حکومت کو اپوزیشن سے نہیں اپنی نااہلی سے خطرہ ہے!

پاکستان کو اس وقت دو محاذوں پر سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک آئی ایم ایف سے  پیکیج لینے کا معاملہ ہے اور دوسرا ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے کی الجھن ہے۔ ان دونوں پہلوؤں پر وزیر خزانہ  اسد عمر کی  خوشگوار  پیش گوئیوں  کے باوجود  ابھی تک کوئی مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ آج وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے  ملتان میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے   اسد عمر کو اخلاقی اور سیاسی سہارا فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک بار پھر ملک کو درپیش معاشی مسائل اور مالی بوجھ  کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر عائد کرتے ہوئے  دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے معیشت مستحکم ہورہی ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ وزیروں کے دعوؤں اور اعلانات کے باوجود مارکیٹ مستحکم ہونے کا نام نہیں  لےرہی۔ پاکستانی معیشت کے بارے میں منفی تجزیوں اور اندازوں کا انبار لگا ہے اور حکومت کی نااہلی اور کم فہمی کی باتیں  عام طور سے  کی جارہی ہیں۔   ابتدائی چند ماہ کے دوران حکومت  نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات  کے علاوہ  چین سے فوری مالی امداد حاصل کرکے کچھ ریلیف حاصل کیا تھا۔ اس کے فوری بعد  فروری میں  پلوامہ سانحہ  کے بعد بھارتی فضائیہ کی پاکستان کے خلاف  جارحیت کی وجہ سے حکومت کو  کسی حد تک سیاسی اطمینان نصیب ہؤا تھا کیوں کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور  حلقے اس معاملہ پر حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔

  حکومت اس اظہار یکجہتی  کو طول دینے میں ناکام رہی ہے  کیوں کہ   اسے ابھی تک یہ یقین نہیں ہؤا کہ  اپوزیشن کے ساتھ  سیاسی محاذآرائی   ختم کرنے سے ملک کے معاملات آسانی سے طے کئے جاسکتے ہیں۔  اور اس مفاہمت سے اپوزیشن کی بجائے حکومت کو ہی فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ جنگ کی صورت حال پہلے سے دگرگوں معاشی  حالت کے بارے میں نئے اندیشے اور شبہات پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ اگرچہ حکومت  کی طرف سے  جنگ کو بڑھاوا دینے کی بجائے  مسلسل بھارت سے مذاکرات کی بات گئی ہے اور تمام معاملات مفاہمت سے طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔  لیکن  اس کے برعکس بھارتی حکومت بدستور جارحیت کا  مظاہرہ کرتی رہی ہے۔  اس طرح پاکستان کو وہ اطمینان  نصیب نہیں ہو پایا جو کسی ملک کی معاشی حرکیات میں استحکام کے لئے  ضروری ہوسکتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتہ عشرہ پہلے  بھارت کی طرف سے 16 اور 20 اپریل  کے درمیان پاکستان پر  حملہ کے امکان کا  انتباہ دے کر  دباؤ کا شکار معیشت کے لئے مزید الجھنیں پیدا کی ہیں۔

وزیر خزانہ اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے  عالمی مالیاتی فنڈ کے نمائیندوں سے   بات چیت کی ہے اور واشنگٹن  کے  سفارت خانہ میں پاکستانی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے یہ یقین دلایا ہے کہ اب  نئے مالی پیکیج کے بارے میں آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہو چکا ہے۔  وزیر خزانہ اور حکومت کو امید ہے کہ  آئندہ ماہ کے دوران یہ امدادی پیکیج حاصل کرلیا جائے گا۔  البتہ ایک طرف وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے امداد لینے کو قومی معاشی بحران  کے لئے اہم سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان مذاکرات کو اپنی حکومت کا سیاسی ایجنڈا سامنے لینے کے لئے استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ وہ خرابی بسیار کے باوجود اب بھی اس بات کا کریڈٹ لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ  ان کی حکومت نے آئی ایم ایف سے اس کی شرائط پر قرضہ لینے کی بجائے دوست ملکوں سے امداد لے کر فوری بحران پر قابو پالیا ہے اور اب آئی ایم ایف  کا قرض ایک تو حکومت کی مقرر کردہ عوام دوست شرائط پر لیا جائے گا اور دوسرے اسے  ملکی معیشت   کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

پیش نظر حالات اور معاشی ماہرین کی رائے میں یہ دونوں دعوے درست نہیں ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان پر  قرضوں پر ادائیگی  کا   اس قدر  دباؤ  ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے وسائل کا بیشتر حصہ قرضوں کی ادائیگی پر  ہی صرف ہو گا۔ اس طرح سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں یا معاشی استحکام کے کام پس پشت رہ جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسد عمر کے دعوؤں کے باوجود  واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات پاکستان کے حوالے سے  خوشگوار نہیں ہیں۔ان رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف کے اہلکار ابھی تک پاکستان سے دو  بنیادی مطالبے  کررہے ہیں ۔ ایک یہ کہ پاکستان سی پیک اور چین کے ساتھ کئے جانے والے دیگر مالی معاہدوں   کی تفصیلات فراہم کرے تاکہ پاکستان  کے مالی بوجھ اور قرضوں کی صورت حال کی واضح تصویر سامنے آسکے۔ آئی ایم ایف کا دوسرا مطالبہ ہے کہ  پاکستان روپے کو ڈالر کے مقابلے میں آزاد چھوڑ دے اور اس کی قدر مقرر کرنے کے لئے اسٹیٹ بنک کی مداخلت کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ مطالبہ ماننے سے پاکستانی روپے کی قدر میں کم و بیش بیس فیصد کمی کا امکان ہے۔ جس سے ملک میں افراط زر  بڑھے گا ۔ عام   گھریلو مصارف   میں اچانک اضافہ    حکومت کے لئے سیاسی مسائل و مشکلات  پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اسد عمر کی یقین دہانی کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کے حوالے سے سامنے آنے والی  متضاد خبروں کی روشنی میں ملکی معیشت اور اس کے انتظام کے حوالے سے  بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔   یہ ابہام مزید چند ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔   اس  کی وجہ سے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کی صورت حال  متاثر رہے گی جس کا اثر  ملکی معیشت ، روزگار کی صورت  حال اور عام شہری کی  مالی حالت پر مرتب ہوگا۔  سی پیک اور چین کے ساتھ طے پانے والے دیگر منصوبوں کو کسی حد تک ملکی سلامتی  کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے۔ حکومت فی الوقت  صرف یہ یقین دلانے پر اکتفا کررہی ہے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والے وسائل چین کے قرضوں کی ادائیگی پر صرف نہیں ہوں گے۔ تاہم  یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے وہ عالمی مالیاتی فنڈ کے اہلکاروں کو  اپنے ان ارادوں کے بارے میں کیسے یقین دلائیں گے۔ کیوں کہ امریکی کانگرس کے کئی ارکان نے یہ   سوال اٹھاتے ہوئے   مطالبہ کیا   ہے کہ امریکی حکومت آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج دینے کا راستہ روکے۔  اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ  واشنگٹن میں بھارتی لابی اس   بارے میں  امریکی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرے گی۔

افغان مذاکرات میں تعاون کے باوجود  پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سرد مہری  موجود ہے۔ اس کا مظاہرہ  اسد عمر کے دورہ واشنگٹن کے دوران بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں باقاعدہ درخواست کے باوجود امریکی وزیر خزانہ نے  پاکستانی وزیر خزانہ سے  دو بدو ملاقات سے گریز کیا۔  اور اسد عمر کو امریکی وزارت خزانہ کے ایک جونئیر عہدیدار سے  ملاقات پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔  اس کے علاوہ  پاکستان نے ایف اے ٹی ایف  کے فیصلہ ساز اداروں میں بھارتی نمائیندگی پر اعتراض  کیا ہؤا ہے لیکن امریکہ نے اس حوالے سے بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

 بعض مبصرین کے نزدیک  آئی ایم ایف سے قرض اور ایف اے ٹی ایف کے ساتھ افہام و تفہیم کے معاملے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اگر  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا کم از کم بلیک لسٹ میں ڈالنے سے گریز کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تو آئی ایم ایف سے بھی  معاہدہ طے پانا مشکل ہوجائے گا۔  یہ صورت پاکستانی معیشت کے علاوہ  خارجہ تعلقات کے حوالے سے بھی  کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں  ہے۔ اس صورت میں روپے کی قدر میں خوفناک کمی ہو سکتی ہے اور معیشت کو  مستحکم کرنے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔

وزیر اعظم   اگلے دو ہفتوں کے دوران ایران اور چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ان کے دوروں کو پاکستان کی مالی مشکلات  اور انہیں حل کرنے کے لئے مزید تعاون کے امکانات کی تلاش سے علیحدہ کرکے نہیں  دیکھا جاسکتا۔   تاہم اس بات  کے  اشارے موجود نہیں ہیں کہ حکومت   نے آئی ایم ایف کے مطالبوں  یا ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے۔  حکومت تو اب تک قومی سیاسی مباحثہ میں جاری تصادم کی صورت حال کو کم کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے ۔  عمران خان  اور ان کے ساتھیوں کا تکیہ کلام بدستور احتساب اور سابقہ حکمرانوں  پر لعن طعن کرنے تک ہی محدود ہے۔  اسی کوتاہ نظری کی وجہ سے متعدد ماہرین اور تجزیہ نگار حکومت کے بے عملی، معاملات  کو سمجھنے  میں ناکامی اور نتائج دینے سے عاری پالیسیوں پر  تشویش کا اظہار رکرہے ہیں۔

ان حالات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو پانچ برس صبر کرنے کا بے وقت مشورہ دیا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو گرانے یا اس کے خلا ف  تحریک چلانے کا  کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔ پھر  جہاندیدہ وزیر خارجہ کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہورہی ہے کہ ’حکومت گرانا مسئلہ کا حل نہیں ہے‘۔  کیا شاہ محمود  اپنی حکومت کی ناکامی سے خوفزدہ ہو کر اس کے گرنے کو ایک حقیقی متبادل سمجھنے پر مجبور ہوچکے ہیں؟

loading...