اپوزیشن پانچ برس انتظار کرے، مسائل چٹکی بجاتے حل نہیں ہوں گے: شاہ محمود قریشی

  • اتوار 14 / اپریل / 2019
  • 380

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت گرانا کبھی مسئلے کا حل ہوتا تو کوئی بھی حکومت نہیں چل سکتی. اپوزیشن اپنی باری کے لیے اگلے 5سال انتظار کرے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ملک کے معاشی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تو تجارتی خسارہ انتہائی حدوں کو چھو رہا تھا۔ مالی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا ۔ ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری  گر چکی تھی، قرض میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا۔ ماضی میں لئے گئے قرضوں کا ذمہ دار تحریک انصاف کی 8ماہ کی حکومت کو  نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے ڈالر کو مصنوعی طور پر فریز کیا ہوا تھا اور روپے کو استحکام دینے کے لیے وہ ڈالر مارکیٹ میں پھینکتے تھے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو فاریکس ریزرو صرف 2ہفتے کے رہ چکے تھے اور اس بگڑی ہوئی صورتحال سے تحریک انصاف کو دوچار ہونا پڑا اور ہم انہیں درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر ہوں یا کوئی اور ہو وہ راتوں رات چٹکی بجا کر مسائل حل نہیں کر سکتا۔ وہ بتدریج اقدامات اٹھا رہے ہیں جن سے معیشت میں ٹھہراؤ آنا شروع ہو جائے گا اور آنا شروع بھی ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انشااللہ ایک مدت کے بعد ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ سرمایہ کاری کا رجحان بھی آ رہا ہے جس سے بیروزگاری کم ہوگی۔

وزیر خارجہ نے اپوزیشن کو پیغام دیا کہ آپ 5سال انتظار کیجیے جیسے پچھلی اپوزیشن کو 5سال انتظار کرنا پڑا تھا۔ 5 سال بعد ہم اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے اور پھر عوام فیصلہ کریں گے۔ عوام کا ہر فیصلہ ہم کھلے دل سے قبول کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) ایک خود مختار ادارہ ہے۔ وہ حکومت کے تابع نہیں ہے۔ ہم اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں نہ دباؤ میں لا سکتے ہیں۔ وہ ہماری مرضی کے فیصلے بھی نہیں کرے گا۔

شاہ محمود نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ نیب کرپشن کے تدارک کے لیے ہماری مدد کرے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ کرپٹ عناصر کا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہو، ان کی بیخ کنی ہونی چاہیے۔ جو طبقہ پاکستان کے خزانے کو نقصان پہنچا چکا ہے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سے قوم توقع کرتی ہے کہ وہ بغیر رعایت اور دباؤ کے کرپشن فری پاکستان کی منزل کی جانب بڑھتا چلا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ہندوستان غیرذمے دارانہ بیان بازی کرے گا تو کوئٹہ دھماکے کے بعد پاکستان کو ایسا نہیں کرنا۔ ہمیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنی بلکہ ہمیں تحقیق کرنی ہے اور اس نتیجے پر پہنچنا ہے کہ کہیں کوئٹہ میں رونما ہونے والے اس المناک واقعے میں کوئی دہشت گردی، فرقہ واریت یا بیرونی ہاتھ تو ملوث نہیں۔ ’ہم تحقیق کے بعد بات کریں گے، بھارت کا رویہ نہیں اپنائیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں اور یہ مرحلہ 19مئی کو مکمل ہو گا اور اس وقت ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم پہلے ایران جائیں گے جو ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات اور سرحد پر امن برقرار رکھنا پاکستان کی ضرورت اور اس کے مفاد میں ہے۔

loading...