کیا سیاسی لیڈروں کے علاوہ اس ملک میں سب ایماندار ہیں؟

قومی احتساب بیورو   گزشتہ کچھ عرصہ سے  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی  کے لیڈروں کی گرفتاری  کے ذریعے اپنی اتھارٹی اور قانون کی بالادستی ثابت کرنے کی  ’کامیاب‘ کوشش کرتا رہا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران  نیب نے ماڈل ٹاؤن  لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے   لیڈر اور پنجاب اسمبلی میں  اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے  کے لئے دھماچوکڑی مچائی ۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے فی الوقت اس ہیجان کو ختم کرتے ہوئے  نیب کو سوموار تک صبر کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس روز  ہائی کورٹ  حمزہ شہباز کی  قبل ا ز وقت گرفتاری   درخواست ضمانت  پر باقاعدہ غور کرے گی۔

ہائی کورٹ کے حکم  بعد نیب کے اہل کاروں اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے  قانون نافذ کرنے والے اداروں نے   ماڈل ٹاؤن میں  حمزہ شہباز کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا ہؤا تھا اور مختلف میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے  نیب کے ترجمان نے  دعویٰ کیا تھا کہ آج حمزہ شہباز کو لازمی گرفتار کرلیا جائے گا۔ گزشتہ روز  نیب  کی ٹیم حمزہ  شہباز کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی ۔ حمزہ شہباز اور مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ  نیب کے پاس  انہیں   گرفتار کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں  ہے۔ جبکہ  نیب کا کہنا ہے کہ اس نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے ہیں اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے  کے جرم میں  حمزہ شہباز کی گرفتاری  بے حد ضروری ہے۔   لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد نیب کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کے لئے دو روز ملے ہیں کہ وہ سوچ سکے کہ کیا ملک کے اہم سیاسی لیڈروں کے خلاف  سنسنی خیز اقدامات،  الزامات کی روشنی میں انہیں گرفتار کرنے اور پھر عدالتوں میں  یہ ثابت کرنے  پر وسائل، صلاحیت اور وقت برباد کرنے کی بجائے کہ اس کا فیصلہ درست تھا کہ نہیں، کیا    ان وسائل کو کسی  بامقصد طریقے سے  بھی استعمال  کیا جاسکتا ہے ؟

اس کے ساتھ ہی ملک کی حکومت کے لئے بھی یہ وقفہ اہم ہوگا۔ اسے بھی اطمینان سے یہ سوچنا چاہئے کہ ملکی معیشت اور پاکستان کی سالمیت کو جو اندیشے اورخطرے لاحق ہیں ، کیا ان کے ہوتے وزیروں اور حکومت کے نمائیندوں کو اپنی صلاحیتیں،  نیب  کے اقدامات کی وکالت کرنے  پر صرف کرنی چاہئیں  یا ان پر   معاشی معاملات کو بہتر کرنے، ملک میں استحکام پیدا کرنے، سیاسی ہیجان کی کیفیت کو کم کرنے اور  اسمبلیوں میں بہتر ورکنگ ریلیشنز کا آغاز کرنے  کے حوالے سے بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔   ملک میں  مہنگائی  کی شرح دس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔  نئی سرمایہ کاری  کے آثار معدوم ہیں جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہونا ممکن نہیں ہوگا۔  جون میں اس حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرنے سے پہلے وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف سے  کوئی نہ کوئی معاہدہ کرنے کی ضرورت  ہے تاکہ معیشت پر عدام اعتماد کم کرنے کے لئے فوری طور  پر وسائل حاصل کئے جاسکیں ۔ اس کے باوجود وزیر اعظم سے لے کر کابینہ کے ارکان  اور   تحریک انصاف کے  قائدین تک  کرپشن  کے خلاف بیانیہ  فروخت کرنے   کی سر توڑ کوشش کررہے  ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت   کامؤقف ہے کہ  ’چور اچکوں اور لٹیروں‘   کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جاسکتا۔   عمران خان کی قیادت میں   حکومت اور  حکمران  جماعت  کا واضح اور دو ٹوک  انداز سے کہتے ہیں  کہ   ان لوگوں  کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے کی بجائے انہیں جیلوں میں ڈالنا اہم ہے۔  یہ مؤقف اختیا رکرکے دراصل حکومت اپنے مسائل میں اضافہ بھی کررہی ہے اور ملکی قانون کے تحت  الزام ثابت ہونے سے پہلے سزا نہ  دینے کے اصول کو بھی مسترد کررہی ہے۔ اسی طرح  تحریک انصاف کی قیادت ملک میں نافذ اس جمہوری انتظام کو بھی تسلیم کرنے سے انکار   کررہی ہے کہ  عوام کے ووٹ لے کر اسمبلیوں  میں آنے والے  لوگ ہی درحقیقت لوگوں کے نمائیندے ہوتے  ہیں۔ ان میں جس پارٹی کو اکثریت کی حمایت حاصل  ہو جاتی ہے ، وہ حکومت بنانے  میں کامیاب ہو جاتی ہے  اور جو پارٹی یا گروہ حکومت کا حصہ بننے  سے معذور رہتے ہیں، وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر قانون سازی اور امور مملکت میں حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔یا اس کے غلط فیصلوں اور اقدامات پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔

 اگر کوئی حکومت اپوزیشن لیڈروں پر ’چور اچکے ‘ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے  ، آئینی تعاون سے انکار کرتی ہے۔ اور اسمبلیوں کے تعطل کو اپوزیشن کی ہٹ دھرمی اور  بدعنوانی  پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دے کر خود کو درست اور جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔  تو یہ طریقہ کار  ملک  کے جمہوری انتظام پر عدم اعتماد کے علاوہ اس بات   کا اظہار بھی ہے  کہ  جن لوگوں نے  حکمران پارٹی کے علاوہ  دوسری پارٹیوں  کو ووٹ   دیے ہیں ، وہ   درست فیصلہ نہیں تھا۔ کسی جمہوریت پسند لیڈر  سے جو جمہوری عمل کے ذریعے  اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہؤا ہو ، اس  رویہ کی نہ توقع کی جاتی ہے اور نہ ہی اس قبول کیا جانا چاہئے۔

یہ کہنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں  ہے کہ  منتخب ہونے والے لوگ خواہ وہ اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہوں یا  کسی طریقے سے حکومت کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گئے ہوں ،  ان  کے جرائم  کو نظر انداز کردیا جائے۔  لیکن اس مقصد کے  لئے قانون اور اسے نافذ کرنے والے اداروں    کو کام کرنے دیاجائے۔ قومی احتساب بیورو کی کارکردگی اور ماضی میں اس کے  کارنامے اس قابل نہیں  ہیں کہ اسے  ملکی سیاست میں کھل کھیلنے اور  بادشاہ گر ہونے کا کردار ادا کرنے کا حق تفویض کردیا جائے۔ حکومت ایک طرف احتساب  کو صرف جرائم  تک محدود کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے   یہ اعلان کرتی ہے کہ  نیب اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے خود مختار ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ انتقام کی سیاست  نہیں کرنا چاہتی۔  تاہم اس وقت احتساب کے نام پر جتنے لیڈروں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے اور ان پر جیسی پابندیاں عائد ہیں، وہ کسی  بھی حکومت  کے لئے  اخلاقی  بوجھ سے کم نہیں ۔     حکومت  کے سارے نمائیندے وقفے وقفے سے اپنے سیاسی مخالفین   کو جیلوں میں بھیجنے  کی خبر دیتے رہتے ہیں۔   حکومت اور نیب کے درمیان  اس تال  میل کو   بدعنوانی کے نام  پر قانون  سے انحراف اور  کرپشن  کی ایک نئی قسم قرار دیا جاسکتا ہے۔

عمران خان کو خبر ہونی چاہئے کہ  تحریک انصاف کو قومی اسمبلی یا پنجاب میں   اکثریت حاصل نہیں  ہے۔ یہ اکثریت کیسے حاصل کی گئی، اس بارے میں  مختلف آرا موجود ہیں۔ اسی لئے  اپوزیشن لیڈر  وزیر اعظم کو  منتخب کی بجائے ’نامزد‘ ہونے کا طعنہ بھی دیتے ہیں۔  عمران خان  تحمل سے کام لیتے ہوئے اور احتساب  کو سیاسی منفعت کے لئے استعمال کرنے  سے گریز کرکے اس طعنہ کا اثر زائل کرسکتے تھے۔  تاہم  لاہور میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے  نیب نے دو روز تک   جس طرح تماشہ لگایا ہے اور میڈیا میں اسے جس طرح  بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، اس سے   حکومتی  سیاست و حکمت اور نیب کی غیر جانبداری دونوں  کے بارے میں شبہات نے جنم لیا ہے۔ اس لئے ہائی کورٹ نے پنجاب کے اپوزیشن لیڈر   کی گرفتاری میں  دو روز کا وقفہ دے کر جو مہلت دی ہے ، حکومت کو بھی اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔

ملک میں یہ خبریں عام ہیں کہ جس طرح عمران خان کے لئے اکثریت حاصل کی گئی تھی، وہ طریقہ کسی دوسرے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔  ان خبروں کا مقصد خواہ کچھ بھی ہو اور   یہ ساری قیاس آرائیاں بے بنیاد اور جھوٹ ہونے کے باوجود،   عوام کے لئے پریشانی اور ملکی معیشت کے لئے  بدحالی کا سامان فراہم کررہی ہیں۔ اس بےیقینی کو ختم کرنا بہر حال حکومت کی ذمہ داری ہے کیوں کہ معیشت کو درست راہ پر ڈالے بغیر صرف نعرے لگانےاور الزام تراشنے سے  نہ سیاسی استحکام حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی   معاشی  بہتری کا اقدام ہو سکتا ہے۔   حکومت اور عمران خان کو جاننا  چاہئے کہ ملک زیاد ہ دیر تک اس قسم کی بے یقینی  کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت اس وقت زیر بار ہے اور اسے  گوناں گوں مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔  لیکن  اس کے ساتھ ہی اسے یہ سمجھنے کی ضرورت  ہے کہ  سیاسی نعرے ٹھوس حکمت عملی اور معاشی منصوبوں کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ اسی  لئے نعروں کی عمر ایک  جلسہ اور ایک خبر سے زیادہ نہیں ہوتی۔  تحریک انصاف کو طویل انتظا ر کے بعد حکومت سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔ اسے یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔   ملک کو درپیش بحران کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن حکو مت  اگر بردباری اور  ٹھوس حکمت عملی سے کام  نہیں لے گی  تو اس کا سارا بوجھ اس کی نااہلی کو قرار دیا جائے گا ۔ اس طرح نہ اداروں کا اعتماد  باقی رہے گا اور نہ ووٹروں کی طرف سے  تائد کی توقع کی جاسکے گی۔

کرپشن کے خاتمے کے لئے حکومت  اور  نیب دونو ں کو اپنے رویہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔  موجودہ  طریقہ کار نیب کے علاوہ حکومت کی  نیت پر شبہا ت میں اضافہ کررہا ہے۔ نیب  پر حکمرانوں  کا آلہ کار بننے  کی باتیں کی جارہی ہیں جو کسی بھی قومی ادارے کی  کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہیں۔ نیب کو سوچنا چاہئے کہ  کیا اس ملک میں صرف اپوزیشن کے قائدین ہی گناہ گار اور کسی مالی جرم میں ملوث رہے ہیں  کہ ساری توانائیاں صرف بڑے لیڈروں  کو ہراساں کرنے پر صرف کی جارہی  ہیں۔

حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ  نیب قانون کی کمزوریوں کے بارے  میں عمومی سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ یہ  اظہر  من الشمس ہے کہ اس قانون کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تحریک انصاف دوسری دونوں  بڑی پارٹیوں   کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے   اس قانون  کے عیوب کو نظر انداز کررہی ہے۔ تاہم اگر وہ اس قانون کا نظر ثانی شدہ  مسودہ  پارلیمنٹ میں لائے اور نیب  کی اصلاح کا عندیہ دے تو اس سے اس کی نیک نیتی  بھی سمجھا جائے گا اور  ملک میں  حقیقی احتساب  کا نظام  بھی استوار کیا جاسکے گا۔

تحریک انصاف یہ حوصلہ  کرنے میں کامیاب ہوسکے تو  وہ ملک میں احتساب کے لئے شفاف نظام قائم کرنے کا  کریڈٹ لے سکتی ہے۔ یہ کام اس کے انتخابی منشور اور کرپشن  ختم کرنے کا مقصد  حاصل کرنے کے عین مطابق ہوگا۔    اس کے برعکس  نیب کو  ماضی کی طرح سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی روایت تحریک انصاف کی مشکلوں  میں اضافہ کرے گی۔

loading...