آسیہ بی بی ابھی تک پاکستان میں ہیں، چند ہفتے میں بیرون ملک چلی جائیں گی: وزیراعظم پاکستان

  • بدھ 10 / اپریل / 2019
  • 1200

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں بری کی جانے والی آسیہ بی بی ’بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گے۔‘ بی بی سی کے مدیر عالمی امور جان سمپسن نے اپنے انٹرویو میں پاکستانی وزیر اعظم سے پوچھا کہ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، وہ ابھی تک پاکستان چھوڑ کر کیوں نہیں گئیں؟ عمران خان نے کہا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ آسیہ بی بی بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔‘

’کیا ہم اس حوالے سے دنوں یا ہفتوں کی بات کر رہے ہیں؟‘

اس کے سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ’میرے خیال سے ہفتوں میں۔ ہم ہفتوں کی بات کر رہے ہیں۔‘

’کیا یہ آپ کا فیصلہ ہے؟‘ کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اس حوالے سے تھوڑی پیچیدگی پائی جاتی ہے اور میں میڈیا سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ ’لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔‘

واضح رہے کہ ماتحت عدالتوں نے توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ مسیح کو موت کی سزا سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اس سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایک دوسرے انٹرویو میں غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا کے انتخابات میں مودی پھر سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو امن مذاکرات بحال ہونے کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان کا کہنا تھا ’اگر کانگرس انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو شاید وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں تھوڑی جھجک کا شکار ہو کیونکہ انہیں دائیں بازو کی جماعتوں کے ردِ عمل کا ڈر ہوگا۔‘ ’تاہم اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو جو کہ خود ایک دائیں بازو کی جماعت ہے تو شاید کشمیر کے معاملے پر کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انڈیا میں جمعرات سے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان کا انڈیا میں جاری صورتحال کے بارے میں کہنا تھا ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسی صورتحال دیکھوں گا جو انڈیا میں جاری ہے جہاں مسلمانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے مسلمان کبھی وہاں بہت خوش تھے لیکن کئی برسوں سے وہ ہندو انتہا پسند قوم پرستوں کے باعث کافی پریشان ہیں۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نریندر مودی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی طرح خوف اور قوم پرست جذبات کی بنیاد پر انتخابات لڑ رہے ہیں۔‘

بی بی سی کے مدیر عالمی امور جان سمپسن نے عمران خان سے پوچھا کہ وہ اس موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟  عمران خان کا کہنا تھا ’کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا‘ اور ’یہ مسئلہ ابلتا ہوا نہیں رہ سکتا ہے۔‘ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ متنازع علاقے کشمیر میں امن خطے کے لیے ’بہت زبردست ہو گا۔‘

عمران خان کا کہنا ہے کہ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔  پاکستانی وزیر اعظم کے مطابق پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم غربت کو کم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ’غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جو کہ کشمیر ہے۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے۔ اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور ہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی۔ لہٰذا اگر ہم کشمیر کو حل کر سکتے ہیں تو برصغیر میں امن کے زبردست فوائد ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں بھی بات کی۔  ’جب آپ جواب دیتے ہیں تو کوئی بھی اس بات کی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کہاں تک جائے گا۔ اگر انڈیا پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ چنانچہ اس صورتِ حال میں دو جوہری مسلح ممالک نے، میں نے محسوس کیا کہ یہ بہت غیر ذمہ دارانہ  تھا۔‘

ان سے پوچھا گیا اگر انڈیا کی حکومت کہے کہ آپ ابھی تک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کر رہے اور جیشِ محمد کا رہنما ابھی بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ آپ اسے گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی ان تنظیموں کو غیر مسلح کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں جیش محمد بھی شامل ہے۔ ’ہم نے ان کے مدارس کا کنٹرول سنھبال لیا ہے، ان کی تنظیمیں بھاگ گئی ہیں۔ یہ جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے بیرونی دباؤ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفادات میں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہیں ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...