عمران خان کی حکومت کا اصل دشمن کون ہے؟

اس بارے میں اب دو رائے نہیں ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت  کی حرکیات کو سمجھنے اور اصلاح  احوال کے لئے مناسب، ضروری اور ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔  یہ رائے صرف عمران خان اور ان کی حکومت کے سیاسی مخالفین  کی طرف سے ہی سامنے نہیں آرہی بلکہ  اس پارٹی کی شدت سے حمایت کرنے والے متعدد مبصر ین  کے علاوہ اس کے حامیوں کی بڑی تعداد کو  بھی   اب تک حکومت کی کارکردگی  سے مایوسی ہوئی ہے۔

یہ تسلیم کرنے  کے بعد کہ تحریک انصاف کی  حکومت اپنے معاشی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہورہی ہے، یہ اتفاق رائے اسی نکتے پر ختم ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ مخالفین  کے نزدیک عمران خان  کی ٹیم   صرف اپنی ناتجربہ  کاری  کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ  نااہلی کی وجہ سے ناکام ہورہی ہے۔   اس رائے کے مطابق  عمران خان صرف اقتدار تک پہنچنے کے شوقین تھے ۔ انہوں  نے یہ مقصد پانے کے لئے کوئی تیاری نہیں  کی تھی۔ انہیں  نہ  تو ملک کو درپیش مسائل  کی تفہیم تھی اور نہ ہی انہوں نے  اس مقصد سے کوئی سیاسی و معاشی منصوبہ بندی کی تھی۔ ایک یہ خیال بھی سامنے لایا جاتا ہے کہ عمران خان کو  کسی توقع کے برعکس اچانک حکومت مل گئی تھی ، اس لئے وہ اس عہدہ کی ذمہ داریوں سے  کما حقہٰ نمٹنے  کے لئے تیار نہیں تھے۔ جبکہ عمران خان کے بعض حامی  کسی حد تک حکومت کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں  کہ  حکومت کو    کام کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا۔ بلکہ اچھی کارکردگی کو بھی  تنقید  و  تشنیع کا نشانہ بنا کر  مسترد کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے  حکومت کے بارے میں منفی تصویر ہی سامنے آتی ہے۔

 تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں رائے   بھی اسی تقسیم کی نشاندہی  کرتی ہے  جو عام طور سے  سیاسی و سماجی امور کے بارے میں پاکستان میں پائی جاتی ہے۔  یعنی ایک طبقہ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا اور حکومت پر تنقید اور درپردہ سازشوں کے ذریعے اسے ناکام بنانے  کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ درپردہ سازشیں دراصل  انہی کاوشوں کا نام ہے  جو مملکت کے مختلف طاقت ور ادارے کسی حکومت کو بنانے، چلانے یا بگاڑنے  میں شامل کرتے ہیں۔   تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں  اب یہ رائے  مسلمہ ہے کہ  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی ناکامی اور ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کے ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے بالآخر عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان فوج کی زبان بولتے ہوئے اقتدار  تک پہنچے ہیں اور انہوں  نے بنیادی حقوق، پارلیمان  کے اختیار یا جمہوری نظام کے استحکام کے بارے میں  کسی گرم جوشی کا مظاہرہ  نہیں کیا۔ ان کی کابینہ  کے بارے میں سابق فوجی حکمران پرویز مشرف خود کہہ چکے ہیں کہ ’یہ تو ان  کے اپنے ہی لوگ ہیں‘ ۔ حال ہی میں   آئی ایس آئی کے سابق افسر اور آئی بی کے سابق سربراہ اور پرویز مشرف کے معتمد خاص اعجاز شاہ کو پارلیمانی امور کا وزیر بنا کر اس شبہ کو یقین میں تبدیل کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے۔

یوں بھی عمران خان شروع دن سے دو باتوں پر زور دیتے رہے ہیں ۔ ایک یہ کہ ایوب خان کا ساٹھ کی دہائی کا دور ملک کی تاریخ کا سنہرا دور تھا۔ دنیا اس وقت پاکستان  کو آئیڈیل مانتی تھی اور  اس جیسا ملک بننے کے خواب دیکھے جاتے تھے۔ لیکن   بدعنوان سیاست دانوں  نے اس خوشگوار صورت حال کو ابتری اور بد حالی میں تبدیل کردیا۔ وزیر اعظم کا دوسرا مؤقف اسی پہلی رائے کی تکمیل کے لئے ان کا  لائحہ عمل ہے کہ وہ تمام بدعنوان سیاست دانوں یا سابقہ حکمرانوں  کو کیفر کردار تک پہنچاکر ہی دم لیں گے۔  وہ اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ ایک یہ کہ قانون  کی بالادستی کے لئے  ہر کسی کو اس کے کئے کی سزا ملنی چاہئے اور دوسرے یہ کہ جب تک سابق بدعنوان حکمرانوں  سے  ان کی ناجائز دولت کا حساب نہیں  لیا جائے گا، اس وقت تک  آئندہ  کے لئے لوگ عبرت نہیں  پکڑیں گے۔   حکومت سنبھالنے سے پہلے اور تھوڑی دیر بعد تک عمران خان اور ان کے  وزیر یہ دعوے بھی کرتے رہے ہیں  کہ وہ سابق حکمرانوں  کو شکنجے میں لاکر ملک کے لوٹے ہوئے اربوں ڈالر  بیرون ملک سے واپس لائیں گے۔ حیرت انگیز طور پر عمران خان اب بھی شریف اور زرادری خاندان کو عبرت کا نشان تو بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کا ذکر نہیں کرتے۔

عمران خان  کی جمہوریت پسندی اور  بدعنوانی کے خلاف ان کی صدق دلی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ  ایک فوجی آمر کے دور کو ملک کی تاریخ کا سنہرا دور مانتے ہیں  لیکن ایوب خان  کے ذریعے   سیاست میں فوج کی مداخلت کے لئے قائم ہونے والی روایت کا ذکر نہیں کرتے ۔ وہ نہ ہی  یہ سوچنے اور بتانے کی زحمت کرتے ہیں  کہ ملک کو اس وقت   نظام حکومت اور  ریاستی  ڈھانچے کے جن نقائص   کا سامنا ہے، اس کی بنیاد اسی ’سنہری دور‘ میں  رکھی گئی تھی۔  ایوب خان ایک ایسے بے اصول حکمران کا نام تھا کہ اس  نے نہ صرف ملک کے پہلے آئین کو منسوخ کرنے کا اہتمام کیابلکہ اپنی آمریت کے  دور میں جو آئین ملک پر مسلط کیا، اقتدار سے رخصت ہوتے ہوئے  اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کا حوصلہ  بھی  نہیں کیا۔  1962 کے آئین کے تحت ایوب خان کو صدارت سے علیحدہ ہوتے ہوئے اسمبلی کے اسپیکر کو  اختیار سونپنا چاہئے تھا لیکن  ا س  کی بجائے انہوں نے کمانڈر انچیف جنرل یحی کو اقتدار سونپا۔ گویا ان  کا اقتدار پر قبضہ اور اس سے علیحدگی دونوں ملک کے مروجہ آئین کی خلاف ورزی  تھی۔

2018 کے انتخاب میں پونے دو کروڑ ووٹ لے کر   اقتدار سنبھالنے والی حکومت اور اس کے سربراہ کو  صرف جمہوری یا سیاسی حکمرانوں  کی بدعنوانی یا بے قاعدگی پر ہی غصہ  ہے۔ وہ نہ تو سابق فوجی حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی  غیر قانونی و غیر آئینی حرکات کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی  ان ادوار میں ہونے والی بدعنوایوں  پر ان کا دھیان جاتا ہے۔ عمران خان کے نزدیک صرف شریف خاندان اور آصف زرادری  ہی اس ملک  میں بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں ۔ اسی لئے وہ جہانگیر ترین کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود انہیں قابل اعتماد اور عزیز از جان سمجھتے ہیں۔  ان کا یہی رویہ   بدعنوانی  کے خلاف اور جمہوریت کی حمایت میں ان کے مقدمہ کو کمزور کرتا ہے۔ مخالفین کو ان وجوہات کی وجہ سے عمران خان کی باتوں میں  سیاسی انتقام کی بو آتی ہے  اور ان کے رویہ کو غیر جمہوری   سمجھا جاتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم  اور صوبوں کے اختیارات  کے بارے میں ان کے خیالات کے علاوہ  صدارتی نظام کے بارے میں  عمران خان  کے حامیوں  کے دلائل  ان   کے سیاسی اور جمہوری مزاج کے بارے میں نت نئے سوالوں کو جنم دے رہے ہیں۔

اگرچہ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج  ملکی معاشی مسائل سے نمٹنے میں ناکامی ہی ہے  لیکن اس کے ساتھ ہی جب  اس کے سربراہ کی جمہوریت پسندی کے بارے میں  شبہات پیدا ہوجائیں تو  یہ سوال اٹھنا فطری ہوجاتا ہے کہ کیا موجودہ نظام ناکام ہورہا ہے۔ کیا عمران خان اسی پارلیمانی طریقہ کو مسترد کرنا چاہتے ہیں ، جس کے سہارے تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے وہ اقتدار تک پہنچے ہیں؟    حکومت کی ناکام پالیسیوں اور واضح سیاسی، انتظامی اور  معاشی لائحہ عمل  نہ ہونے کی وجہ سے یہ سوالات ملک میں منفی مباحث اور جمہوریت کے بارے میں  تشویش   کا سبب بن رہے ہیں۔  عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اس صورت حال  کو   کسی بھی طرح  اپوزیشن کی عیاری اور اپنی معصومیت  سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔  اس ملک کے عوام  جمہوریت   اور استحکام  کے نام پر کئی بار ڈسے گئے ہیں ۔  اب اگر ایک  منتخب لیڈر ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے ، انہیں جمہوریت  کے راستے سے  ہٹانے کا سبب بنے گا یا  عوام کی جمہوریت دوستی کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرے گا تو  یہ رویہ  ایک نئے اور خوفناک قومی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

ملک کا ہر جمہوریت پسند موجودہ حکومت کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اس موقع کے انتظار میں  ہیں کہ  عمران خان کی حکومت خود اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ تلے دب جائے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کسی  تفہیم اور انتظام کے تحت اقتدار تک پہنچ سکیں۔ لیکن  اس ملک کی اکثریت اور ملک کے آئینی پارلیمانی نظام کا احترام کرنے والے سب لوگ موجودہ حکومت کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔

تاہم اس کا انحصار عمران خان اور ان کی ٹیم پر ہی ہے۔ اگر وہ تصادم کا راستہ چھوڑ کر اپنی معاشی اور سیاسی ترجیحات  متعین نہیں کریں گے تو  کامیابی  توممکن نہیں ہوگی، اقتدار پر ان کی گرفت  بھی کمزور ہونے لگے گی۔

loading...