افتخار بھٹہ کی کتاب ’ انسان ، سماج اور معاش‘ کی تقریب

  • منگل 09 / اپریل / 2019
  • 990


گجرات کے المیر ٹرسٹ لائبریری و ادارہ تحقیق وتالیف کے زیراہتمام ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار افتخار بھٹہ کے کالموں کے مجموعہ ’’ انسان، سماج اور معاش ‘‘ کی تقریب رونمائی کے موقع پر صدر پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب اور سابق وفاقی وزیر چوہدری قمرزمان کائرہ نے کہاکہ افتخار بھٹہ کاشمار پاکستان کے اعلیٰ پائے کے کالم نگاروں میں ہوتاہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے موضوعات میں عام آدمی کے مسائل، سرمایہ داروں کا ظلم وستم، ترقی پذیر ممالک کی معیشت اور سماج پر گلوبلائزیشن کے اثرات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ سابق بینکار ہیں اور عالمی معیشت کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں ۔ انسانی سماج کی تلخیوں سے واقفیت کی بناپر معاشرتی وسیاسی حالات کی صحیح تصویر کشیکرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انسان، سماج اور معاش کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے بھٹہ صاحب کی کتاب کامطالعہ تو ہر کسی کوکرناچاہیے لیکن یہ سیاسیات اور معاشیات کے طالب علموں کی تو ناگزیر ضرورت ہے۔ بھٹہ صاحب ادبی، سماجی، سیاسی ومعاشی حوالوں سے پاکستان کے تحقیقی وتخلیقی افق پر گجرات کی پہچان ہیں۔انہوں نے پاکستان میں سیاسی و معاشی پیچیدگیوں پر بڑے مؤثرانداز میں قلم اٹھایاہے۔ ان کے کالموں میں سوچنے سیکھنے اور ذہن کے بند دریچوں کو کھولنے کیلئے بہت کچھ ہوتاہے۔
ممتاز دانشور اور تجزیہ نگارپروفیسر شیخ رشید نے کہاکہ بھٹہ صاحب کی تحریریں قارئین کیلئے علم و آگہی کاذریعہ ہیں۔وہ ایک نظریاتی انسان ہیں اور انہیں اپنے نظریات پر اس قدر لگاؤاور پختہ یقین ہے کہ ان پر مضبوطی سے پورے فخر کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ ماضی میں نامور ترقی پسندمیدان چھوڑ چکے ہیں۔انہوں نے منڈی کی معیشت، سرمایہ داری اورنیولبرالازم کی ابدی سچائیوں کوپالیاہے۔ وہ ایک سچے اور کھرے عوامی دانش ور ہیں جو کہ اپنی مٹی، تاریخ، روایات اورلوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے قلم کی سیاہی اور اپنے وجود کے اندرموجود خون کے ہر قطرے کومظلوم، محکوم اورپسماندہ طبقات کے حقوق اور مفادات کیلئے استعمال کیاہے اور قلم کی حرمت کوہمیشہ مقدم رکھاہے۔وہ نامور ترقی پسند ہونے کے باوجود مذہبی رجحان رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے نماز بھی اداکرتے ہیں۔
صدر پریس کلب راجہ تیمور طارق نے کہا کہ افتخار بھٹہ صحافت اور ادب میں استاد کادرجہ رکھتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے لکھتے ہیں اور نئے لکھاریوں کیلئے رول ماڈل ہیں۔ بزرگ ترقی پسند مزدور رہنماحافظ آفتاب شاہ نے اس موقع پر کہاکہ افتخاربھٹہ عوامی لکھاری ہیں ان کارویہ دانشوراشرافیہ سے بالکل مختلف ہے۔ چار پانچ دہائیوں گزرجانے کے باوجود ان کی تحریروں میں یکسانیت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔اس موقع پر نامور ترقی پسند رہنماسیّد باقر رضوی نے کہاکہ انہیں افتخار بھٹہ کی دوستی اور تعلق پر فخر ہے۔ وہ جتنے پرانے کالم نگار ہیں اس سے بھی پرانے انسان ہیں۔ وہ عاجزی اور انکساری کاپیکر ہیں ان کاشمار گجرات کے قدآور دانشوروں اور ملکی سطح کے لکھاریوں میں ہوتاہے جن میں اکبر علی ایم اے ، پروفیسر شبیر حسین شاہ، فخرزمان، چوہدری اعتزاز احسن اور اکبصغر علی گھرال شامل ہیں
۔بنکنگ میں مصروفیات کے باوجود عوامی شعوروآگہی کیلئے اپنابھرپور حصہ ڈالاہے۔چوک پاکستان میں ان کی سابقہ رہائش اہل علم ودانش کاگہوارہ تھی۔ممتاز محقق اور تاریخ دان عارف علی میر ایڈووکیٹ نے بھٹہ صاحب سے 60سالہ تعلقات کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد معراج الدین جلالپوری مرحوم ان کے والد غضنفر علی میر اورنامور شاعر اور دانشورشریف کنجاہی کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے بتایاکہ بھٹہ صاحب کاشماران کے ادارہ کے بانیوں میں ہوتاہے اور انہیں ان کی شخصیت اور فکرانگیز تحریرروں سے گہری رغبت ہے۔
ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت خالدپرویز منگا نے کہاکہ وہ بھٹہ صاحب کے ترقی پسند نظریات سے متاثر ہیں اور انہی کی وجہ سے انہوں نے بائیں بازو کی سیاست کاانتخاب کیاہے۔بھٹہ صاحب اکبر علی ایم اے اور ڈاکٹر غلام جیلانی کے شاگرد رہے ہیں اور اپنی فکرانگیزتحریروں سے روشن خیالی اورعوامی حقوق کیلئے قلمی جدوجہد کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔ممتاز سماجی کارکن نثارالدین ساجد راٹھورنے اپنے خطاب میں کہا کہ بھٹہ صاحب کا قربان طاہر مرحوم سے نظریاتی تعلق تھاوہ بڑے شریف النفس اورکھرے انسان ہیں۔حلقہ ارباب شعور کے سرپرست اعلیٰ میاں عمران رشید نے کہا کہ ان کے والد ٹھیکیدار میاں رشید مرحوم بھٹہ صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کے بڑے معترف تھے۔ ممتاز صحافی اور قلمکار اشفاق ایاز نے اپنے خطاب میں کہاکہ 100سے زائد مضامین پر مشتمل ان کی کتاب ’’ انسان، سماج اور معاش‘‘کی بیشتر تحریریں ہمارے معاشرتی، سیاسی اور معاشی حل پیش کرتی ہیں اور ان کی مدد سے ملک کو درپیش چیلنجزسے نکالاجاسکتاہے۔
تقریب رونمائی میں ممتاز تجزیہ نگار پرویزاقبال اور شاعرولکھاری احسان فیصل نے نظم پیش کی اور بھٹہ صاحب کے قریبی دوست خالد لون نے بھی بھٹہ صاحب کے ساتھ اپنا رفاقت کامختصر مگر دلچسپ اورجامع تذکرہ کیا۔  

loading...