سانحہ جلیانوالہ باغ کی 100 ویں برسی: برطانیہ سے معافی کا مطالبہ

  • ہفتہ 13 / اپریل / 2019
  • 1040

13 اپریل کو دنیا بھر میں سانحہ جلیانوالہ باغ کی 100 سالہ تقریبات میں گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی لوگ برطانوی حکومت سے اس افسوس ناک واقعے پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

1919 میں برصغیر میں برطانیہ کا راج تھا۔ امرتسر میں موجود جلیانوالہ باغ میں کچھ قوم پرست برطانوی راج کے نئے ٹیکس اور ہندوستانیوں کی فوج میں جبری بھرتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اسی اثنا میں عوام کی بڑی تعداد بیساکھی کے میلے میں شرکت کے لیے بھی وہاں موجود تھی۔ اس وقت برطانوی راج نے بڑے عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے شہر میں مارشل لا نافذ کیا ہوا تھا۔

ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے بریگیڈیئر جنرل آر ای ایچ ڈائر کو بھیجا گیا جنہوں نے لوگوں کو متنبہ کیے بغیر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ جب تک سپاہیوں کی گولیاں ختم نہ ہوئیں فائرنگ جاری رہی۔ اس افسوس ناک واقعے میں برطانوی سرکاری ذرائع کے مطابق 379 افراد ہلاک ہوئے لیکن برصغیر کے مورخین کا ماننا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 1000 کے قریب تھی۔

اس واقعے کے 100 برس مکمل ہونے پر گزشتہ بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ٹریزامے نے اس واقعے پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا لیکن باضابطہ معافی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا ’ سنہ 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ برطانوی انڈین تاریخ پر شرمناک داغ ہے۔‘

اس پر برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا کہ امرتسر قتل عام پر واضح معافی مانگنی چاہیے۔ انڈین سیاستدان اور کانگرس پارٹی کے راہنما ششی تھرور نے اس موقع پر ٹویٹ میں کہا کہ افسوس کا اظہار پہلا مثبت قدم ہے تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو معافی مانگنی ہوگی اور صرف ایک ظلم پر نہیں بلکہ برطانوی راج کے دوران ڈھائے گئے تمام مظالم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے معافی کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ برطانیہ کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام اور بنگال کے قحط پر پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کوہ نور ہیرے کو لاہور عجائب گھر کو واپس دیا جائے ’جہاں اسے ہونا چاہیے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے کوئنز میری یونیورسٹی لندن کے لیکچرار اور تاریخ دان ڈاکٹر کرس موفٹ نے کہا ’آج کے برطانیہ کو استعمار کے تشدد اور عالمی سلطنت کے گہرے اور نقصان دہ نتائج کو تسلیم کرنے کا کافی سفر طے کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے وجہ سے موجودہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے جہاں دائیں بازو کی آوازیں فخر سے یہ دعوے کرتی ہیں کہ برطانیہ کے راج کی تاریخ پر کسی کو شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر کرس کہتے ہیں کہ اس وقت جب شدید دائیں بازو اور نسل پرست تحریکیں بڑھ رہی ہیں، یہ بہت ضروری ہے کہ برطانیہ جلد از جلد اپنے تلخ ماضی اور اس کی دیرپا میراث کا سامنا کر کے اسے نمٹائے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہر سیاسیات ڈاکٹر تیمور رحمٰن کہتے ہیں ’جلیانوالہ باغ میں ہونے والا قتل عام استعمار کے سلسلے کا ایک واقعہ تھا، محض ایک واقعے پر معافی مانگنا اہم نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ برطانیہ کے لوگ اپنی تاریخی میراث کو کیسے دیکھتے ہیں اور انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشی لوگ اسے کیسے سمجھتے ہیں اور اس پر کیسے قابو پاتے ہیں؟۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

 

loading...