عاجز و شریف ملزمان اور دو سرکاری گواہوں کے گرداب میں قومی منظر نامہ


 

یہ  سوال  کرنا شاید غیر ضروری ہے کہ کیا تاریخ  خود کو دہرا رہی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کے ستر مختصر برسوں  میں تاریخ نے خود کو مسلسل دہرایا ہے  ۔   اسے ترتیب دینے والوں  نے اپنے گزرے ماہ و سال سے سبق سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں  کی۔ اسی لئے آنے والے وقت نے بھی  اپنی  شکل و صورت  تبدیل کرنے کی  ضرورت محسوس نہیں  کی۔

پاکستانی سیاست پر اس وقت بے یقینی کا سایہ ہے۔ چہ میگوئیاں سر اٹھائے ہر پریشان حال پاکستانی  کے دل و دماغ کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں خبر آئی ہے  کہ آصف زرادری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں دو ’معاون ملزم ‘  جو اتفاق سے خواتین بھی ہیں اور جو اتنی مفلوک الحال ہیں   کہ خود اپنا وکیل کرنے کی استظاعت بھی نہیں رکھتیں ، عدالت سے درخواست گزار ہوئی ہیں  کہ انہیں ’سرکاری ‘ گواہ بنا لیاجائے تاکہ وہ بڑے مجرموں کے خلاف سب راز اگل دیں اور اس قوم  کی دولت  کو لوٹنے والے  اپنے انجام کو پہنچیں۔ سوچنا چاہئے کہ  کیا  یہ قوم کبھی ان  نامعلوم محسن خواتین کا  احسان  چکا پائے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کل خبر دی تھی کہ بھارت کی حکمران جماعت انتخابات میں  سرخرو ہونے کے لئے پاکستان پر حملہ کرنے کی  منصوبہ  بندی کررہی ہے۔  سارے پاکستان  کے لئے یہ  بیان  ایک غیر متوقع  جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ ملک کے وزیر خارجہ  بھاری بھر کم ہمسایہ ملک  کے حملے کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں لیکن  ملک کی عدالتیں  اس خطرے سے بے فکر انصاف فراہم کرنے  میں مصروف ہیں۔  کہیں حمزہ شہباز کی ضمانت  کا اہتمام کیاجارہا ہے اور کہیں  نئی نویلی سرکاری گواہوں کا بیان ریکارڈ ہو رہا ہے۔  حکم ہے کہ  منی لانڈرنگ کیس میں کسی ملزم کو غیرحاضر رہنے  کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کیا ہؤا کہ ہزاروں  پولیس اہلکار وں  کو بدعنوان لیڈروں  کی حفاظت پر مامور کرنے سے قوم کا بیش قیمت سرمایہ   صرف ہوتا ہے۔ لیکن انصاف کے تقاضے تو پورے ہوتے ہیں۔  اسی لئے تو آج کے ’عاجز‘ ملزم نے کل کے ’شریف‘ کی   شرافت  کی گواہی  دی ہے۔    نوشتہ دیوار البتہ یہی ہے  کہ یہ لوگ سیاست میں جو چاہے رنگ آمیزی کرلیں ،  بے لاگ احتساب  ہر اس گناہ گار کا حساب  کرے گا جس نے قوم کی دولت لوٹی ہے۔

پاکستانی سیاست میں احتساب کے اس کھیل  کے سارے داؤ پیچ جانے پہچانے ہیں  لیکن حیرت کی بات ہے کہ اسے کھیلنے اور دیکھنے والوں  کی دلچسپی  ایک لمحے کو کم نہیں ہوتی۔  گو کردار بدلتے رہتے ہیں  لیکن کٹھ پتلیوں  کو ہلانے والے ہاتھوں  کی جنبش،  حرکات اور طریقے  میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔  سب جانتے ہیں کہ پردے کے پیچھے سے اس کھیل کے کرداروں کو  بھاگنے، رقص کرنے  یا اودھم مچانے پر کون سی حرکت کیسے  آمادہ کرتی ہے ۔  اس کھیل میں ہر ادا اور حرکت کا وقت اور مقصد واضح اور متعین ہے۔ 

کوئی کردار کوئی ایسا کام کرنے کا تصور  بھی نہیں کرسکتا جو اسے تفویض نہ کیا گیا ہو۔  ان کرداروں کو بھی معلوم ہے کہ اس ناٹک کے بعد اگر انہیں  نئے ڈرامے میں جگہ پانی ہے تو اپنا کردار خوبی سے نبھانا ہوگا۔ پس پردہ انگلیوں کے اشاروں   اور حرکتوں پر ویسے  ہی محو رقص ہونا ہوگا ، جو ان کے کردار میں لکھ دیاگیا ہے۔  یہ  پتلیاں کیاجانیں کہ اس  منظر کے بعد  جب پردہ گرایا جائے گا تو کتنے   زمانے بیت چکے ہوں گے۔ تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہوگا۔ وقت کا دھارا نئے موسموں کی خبر دے رہا ہوگا۔  انہیں تو یہ خبر ہے کہ وہ  سجے ہوئے اسٹیج سے اتار دیے گئے تو   شاہ پرستی  کی صدیوں پرانی  روایت کو داغ لگ جائے گا۔

   یہ کردار جو بظاہر  کاٹھ کے الوّ لگتے ہیں ، دراصل  جیتے جاگتے  لوگ ہیں  جو خواہشوں اور امیدوں کی فصل کو بارآور دیکھنے کے لئے محو رقص ہیں۔ بیٹھ جا  ، کھڑا ہوجا، بھاگ، لیٹ،  بال اٹھا،  اور اب قلابازی کھا جمہورے۔ جمہورا گھوم جاتا ہے۔  جمہورے کا اور مقصد ہی کیا ہے۔  جمہورا روپ بدلنے اور حکم پر کان دھرنے  کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ اسی لئے   وقت کا پہیہ گھومتا ہے لیکن  جمہورا قائم رہتا ہے۔ قوم  اپنی تقدیر کو روتی ہے لیکن جمہورا راضی برضا  ہے۔ اس کا ہر دن عید اور   ہررات شب برات ہے۔    کہتے ہیں کہ جہاں جمہورے کی عید ہو وہاں قوموں کی تقدیر  میں خزاں کا موسم مرقوم رہتا ہے۔

سیاست کے منظر نامہ  میں اب کسی حد تک دو  سرکاری گواہوں  کی پرداخت اور اعتراف سے  رنگ   جمائے جائیں گے۔ کچھ  رنگ پھیکے پڑیں گے تو بعض  کونپلیں  از سر نو پھوٹنے  لگیں گی۔ لیکن کیا یہ تبدیلی  اس اندیشوں کو ٹال دے گی جس کی خبر شاہ محمود قریشی لائے ہیں  یا  اس معیشت کو برگ و بار عطا کرے گی جس کے بارے میں  اسد عمر نے فرمایا  ہے کہ اب استحکام کی طرف رواں ہے۔    خوش کلام اسد عمر سے پریس کانفرنس میں کوئی یہ پوچھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ یہ کیسا استحکام ہے کہ غریب کے گھر کا چولہا جل نہیں پاتا۔  جس گھر  کا چولہا چل سکتا ہے، وہ اسے  جلانے کا حوصلہ نہیں کر پاتا  کہ گیس کا بل ادا کرنے کی استظاعت نہیں ہے۔  نظام  کے  اصلاح کی گونج سنائی دیتی ہے لیکن نظام  نام  کی کوئی شے دکھائی نہیں دیتی۔ اصلاحات کا غوغا ہے  لیکن سب راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ تضادات کا سماں   قومی  موسموں  کا مستقل حصہ  بن چکا ہے۔ یہ موسم کیسے تبدیل ہوں گے۔ نیا پاکستان کیسے بنے گا؟

ہمیں  تو یہ مذاکرہ کرنے کا  حق بھی نہیں دیا گیا کہ  جان سکیں  کہ نئے پاکستان کا نعرہ  کن معنوں میں دلکش اور کن معنوں غیر ضروری ہے۔ پوچھ سکیں کہ  پرانے پاکستان میں کیا قباحت تھی کہ اسے ڈھا کر نیا پاکستان بنانے  کی ضرورت آن پڑی۔ اور یہ نیا پاکستان اپنی تخلیق کے ساتھ ہی  بیمار سا کیوں لگنے لگا ہے۔ اسے پرانے پاکستان  کے سارے عارضے کیوں لاحق ہوگئے  ہیں ۔ کیا اس مریض کو بھی اسی شفاخانے سے دوا ملتی ہے  جہاں کے مریض  کبھی  صحت یاب نہیں ہوتے۔

نیا یا پرانا یہ سارے سراب کے نام ہیں ۔ کیا اس دھوکے کو پہچان لیا گیا ہے جو اس قوم کو اندھیروں میں رکھنے کے  لئے مسلسل دیا جاتا رہا ہے۔ جس نئے پاکستان میں سیاست کے سارے کردار پرانے اور سوچ کا ہر دھارا قدیم ہو۔ جس قوم کی قیادت نیا راستہ کھوجنے سے انکار  کرتے ہوئے   طرز کہن پر  سفر کو منزل قرار دیتی ہو۔ اس قوم   کے سفر کا انجام  روشن راستوں   پر کیوں کر ہوسکتا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اندھیروں کی مسافت میں دیا ہاتھ نہیں آسکتا۔

پاکستان  ایک مشکل مرحلے میں ہے۔ دشمن کے حملے کا خطرہ ہے۔ معیشت گھر کا خرچہ پورا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ امن کے دنوں میں  پیٹ نہیں بھرتی تو جنگ کی حالت میں  تو آشیانے جلا کر راکھ کردے گی۔ جنگ کی خبر دینے والے  لیڈر امن کا  پیغام دینے میں ناکام ہورہے  ہیں۔  خوشحالی اور غریبوں  کے ’احساس‘ اور  ’تحفظ‘ کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ  جنگ کے ماحول میں  یہ انہونی  کیسے وقوع پذیر  ہوگی۔ اسد عمر جادو کا ایسا کون سے چراغ  رگڑیں گے کہ  جنگ کا دیو  بھی دھمال ڈالتا رہے اور  معیشت  بھی مستحکم ہوتی رہے۔

معیشت کے استحکام کے لئے سیاسی  مفاہمت اور عالمی  قبولیت کی ضرورت ہے۔ نیا پاکستان ان دونوں عناصر سے محروم ہے۔  احتساب  کا کھیل  مفاہمت  کا راستہ کاٹتا ہے اور  قومی سلامتی  کا  محبت نامہ  دنیا بھر کے ملکوں کو بدگمان کرتا ہے۔    نئے پاکستان   کی پیشانی پر ناکامی  کا پیغام خود اس کے بانی اپنے دست مبارک سے ثبت کررہے ہیں۔     یہ ناکامی  اس ملک میں آباد 22 کروڑ انسانوں کی زندگی کی رہی سہی راحتیں  بھی سمیٹنے کا پیغام  بن سکتی ہے۔  مسئلہ کبھی بھی بانیان کا نہیں رہا بلکہ اس دھرتی کے غریب و لاچار عام آدمی کا ہے۔

سرکاری گواہوں کی تاریخ دہرانے ولا  نیا پاکستان  دھرتی واسیوں  کے  لئے ایک  نئے   بنجر موسم کی خبر لارہا ہے۔

loading...