبوتروں کی اُڑان کو دیکھتے رہتے ہیں ۔اسی طرح بسنت کا تہوار تھا ، آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اُڑ رہی ہوتی تھی اور مکانوں کی چھتوں پر اونچی آواز میں ڈیک لگائے اور ڈھول بجائے جاتے تھے ۔ یہ بنیادی طور موسم بہار کا تہوار تھا گھروں میں مہمان آتے اور انہیں پر تعیش کھانے کھلائے جاتے تھے۔ لباس کا انتخاب کیا جاتا تھا مگر اس ثقافتی تہوار کے علاوہ میلے ٹھیلوں کی بھی روایات تھیں ۔جہاں پر پنجاب بھر سے دکان دار کمائی کیلئے عارضی ہوٹل اور کھلونوں کی دکانیں قائم کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزوں میں سب سے زیادہ جلیبیاں اور حلوہ فروخت ہوتا تھا۔ تھیٹر ، میجک شو اور سرکس بھی دیکھنے کیلئے دور دور سے لوگ آتے تھے مگر شہروں کے گرد بڑھتی ہوئی آبادی ان تمام سر گرمیوں کیلئے جگہ محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جس سے یہ میلے ٹھیلوں کے حوالے سے سر گرمیاں سکڑ کر رہ گئی ہیں۔
دوسرے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ابھرنے والے سیاسی اور نظریاتی بیانیے نے عوام کی خوشیوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔جس میں دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیاں وغیرہ شامل ہیں ۔ماضی میں مشاعرے کھلی جگہوں پر ہوا کرتے تھے جہاں پر شعرا ء کے کلام سننے کیلئے سینکڑوں افراد موجود ہوتے تھے ۔ مگر اب یہ مشاعرے ہوتے ہیں مگر مخصوص جگہوں ہالوں اور رہائشگاہوں پر جہاں پر بہت کم عام لوگوں کی رسائی ہوتی ہے۔ آج کل اخبارات میں روزانہ کالجوں اور مختلف جگہوں پر ہونے والے مشاعروں کا تذکرہ ہوتا ہے مگر ان میں سامعین کم زیادہ شعرا ہوتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کو کلام سنا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ یوں بھی پاکستان میں مذہبی کتابوں کے بعد سب سے زیادہ شعراء کے دیوان شائع ہوتے ہیں جن کو مصنفین بڑے شوق سے دوستوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
چند دہائی قبل کتاب کا شوق موجود تھا لوگ نئی کتاب کی تلاش میں رہتے تھے۔ آج کل کسی کتاب کا بمشکل پانچ سو کا ایڈیشن شائع ہوتا ہے جس کو فروخت ہونے میں سالوں کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ ادب کو زندہ رکھنے کیلئے لیٹریری فیسٹول کا انعقاد کیا جاتاہے جس سے صرف اپنے دھڑے کے ادیبوں دانشوروں اور شعرا کو دعوت دی جاتی ہے۔ جو کہ سالوں سے رٹے رٹائے اپنے نظریاتی فلسفے اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں ۔نئے لکھنے اور سوچنے والوں کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ یہاں پر لگنے والے اشاعتی اداروں کے سٹالوں پر بہت کم کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ یہ سر گرمیاں بھی اب چند پڑھے لکھے افراد تک محدود ہو چکی ہیں۔ پرانے زمانے میں محلوں میں آنہ لائبریریاں قائم تھیں جہاں پر بڑے، بوڑھے ، بچے اور نوجوان لڑکیاں اپنی دلچسپی کے کتابیں اور ناول کرایہ پر لے کر پڑھتی تھیں۔ نوجوان نسل میں سب سے زیادہ ابن صفی کے ناول مقبول تھے۔ دوسرے نمبر پر نسیم اعجاز کے ناولوں کو بھی شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ڈائجسٹ بھی شائع ہوتے تھے جس میں سب سے زیادہ سب رنگ ، جاسوسی ڈائجسٹ ، عالمی ڈائجسٹ اردو ڈائجسٹ،حکایت ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ مقبول تھے۔ ہر طرح کی دلچسپی کی کہانیاں اور مضمون موجود ہوتے تھے یہ قاری پر تھا کہ وہ کونسا مضمون پڑھنا پسند کرتا ہے۔ اب بھی مختلف شہروں میں سرکاری اور پرائیویٹ اور نجی لائبریری قائم ہیں جہاں پر نوجوان نسل بہت کم رجوع کرتی ہے۔ زیادہ استفادہ کرنے والوں میں یونیورسٹی اور کالجوں کے طالبعلم ہوتے ہیں جنہیں اپنے تھیسس مکمل کرنے کیلئے معلومات اور ریفرنس درکار ہوتے ہیں۔
دیہاتوں میں کبڈی ، والی بال ، کشتی ، باندر کلا، ملاکھڑا، رسہ کشی ، نیزی بازی کے مقابلے ہوتے تھے جن کو کچھ کھیلنے کیلئے نہیں ملتا تھا وہ کانچ کی گولیاں ، لٹو ، شطرنج، تاش اور لڈو کھیل کر وقت گزارتے تھے ، شام کے وقت مختلف تھڑوں اور بازوروں میں محفلیں سجھتی تھیں جہاں پر نوجوان اور بوڑھے علیحدہ علیحدہ بیٹھ کر مختلف سماجی ثقافتی تبدیلیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے تھے اور اپنے تجربات شیئر کرتے تھے مگر اب یہ ثقافتی اور سماجی سر گرمیاں آہستہ آہستہ ختم ہو چکی ہیں ۔
سائنسی ایجادات اور میڈیا کی یلغار نے مقامی زبان و ثقافت اور سماجیت کو متاثر کیا ہے مگر ان کو زندہ رکھنے کیلئے سرکاری اور نجی سر پرستی میں قائم ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاہور میں پنجابی انسٹیٹیو ٹ میں ہونے والی سر گرمیوں کو مقامی طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہے جو کہ پنجابی ثقافت و کلچر کا دوبارہ احیاء چاہتے ہیں۔ اسلام آباد میں لوک ورثہ نے ثقافت کو پروموٹ کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں مختلف ماڈلوں کے ذریعے پرانی اشیا کے بارے میں بتایا جاتا ہے جس کو نوجوان نسل بالکل نہیں جانتی ۔ موسیقی جسے روح کی غذا کہا جاتا ہے کسی زمانے میں اس سے لطف اندوز ہونے کیلئے میلے ٹھیلوں میں مقامی فنکار اور قوال اپنے انداز میں لوک گیت ، دھوڑے ماہیے ، سیف الملوک اور صوفیانہ کلام پیش کرتے تھے ، مگر ان تمام سر گرمیوں کو جہاد افغانستان کے دوران ابھارنے جانے والے بیانیہ نے لوگوں کو اس صحت مند ایکٹوٹی سے محروم کر دیا ہے۔
ٹیلی ویژن بہت کم موسیقی کے پروگرام نشر کرتے ہیں وہاں پر لائیو پروگراموں میں محض چند مزاحیہ فنکاروں کو سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ اب زیادہ چینل خبریں، تبصرے اور سیاسی پروگرام نشر کرتے ہیں ۔ لہذا وہاں پر موسیقی اور مزاحیہ کے پروگرام بہت کم پیش کیے جاتے ہیں ۔ البتہ سائنسی ایجادات نے موسیقی کی عام آدمی تک رسائی دی ہے ۔گرامو فون جس پر ریکارڈ بجائے جاتے تھے اب اس کے بعد کیسٹ متعارف کروائے گئے ۔پہلا کیسٹ فلیپس کمپنی نے بنایا تھا جو ساٹھ منٹ پر مشتمل تھا ۔ملک کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ہوٹلوں پر گرامو فون پڑے ہوتے تھے جہاں پر آپ اپنی فرمائش پر گانا سن سکتے تھے۔ جوانی میں موسیقی کے لائیو پروگرام سننے اور دیکھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔ دوسرے شہروں میں منعقد ہونے والے میلوں میں جا کر لوک فنکاروں ، بڑے گائیکوں اور قوالوں کو سنتا تھا اپنے شوق کو پورا کرنے کیلئے ساؤنڈ سسٹم خریدا جس میں سی ڈی اور کیسٹ پر گانے سنے جا سکتے تھے۔
ویڈیو کیسٹ کے چلانے کیلئے وی سی آر بھی تھا مگر اب اس سے آگے بڑھ کر یو ٹیوب آ گئی ہے جس پر آپ انٹر نیٹ کے ذریعے اپنی مرضی کا گانا سن اور فلم دیکھ سکتے ہیں۔ یوں تمام پرانے سسٹم بیکار دیکھائی دیتے ہیں مگر میں نے اپنے ڈرائنگ روم میں ساؤنڈ سسٹم کو سجا رکھا ہے۔ کبھی کبھار موقع ملے تو پرانے فنکاروں ، لتا، رفیع، کشور کمار ، مہدی حسن ، استاد امانت علی خان، استاد سلامت علی خان، نزاکت علی خان، بڑے غلام علی خان، فریدہ خانم، زاہدہ پروین، جگجیت سنگھ، نور جہاں، زبیدہ خانم، سریندر کور ، پرکاش کور اور عالم لوہار کے گائے ہوئے گیت اور غزل سن لیتا ہوں ۔ اب وہ موسیقی اور ادب کے شائق دوست نہیں رہے ہیں اب سارا کام تنہا ہی کرنا پڑتا ہے۔
نوجوان نسل انٹر نیٹ کے مشاغل میں مصروف سائنس اور علم کے علاوہ سب کچھ دیکھ اور سن رہی ہے۔ اب فقط یادیں ہیں جن میں ماضی کی چاشنی موجود ہے۔ وقت کے ساتھ مشاغل تبدیل ہو چکے ہیں اور سب کچھ کمپیوٹر کے ڈبے میں بند ہو چکا ہے۔

loading...