بھارتی انتخابات: نریندر مودی کی کامیابی جھوٹے نعروں کی فتح ہوگی

ایک روز بعد بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگرس میں سخت مقابلے کی امید ہے لیکن بیشتر مبصر  نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم  منتخب ہونے کی پیش گوئی کررہے ہیں۔  اگرچہ اس کے ساتھ ہی یہ اندازے بھی سامنے آرہے ہیں کہ  بھارتیہ جنتا پارٹی   لوک سبھا میں شاید اپنی موجودہ  قوت  برقرار نہ رکھ سکے ۔ اس کا اندازہ شاید نریندر مودی اور ان کے قریب ترین ساتھیوں کو بھی ہے ۔ اسی لئے انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے    تقریروں میں قوم پرستی، پاکستان کے ساتھ دشمنی اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کو بنیادی موضوع بنایا گیا ہے۔

نریندر مودی   نے 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد کبھی علاقے میں قیام امن کے لئے سنجیدہ  کوشش نہیں  کی ۔   اسی لئے ان پانچ برسوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات دگرگوں ہوئے  اور دونوں طرف سے الزام تراشی کا سلسلہ  جاری رہا۔  تاہم پاکستان کی حد تک  یہ  دیکھا گیا ہے کہ نہ تو پاکستانی انتخابات میں بھارت کے ساتھ دشمنی کو بیچنے کی کوشش کی جاتی  ہے اور نہ ہی  یہاں سیاسی پارٹیوں میں  بھارت کے ساتھ مفاہمت اور تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے  دو رائے پائی جاتی ہیں۔ گزشتہ دو برس کے دوران پاک فوج نے بھی بھارت کے ساتھ  تعلقات کو معمول پر لانے کی بات کی ہے اور جنگ کے آپشن کو مسلسل مسترد کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے اسی مثبت مؤقف  کی وجہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے      بابا گرونانک  کی  550  سالگرہ کے موقع پر   کرتار پور راہداری کھولنے  کی پیش کش کی تھی جسے تحریک انساف کی حکومت نے عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات بھی کئے ہیں ۔ انتہائی کشیدہ ماحول میں بھی پاکستان اور بھارت کے وفود اس سال کے آخر میں  بابا گرونانک صاحب  کی سالگرہ کی تقریبات  کے موقع پر سکھ زائرین کو  گردوارہ   دربار صاحب کرتار پور لانے  کے لئے بات چیت کررہے ہیں۔

حکمران  بھارتیہ جنتا پارٹی نے  پاکستان کی  طرف  سے خیر سگالی کے اس پیغام  کو بھی مجبوری کی حالت میں قبول کیا ہے کیوں کہ نریندر مودی انتخابی سال میں اپنے ملک کی اہم  سکھ اقلیت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ تاہم اس کے علاوہ   بی جے پی اور  نریندر مودی نے  اپنی انتخابی حکمت عملی  کی بنیاد پاکستان دشمنی اور  بھارتی قوم پرستی پر رکھی ہے۔ فروری میں پلوامہ سانحہ کے بعد سے     حکمران بھارتی پارٹی کے جارحانہ رویہ میں  اضافہ ہؤا ہے۔ اس حملہ کی ذمہ داری جیش محمد پر ڈالتے ہوئے بی جے پی اور نریندر مودی نے بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی  ہے کہ  صرف ان کی  پارٹی   پاکستان کے ’جارحانہ ‘ عزائم سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور  نریندر مودی کی قیادت میں ہی کشمیر کو بھارت کا  مستقل حصہ بنا کر اس تنازعہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے گا۔

بھارتی حکومت نے پلوامہ سانحہ کے بعد جس میں  چالیس  فوجی   ہلاک ہوئے تھے ، مقبوضہ کشمیر میں عوام کے لئے زندگی تلخ بنانے  کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کشمیری لیڈروں کی حفاظت  پر مامور سیکورٹی عملہ ہٹا لیا گیا ہے اور علیحدگی کی جد و جہد کرنے والے لبریشن فرنٹ پر پابندی لگا کر اس کے لیڈر یاسین  ملک کو  گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کشمیر کی دیگر جماعتوں کے خلاف بھی کارورائی کے اشارے دیے جارہے ہیں ۔ تاہم اس حوالے سے سب سے بڑا    قدم دو  روز قبل  بھارتی  جنتا پارٹی کے پیش کئے جانے والے  منشور  میں    اٹھایا گیا ہے۔ پارٹی نے  منشور میں وعدہ کیا ہے کہ  وہ ایسے تمام قوانین کو ختم کردے گی جو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی اور خود مختار حیثیت دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ پارٹی کے نمائیندوں کا خیال ہے کہ اس بارے میں 1954 میں کی جانے والی آئینی ترمیم  سے بھارت  کی ایکتا متاثر ہوتی ہے اور کشمیریوں کو علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ البتہ اسی منشور میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کوئی بات کرنے  کی ضرورت محسوس نہیں  کی گئی۔

نریندر مودی اور ان کی قیادت  میں بی جے پی  نے پارٹی منشور  میں   کشمیر کے مسئلہ کا سبب  پاکستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی کو قرار دیتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ  کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں  لیکن پاکستان  علیحدگی پسند گروہوں  کی مدد اور فدائی حملوں  کی سرپرستی کے ذریعے حالات کو خراب کرتا ہے۔ پارٹی لیڈروں نے انتخابی مہم میں  یہ نعرہ بیچنے کی سر توڑ کوشش کی ہے کہ  صرف بی جے پی ہی  بھارت کی سالمیت کے خلاف پاکستان کے عزائم  کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔  پلوامہ کے بعد پاکستان کے خلاف ناکام فضائی کارروائی  کے  باوجود نریندر مودی  بھارت کے قوم پرست اور ہیجان کو فروغ دینے والے میڈیا کے  ذریعے  اپنے ووٹروں کو یہ باور کروانے میں کسی حد تک کامیاب ہورہے ہیں  کہ  پاکستان  کے ساتھ دشمنی نبھانے  کے لئے نریندر مودی کو ووٹ دیا جائے۔

 یہ دشمنی نبھانے کے لئے  پاکستان پر حملہ کرنے کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔ فروری  میں پلوامہ کا بدلہ لینے کے نام پر فضائی   بالادستی حاصل کرنے کی  کوشش میں بھارتی فضائیہ نے ایک طیارہ بھی گنوایا اور اس کا ایک پائلٹ بھی گرفتار ہؤا تھا۔  ا س کے  باوجود   بی جے پی   کی قیادت جنگ جوئی  کے ارادے سے باز نہیں آئی کیوں کہ ان نعروں کی وجہ سے ہی وہ  بھارت کے بھوکے ننگے عوام کو گزشتہ پانچ سال میں معاشی ناکامیوں  کے باوجود  اسی پارٹی کو ووٹ  دینے پر آمادہ کرسکتی ہے۔

حیرت انگیز طور پر بی جے پی کے منشور میں   معاشی بہتری، روزگار کی فراہمی  اور غربت کے خاتمہ جیسے بنیادی اور اہم سوالات  کو ضمنی انداز میں پیش کیاگیا ہے اور کشمیر   میں آزادی کی جد و جہد کو بغاوت اور پاکستان  کے خلاف  جنگ کو ’قومی مفاد‘ قرار دینے  پر زور دیا گیا ہے۔ پوری دنیا بھارتی فضائیہ کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے ، ان دعوؤں کی تردید کرچکی ہے کہ  بھارتی طیاروں نے  بالاکوٹ میں کامیاب  حملہ کیا تھا یا   پاکستان کا ایف ۔16 طیارہ مار گرایا  گیا تھا۔ لیکن بھارتی حکمران پارٹی نہایت ڈھٹائی سے   یہ جھوٹ اپنے عوام کو بیچنے  کی کوشش کررہے ہیں۔  

قوم پرستی،  کشمیری علیحدگی پسندوں  کو کچلنے اور  پاکستان سے ہونے والی ’دہشت گردی‘ کا جواب دینے کے نعرے  اس وقت نریندر مودی کا اہم ترین موضوع ہیں۔ وہ گزشتہ  پانچ سال کے دوران اپنی حکومت کی معاشی کامیابیوں  کا ذکر کرنے کی کوشش نہیں کرتے کیوں کہ اس طرح ان کی ناکامیوں  کے بارے میں سوال کئے جائیں گے اور عوام جان سکیں گے  کہ  ان کی حکومت  ملک اور اس کے لوگوں کی حالت بہتر بنانے یعنی ’سب کا وکاس‘ کے  وعدے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔   اس لئے اب  قوم پرستی اور قومی سیکورٹی کو انتخاب کا اہم ترین موضوع بنا کر کامیابی حاصل کرنے   کی کوشش میں  مصروف ہے۔

انڈین کانگرس پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی  کے اس چلن کو کسی حد تک چیلنج کرنے  کی کوشش کی ہے لیکن بھارت میں قوم پرستی اور ہندو توا  کی مذہبی  مہم جوئی کے ذریعے  خوف   اور حجت سے عاری سیاسی مکالمہ کا ایسا ماحول  پیدا کردیا گیا ہے  جس میں  انتہاپسندی کے خلاف بات کرنے والے کو ، بھارت کا دشمن قرار دینے میں دیر نہیں کی جاتی۔ کانگرس کے منشور میں اگرچہ  پاکستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا کوئی وعدہ نہیں  کیا گیا لیکن   سارک جیسی علاقائی تنظیموں کے ذریعے  بہتری کے لئے کام کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح  کانگرس نے مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی افواج کو قانون سے  استثنی دینے والے قانون  افسپا  میں مناسب ترمیم کا وعدہ کیا  ہے   تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ 

 ا س تجویز پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تبصرہ کرتے ہوئے  اپنی حکومت اور پارٹی کے انتہا پسندانہ چہرے سے خود ہی نقاب سرکا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ کانگرس کا منشور میں دیش دروہی اور الگ وادی لوگوں کے لئے خوشی کا پیغام ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم مودی پاکستان کی دہشت گردی کا  جواب سرجیکل اسٹرائیک اور ہوائی حملوں سے دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف راہول گاندھی بغاوت کو جرم ماننے سے انکار کررہے ہیں‘۔ سشماسوراج کے اس بیان سے  الزام اور جھوٹ کی بنیاد پر عوام کو گمراہ کرنے کے اس ماحول کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو جمعرات سے شروع ہونے والے بھارتی عام انتخابات سے پہلے بنا دیا گیا ہے۔ اس    ماحول میں  ووٹ کے لئے جانے والے 90 کروڑ بھارتی ووٹروں  کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ  ایک ایسے لیڈر کو منتخب کریں  جو خود کو ان کا ’محافظ‘ قرار دیتا ہے یا  کانگرس کے راہول گاندھی کو ایک موقع دیں جو  جذباتی کیفیت ختم کرکے،    ملک کو نریندر مودی کے سحر سے نکالنے کے لئے  ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔

نریندر مودی کی جیت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں مقبول نعرے اور جھوٹ  پر سیاست کی کامیابی ہوگی۔  یہ جیت بھارت  میں سیکولر روایت   کے لئے بھی دھچکہ ثابت ہوگی اور ان اندیشوں میں اضافہ کا سبب بنے گی کہ جمہوری انتخاب   کے منفی نتائج بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔  اور  ووٹ کی طاقت انتہاپسندوں کو اقتدار بھی سونپ سکتی ہے۔

loading...