سچ کہنا جرم ہے یا نادانی !

11 اپریل کو لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں اس وقت ڈرامہ دیکھا گیا جب لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے جولین اسانج کو گرفتار کر رلیا۔ اس پورے ماجرے کو براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا تو وہیں اخبارات میں بھی اس کی تصاویر کو نمایاں جگہ دی گئی۔
جولین اسانج پچھلے سات برسوں سے ایکواڈور سفارت خانے میں پناہ گزین کے طور پر چھپا ہوا تھا۔ تاہم اس کی گرفتاری کے لئے امریکہ اور دیگر ممالک نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔کبھی سویڈن سے یہ خبر آتی کہ جولین اسانج کو گرفتار کیا جائے کیونکہ اس نے عورتوں کی عصمت دری کی ہے۔ تو کبھی امریکہ سے یہ خبر آتی کہ جولین اسانج نے امریکی خفیہ ایجنسی کی دستاویز چرائی ہیں، اس لئے اسے امریکہ لا کر مقدمہ چلا جائے۔ لیکن جولین اسانج ایکواڈور سفارت خانے سے ٹس سے مس نہیں ہوئے اور تمام الزامات کو اپنے خلاف سوچی سمجھی سازش کہہ کر چھپے رہے۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کو ایکواڈور حکام نے سفارت خا نہ آنے کی دعوت دی کیوں کہ یکواڈور کی حکومت نے جولین اسانج کی پناہ گزین کی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس لئے جولین اسانج کو لندن پولیس حراست میں لے سکتی تھی۔ ایکواڈور کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ جولین اسانج کے رویے نے ان کو ایسے قدم اٹھانے پر مجبور کیا ،کیونکہ اسانج پناہ کے قواعد کی خلاف ورزی کررہے تھے۔ صدر ٹورینو کا مزید کہنا تھا کہ جب وکی لیکس نے ویٹیکن کے دستاویزات لیک کردیے۔ ان واقعات کے بعد دنیا کا شک یقین میں بدل گیا کہ جولین اسانج اب بھی وکی لیکس سے منسلک ہے۔ جولین اسانج نے سفارت خانے میں سیکورٹی کیمرے کو بلاک کر دیا اور خفیہ دستایز کو ڈھونڈنے لگا۔ وہ بلا وجہ گارڈ سے جھگڑنے لگے تھے۔ صدر مورینو نے یہ بھی کہا کہ برطانوی حکومت نے یہ بھی لکھ کر دیا ہے کہ جولین اسانج کو کسی ایسے ملک میں نہیں بھیجا جائے گا جہاں اس پر اذیت ہو یا اسے سزائے موت دی جاسکے۔
گرفتاری کے بعد جولین اسانج کو لندن کے جیل میں بند رکھا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اس سے پہلے گرفتاری کے وارنٹ کو نظر انداز کیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ معاملہ اتنا سنگین نہیں ہے ۔ کیونکہ اس میں بہت حد تک ممکن ہے جولین اسانج کو رہا ئی مل جائے گی۔ تاہم پریشانی اس بات کی ہے کہ امریکہ منہ پھاڑے بیٹھا ہے اور جولین اسانج کو امریکہ لا کر کارروائی کرنا چاہتا ہے ۔ جس سے برطانوی شہری، سیاستداں اور انسانی حقوق کے حامی تشویش میں ہیں کہ کہیں جولین اسانج کو امریکہ لے جا کر ایک مدت کے لئے اس کو جیل میں نہ ڈال دیا جائے۔ جو کہ ایک لازمی بات مانی جا رہی ہے ۔ کیونکہ امریکہ نے جولین اسانج پر جو الزامات لگائے ہیں ہیں وہ نہایت سنگین ہیں اور اس کی سزا معمولی نہیں ہے۔
جولین اسانج کی وکیل جینیفر روبنسن نے میڈیا کو خبردار کرتے ہوئے بتا یا کہ اگر جولین اسانج کو امریکہ بھیج دیا گیا تو یہ صحافت کے لئے ایک شرمناک بات ہوگی۔ کیونکہ جولین اسانج کا قصور یہ ہے کہ اس نے امریکہ کے خلاف سچ کہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ آئندہ کوئی بھی اگر امریکہ کے خلاف سچ لکھے گا تو اسے امریکہ سزا دے گا ۔ جو کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کے لئے ایک خوف کی بات ہوگی۔
جولین اسانج کو ویسٹ منسٹر میجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں ڈسٹرکٹ جج مائیکل اسنو نے جولین اسانج کے رویے کو نا قابلِ قبول بتاتے ہوئے کہا کہ جولین اسانج نے خود غرضی کا ثبوت دیا ہے ۔ ڈسٹرکٹ جج نے جولین اسانج کو سدرک کراؤن کورٹ بھیج دیا ہے جہاں ممکن ہے جولین اسانج کو بارہ مہینے جیل کی سزا ہو۔
2012میں جولین اسانج کو ایکواڈور سفارت خانے میں پناہ گزین کے طور پر پناہ دی گئی۔ جس کی ایک اہم وجہ سویڈن جولین اسانج کو عصمت دری کے الزام میں گرفتار کرنا چاہتا تھا۔ تاہم جولین اسانج ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے رہے اورعصمت دری کے الزام کو بعد میں واپس لے لیا گیا۔کیونکہ جولین کو بطور پناہ گزیں ایکواڈور سفارت خانے سے گرفتار کرنا ناممکن تھا۔ لیکن اب دوبارہ سویڈن پولیس جولین اسانج سے پوچھ تاچھ کرنا چاہتی ہے۔
2006میں جولین اسانج نے (Wikileaks)ویکی لیکس کی بنیاد ڈالی۔ دراصل ویکی لیکس کا بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ وہ ان باتوں کو ثبوت کے ساتھ لوگوں کو بتاتا تھا جس سے عام انسان کے ہوش اڑ جاتے تھے۔ ویکی لیکس نے چار سال قبل عراق میں ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے ا مریکی فوجیوں کی عام شہریوں کو قتل کرنے کی ویڈیو پیش کی تھی۔اس کے علاوہ 2010 میں امریکی خفیہ ایجنسی کی ملازمہ چیلسی میننگ کو اس لئے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے 700,000خفیہ دستاویزات، ویڈیو اور سفارتی مراسلے ویکی لیکس کو فراہم کئے تھے۔ جبکہ چیلسی میننگ نے اپنے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس لئے ایسا کیا کہ وہ چاہتی تھی اس کے ذریعہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بحث ہو ۔ لیکن امریکہ نے چیلسی میننگ کی باتوں کو ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ چیلسی میننگ کے رویے اوراس نے راز افشا کرکے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی گئیں۔
امریکہ کے صدارتی انتخاب کے دوران وکی لیکس نے ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے متعلق کئی ای میل کو منظر عام پر لا کر دنیا کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہیلری کلنٹن امریکی الیکشن میں بڑی تعداد میں ووٹ نہ ملنے کا ایک سبب وکی لیکس تھا۔ تاہم ان تمام باتوں کے لئے روس کی طرف بھی انگلی اٹھائی جارہی ہے۔ کیونکہ وکی لیکس نے روس کے خلاف اب تک کچھ بھی نہیں شائع کیا ہے جو کہ ایک حیران کن بات ہے۔
ویکی لیکس ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو خفیہ اطلاع کے علاوہ ان خبروں کو پیش کرتا ہے جوہم اور آپ گمان ہی نہیں کر سکتے۔یہ 2006
میں پہلی بار سن شائن پریس کے ذریعہ منظرِ عام پر آیا۔جولین اسانج نے خفیہ دستاویزات اور تصاویر کے حصول اور ان کی اشاعت کرنے کے لیے وکی لیکس نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ وکی لیکس کے انکشاف سے اچھے اچھوں کے ہوش اڑ گئے تھے۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی گرفتاری سے انسانی حقوق کے حامی حیران ہیں تو وہیں امریکہ اور برطانیہ کو کچھ حد تک راحت بھی ملی ہے۔ ظاہر سی بات ہے جولین اسانج کی اس کوشش کو ایک طبقہ کافی اہم اور اعلیٰ سمجھا جاتا ہے تو وہیں امریکہ سمیت کئی ممالک خوف زدہ بھی تھے کہ کہیں بات کافی آگے نہ بڑھ جائے اور ان کے لئے عذاب نہ بن جائے۔لیکن وکی لیکس کے بانی جولین اسا نج کی گرفتاری سے ہمارے ذہن میں یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ کہیں سچ بولنے والوں کا حشر جولین اسانج ہی کی طرح نہ ہو۔
میں جولین اسانج کی گرفتاری سے حیران نہیں ہوں کیونکہ امریکہ اور دیگر ممالک مسلسل اس بات کو زور لگا رہے تھے کہ کسی طرح جولین اسانج کو گرفتار کر لیا جائے۔ تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ اگر تم نے بھی بڑی طاقتوں کے خلاف آواز بلند کی تو تمہارا جینا حرام کردیا جائے گا۔ جو کہ جولین اسانج کی کہانی کو پڑھ کر احساس ہوتاہے۔میں امید کروں گا کہ جولین اسانج کوباعزت بری کیا جائے اور انسانی حقوق کی پالیسی کی بنا پر ’بولنے کی آزادی‘ پر روک نہ لگائی جائے۔ ورنہ دنیا جھوٹے سیاستدانوں کے خونی پنجے میں پھنس کر ایک زوال پزیر سوسائٹی بن جائے گی۔ جہاں انسانی حقوق ان جھوٹے سیاستدانوں سے رحم کی بھیک مانگے گے اور ہم بے بس ہو کر تماشہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

loading...