پہلی بار ’بلیک ہول‘ کی پہلی تصویر جاری کر دی گئی

  • بدھ 10 / اپریل / 2019
  • 550

ماہرین فلکیات نے بلیک ہول کی پہلی مرتبہ تصویر لی ہے جو ایک دور دراز کہکشاں میں واقع ہے۔ یہ ایک بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کی لمبائی چار سو ارب کلومیٹر ہے۔ یہ زمین کے مجموعی حجم سے تیس لاکھ گنا بڑا ہے اور سائنسدان اسے ایک مونسٹر یا دیو قرار دے رہے ہیں۔

یہ بلیک ہول دنیا سے تقریباً پچاس کروڑ کھرب کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور اس کی تصویر دنیا کے مختلف حصوں میں نصب آٹھ دوربینوں کے ذریعے لی گئی ہے۔ اس کی تفصیل بدھ کو ایسٹرو فیزکل لیٹر میں شائع کی گئی ہیں۔

نیدرلینڈ یونیورسٹی رادباونڈ کے پروفیسر ہاینو فیلک جنہوں نے یہ تجربہ کرنے کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کہکشاں جس کی تصویر حاصل کی گئی ہے اسے ایم ستاسی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے پورے نظام شمسی سے بڑا ہے۔

اس بلیک ہول کا حجم سورج سے چھ اعشاریہ پانچ ارب گنا بڑا ہے اور سائنسدانوں کے خیال میں اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز میں سب سے زیادہ وزنی ہے۔ اس کی روشنی ہماری کہکشاں میں موجود تمام ستاروں سے زیادہ تابناک ہے اور اسی وجہ سے ہم اسے زمین سے دیکھنے کے قابل ہوئے ہیں۔

بلیک ہول کے ارد گرد موجود دائرہ وہاں پر اس لیے موجود ہے کیونکہ وہ بلیک ہول میں داخلے کا مرکز ہے اور وہاں پر سے گزرنے والی کوئی بھی چیز بلیک ہول کی کشش کو برداشت نہیں کر سکتی اور اس میں چلی جاتی ہے۔ اس مقام پر فزکس کے تمام اصول ناکام ہو جاتے ہیں۔

ہاینو فیلک نے مزید کہا کہ یہ ایک ’دیو‘ ہے اور کائنات میں پائے جانے والے تمام بلیک ہولز میں ہیوی ویٹ بلیک ہول ہے۔ اکثر کہکشاؤں کے مرکز میں ایک بلیک ہول ہوتا ہے، تاہم مختلف بلیک ہولز کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔  ان میں سے کچھ تو قریبی گیس، خلائی دھول اور ستاروں کو ہڑپ کرتے ہیں جب کہ بعض اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج کرتے ہیں کہ آس پاس ستاروں کی تشکیل کا عمل ہی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلیک ہول کے ارد گرد 'رنگ آف فائر' یعنی نارنجی رنگ کا دائرہ ہے۔ اور اس دائرے کو اتنے واضح طور پر دیکھنا اس لیے ممکن ہے کیونکہ جو گیس بلیک ہول میں جاتی ہے، اس سے پیدا ہونے والی روشنی دائرے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر ڈاکٹر زیری یونسی جو اس منصوبے کا حصہ بھی تھے ، کہتے ہیں کہ ’بلیک ہول ویسے تو کافی سادے ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں جو ہماری کائنات، وقت، خلا، اور ہماری اپنی ذات کے حوالے سے ہیں۔'

دنیا میں کوئی ایک ٹیلی سکوپ اتنی طاقتور نہیں ہے کہ وہ بلیک ہول کو خود سے دیکھ سکے۔  اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی اور سمتھ سونین سینٹر فار آسٹرفزکس کے پروفیسر شیپرڈ ڈولمین نے ایک منصوبہ تیار کیا جس میں دنیا بھر کی آٹھ طاقتور ٹیلی سکوپ کو آپس میں منسلک کرکے انہیں 'ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ' کا نام دیا گیا۔

اس مشترکہ ٹیلی سکوپ سے ملنے والا مواد اتنا زیادہ تھا کہ اسے انٹرنیٹ کے ذریعہ منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ چناچہ اس تمام مواد کو ہارڈ ڈسک میں جمع کرکے امریکی شہر بوسٹن اور جرمنی کے شہر بون بھیجا گیا تاکہ اس میں سے جمع کی گئی معلومات کا تجزیہ کیا جا سکے۔

پروفیسر شیپرڈ ڈولمین نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی حیران کن سائنسی کارنامہ ہے۔ ہم نے ایک ایسا کام سر انجام دیا ہے جو نسلوں پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔' اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم اب نظام شمسی کی کہکشاں ملکی وے کے بیچ میں واقع 'سپر ماسیو' بلیک ہول یعنی نہایت ہی بڑے سائز کے بلیک ہولز کی تصویر لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

حیران کن طور پر دور دراز کے بلیک ہول کی تصویر لینا ہماری اپنی کہکشاں کے بلیک ہول کی تصویر لینے سے زیادہ دشوار ہے۔

(رپورٹ: پلب گھوش ۔ بی بی سی)

loading...