آزادی اظہار کیوں ضروری ہے؟

چند دن پہلے کی بات ہے میرا نو سالہ بیٹا اور میں اس کی تیراکی کی مشق سے واپس آ رہے تھے کہ ہمارے درمیان گفتگو شروع ہو گئی۔ اس نے کہا کہ سکول میں اس کی ٹیچر نے اس کو اور اس کے ہم جماعتوں کو اپنی اپنی زندگیوں کے مقاصد لکھنے کا کہا۔ میرے بیٹے نے لکھا کہ اس کی زندگی کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ تیراکی کے اولمپک مقابلوں میں حصہ لے۔ ”لیکن ہماری ٹیچر نے کہا کہ ہمیں صرف اپنے تعلیمی مقاصد تک محدود رہنا چاہیے مثلاً ریاضی میں مہارت وغیرہ، “ وہ جلدی سے بولا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس کی زندگی کا مقصد وہی رہے گا جو وہ چاہتا ہے قطع نظر اس کے جو وہ کلاس میں لکھ کر آتا ہے۔ اس نے جواباً کہا، ”وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر میری آزادی اظہا رکیا ہوئی؟“

اس دن سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ میرا نو سالہ بیٹا اپنی آزادی اظہار کے بارے میں اس قدر حساس ہے اور میں کیوں نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ امریکہ میں پل بڑھ رہا ہے جہاں آزادیء اظہار کو فرد کا پیدائشی حق سمجھا جاتا ہے اور امریکی آئین اس پیدائشی حق کا تحفظ کرتا ہے۔ میرے بیٹے کے برعکس میں پاکستان میں پلا بڑھا جہاں ایک طرف تو آزادی آظہار کو کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں اور دو سری طرف فرد کی آزادی اظہار مختلف سماجی، ثقافتی، مذہبی، اور سیاسی پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میرے والدین، اساتذہ، یا کسی بزرگ رفیقِ کار نے کبھی بھی مجھے آزادی اظہار کے بارے میں کچھ بھی بتایا ہو۔

امریکی آئین کی ترمیمِ اول کے مطابق، ”کانگریس ایسا کوئی قانون نہیں بنائے گی جو کسی شہری کی مذہبی آزادی میں مداخلت کرے یا کسی مذہب کو ترجیحی درجہ دے ، یا کسی کی آزادی اظہار پر کسی قسم کی پابندی لگاتا ہو یا کسی شخص یا پریس کی آزادی اظہار کو محدود کرتا ہو یا لوگوں کے پُرامن اجتماع کے حق پر کوئی پابندی عائد کرتا ہو یا کسی تکلیف کے ازالے کے سلسلے میں حکومت کو عرضداشت جمع کرانے کے حق پر کسی قسم کی پابندی عائد کرتا ہو۔“

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق ”ہر شہری کو اظہارِرائے کی آزادی ہو گی اور پریس کو بھی آزادی حاصل ہو گی لیکن یہ آزادی اُن معقول پابندیوں کے تابع ہوگی جو عظمتِ اسلام یا پاکستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے کی سالمیت، تحفظ، اور دفاع یا غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط، پبلک آرڈر، حیاداری، توہینِ عدالت، اور کسی جرم پر اکسانے کے سلسلے میں عائد ہوں گی۔ “

نکتے کی بات یہ ہے کہ امریکی آئین کی ترمیمِ اول فرد کو آزادی اظہار عطا نہیں کرتی۔ ترمیمِ اول یہ فرض کر لیتی ہے کہ آزادی اظہار فرد کا پیدائشی حق ہے اور یہ کہ انسان جب دنیا میں آتے ہیں تو اپنی آزادی اظہار ساتھ لے کر آتے ہیں اور ریاست اس آزادی اظہار پر کسی بھی قسم کی کوئی بھی پابندی عائد کرنے کی مجاز نہیں۔ ترمیمِ اول اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ریاست کسی بھی طرح فرد کی آزادی اظہار پر کو ئی پابندی نہ لگا سکے۔ ترمیمِ اول آزادی اظہار عطا نہیں کرتی بلکہ آزادی اظہار کے پیدائشی حق کی حفاظت کرتی ہے۔

امریکی آئین کی ترمیمِ اول کے برعکس پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 یہ قطعاً فرض نہیں کرتا کہ آزادی اظہار فرد کا پیدائشی حق ہے۔ آرٹیکل 19 یہ فرض کرتا ہے کہ ریاست فرد کو آزادی اظہار کا حق چاہے تو عطا کر ے اور چاہے تو چھین لے۔ آرٹیکل 19 فرد کو آزادی اظہار کا حق دیتا تو ہے لیکن اسے بہت سی مبہم پابندیوں کا تا بع کر دیتا ہے۔ جِن معقول پابندیوں کا ذکر آرٹیکل 19 میں ہے اُن کی معقولیت کا فیصلہ کون کرے گا؟

اور یہاں لفظ ”معقول“ سے کیا مراد لی گئی ہے؟ عقل کا وہ کون سا ذخیرہ ہے جس کی مدد ہے ہم اُس ”معقولیت“ تک پہنچ سکتے ہیں جو ہمیں آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے کے لیے درکا ر ہے؟ دوسرے الفاظ میں، اس ”معقولیت“ کا مآخذ کیا ہے؟ آئین اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ یہ معقولیت ہمیں سماجی اقدارمیں یا ثقافتی رواجوں میں یا مذہبی عقائد میں یا عقلی دلائل میں ملے گی۔

مثلاً پاکستان میں چچا، پھوپھی، خالہ، اور ماموں زاد بہن بھائیوں سے شادی کرنے کا رواج عام ہے اور ثقافتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کزن سے شادی کرنا ایک ”معقول“ فیصلہ سمجھا جائے گا۔ لیکن طبی نقطۂ نظر دیکھا جائے تو چچا، پھوپھی، خالہ، اور ماموں زاد بہن بھائیوں سے شادی کرنے سے ہونے والے بچوں میں موروثی اور جینیاتی بیماریوں کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا طبی نقطۂ نظر سے یہ فیصلہ ”معقول“ نہیں سمجھا جائے گا۔

پاکستان میں رشوت اور سفارش کا عام رواج ہے اور مجھ سمیت بہت سے لوگ رشوت دینے یا سفارش کروانے کو ضرورت پڑنے پر ایک ”معقول“ عمل سمجھیں گے لیکن قانون کی رُو سے رشوت اور سفارش نہ صرف نا معقول ہیں بلکہ غیر قانونی بھی۔ ایک مرد کے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے عمل کو قرآن کی رُو سے جائز اور ”معقول“ ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن پاکستانی معاشرت مرد کی ایک سے زیادہ شادیوں کو ”معقول“ نہیں گردانتی۔ قصہ کوتاہ، آئین معقولیت کے کس مآخذ سے رجوع کرنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟

آرٹیکل 19 ”عظمتِ اسلام“ کے خلاف اظہارِ رائے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن آئین یہاں کس اسلام کی بات کررہا ہے؟ کیا یہاں ”صحائفی اسلام“ کا ذکر ہو رہا ہے جو ہم تک قرآن و حدیث کے ذریعے پہنچا ہے یا پھر ”تشریحاتی اسلام“ جو کہ آٹھویں صدی سے اب تک آنے والے علماء اور مفسرین کی تشریحات کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے یا پھر اس اسلام کا جو ہمیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی زندگیوں کے روزمرہ معمولات میں ملتا ہے؟ ”تشریحاتی اسلام“ علم و شرح کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جس میں ہمیں قرآن و حدیث کی کئی طرح کی تشریحات ملتی ہیں اور بعض اوقات تو یہ تشریحات آپس میں متصادم بھی ہوتی ہیں۔ قرآن و حدیث کی مختلف اور متصادم تشریحات نے ہی اسلام میں مختلف فرقوں اور فرقہ وارانہ اختلافات کو جنم دیا۔ ”صحائفی اسلام“ اور مسلمانوں کے ”روزمرہ اسلام“ کے درمیان تفاوت کی بہترین مثال اسلامی تاریخ میں شراب پینے کی طویل روایت سے دی جا سکتی ہے۔

آرٹیکل 19 ایسی رائے پر بھی پابندی لگاتا ہے جو پاکستان کے ”دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات“ کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔ یہاں اہم لفظ ہے ”دوستانہ“۔ ایک ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ ایک ملک دوسرے ملک کا ”دوست“ کیسے بنتا ہے؟ مثلاً چین امریکہ کا دنیا میں سب سے بڑا کاروباری شریک ہے اور 2017 میں چین اور امریکہ کی دو طرفہ تجارت کا حجم 635 ارب ڈالر تھا۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چین اور امریکہ ”دوست“ ہیں؟

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے علاوہ امریکہ میں پاکستان کے پانچ قونصل خانے بھی ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد میں امریکہ کے سفارت خانے کے علاوہ لاہور، کراچی، اور پشاور میں بھی امریکی قونصل خانے موجود ہیں۔ تقریبا پانچ لاکھ پاکستانی امریکہ میں رہتے ہیں اور امریکی حکومت نے اردو زبان کے پڑھنے اور سیکھنے کو ملکی سلامتی اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ”دوستانہ“ ہیں؟

اگر کوئی ہندوستان کے ساتھ ”دوستانہ“ تعلقات کی بات کرے تو کیا اُس کی آزادی اظہار کی حفاظت کی جائے گی یا نہیں؟ کیا پاکستان کے رُوس کے ساتھ تعلقات ”دوستانہ“ ہیں جو کہ ہندوستان کو جنگی ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے؟ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات ”دوستانہ“ سمجھے جاتے ہیں۔ کیا چین اور ہندوستان کی دو طرفہ تجارت ( 2017 میں 84 ارب ڈالر) اور چین کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی روابط پاک چین ”دوستانہ تعلقات“ پر کوئی اثر ڈالتے ہیں؟ سوویت۔ افغان جنگ میں اسرائیل نے پاکستان کی نظریاتی اور مادی لحاظ سے مدد کی۔ اگرچہ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں لیکن پھر بھی پاکستانی عوام اسرائیل کو ایک قابلِ نفرین ملک سمجھتے ہیں۔

اسی طرح ”سالمیت، “ ”تحفظ، “ ”پبلک آرڈر، “ ”شرافت، “ اور ”حیاداری“ جیسے الفاظ سے آئین کی کیا مراد ہے؟ اوپر دی گئی مثالوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ”معقول پابندیاں، “ ”عظمتِ اسلام، “ ”غیر ممالک سے دوستانہ تعلقات، “ ”سالمیت، “ ”تحفظ، “ ”پبلک آرڈر، “ اور ”اخلاقیات“ ایسی مبہم اصطلاحات ہیں کہ جِن سے ریاست جو چاہے مراد لے لے۔ آرٹیکل 19 میں شامل الفا ظ کا چناؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ریاست عوام کے آزادی اظہار کے حق کی قطعاً حفاظت نہیں کرنا چاہتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ الفاظ یہ سوچ کر استعمال کیے گئے ہیں کہ ریاست کے پاس ”معقول پابندیاں“ لگا کر عوام کی آزادی اظہا ر سلب کرنے کا ہر ممکن جواز ہو۔ ”معقول پابندیوں“ جیسی مبہم اصطلاحات عوام میں ایک گہرا عدم تحفظ پیدا کرتی ہیں کیونکہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جا تا ہے کہ ریاست لفظ ”معقول“ سے کب کیا مراد لے لے۔

آزادی اظہار آخر ضروری ہی کیوں ہے اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں؟ آزادی اظہار نہ صرف اس لیے ضروری ہے کہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ اس لیے بھی کہ آزادی اظہار ہی نئے خیالات کو جنم دیتی ہے، اُن خیالات کو جو انسانی معاشرے میں ترقی اور معاشی خوشحالی کا سبب بنتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں جب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ”اوپیک“ نے تیل کی فروخت پرپابندی لگا دی تو فرانس کے اس وقت کے صدر، ویلری یسکغ دیستاں، نے کہا تھا، ”ان“ (اوپیک ممالک) کے پاس تیل ہے لیکن خیالات ہمارے پاس ہیں۔

” بد قسمتی سے پاکستان کے پاس نہ تو تیل ہے اور نہ ہی پاکستانی ریاست خیالات کے آزادنہ تبادلے کو فروغ دینے پر تیار نظر آتی ہے۔ خیالات کا آزادانہ تبادلہ نئے علوم کی نگہداشت کے لیے ناگزیر ہے اور یہی نئے علوم معاشی خوش حالی کی بنیاد بنتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ معاشی طور پر ترقی یافتہ تمام ممالک آزادی اظہار کا ہر ممکن تحفظ کرتے ہیں۔ معاشی خوش حالی کا حصول آزادی اظہار ممکن بنائے بغیر نا ممکن ہے۔

آزادی اظہار پر عائد اِن ”معقول پابندیوں“ نے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو تعلیمی میدان میں پہنچایا ہے۔ ریاستی سنسرشِپ کی وجہ سے پاکستانی محققین کی ایک کثیر تعداد پاکستان سے باہر جا چکی ہے اور پاکستان پر ہونے والی زیادہ تر جدید ترین تحقیق اُن جامعات میں ہو رہی ہے جو پاکستان سے باہر ہیں۔ پاکستانی جامعات کے اندر ہونے اور چھپنے والی زیادہ تر تحقیق عالمی علمی معیارات پر پوری نہیں اترتی اور دنیا میں پاکستان پر ہونے والی بحثوں میں کوئی کردار ادا نہیں کر پاتی۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے پاکستانی انگریزی ناول نگاروں کے ساتھ کیے گئے انٹرویوز کی ایک کتاب مرتب کی۔ ایک بہت بڑے پاکستانی اشاعتی ادارے نے یہ کہہ کر میری کتاب رَد کر دی کہ اُن انٹرویوز میں ایک ایسے ناول نگار کا تذکرہ تھا جس کے ناولوں کی پاکستان میں خرید و فروخت پر پابندی ہے۔ آخر کار جب کتاب کوہندوستان میں موجود ایک بین الاقوامی اشاعتی ادارے نے چھاپ دیا تو دوست احباب اس بات پر معترض ہوئے کہ میں نے کتاب کسی پاکستانی اشاعتی ادارے سے کیوں نہ چھپوائی۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم جناب عمران خان نے اعلان کیا کہ وزیراعظم ہاؤس کو ایک اعٰلی پائے کی جامعہ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم کا اعلان قابلِ ستائش ہے لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ آزادی اظہار کو یقینی بنائے بغیر پاکستان کبھی بھی کوئی اعٰلی پائے کی جامعہ نہیں بنا سکتا۔ خوبصورت عمارات کِس کام کی اگر ان عمارات کے اندر کام کرنے والے دانش وروں اور محققین کو خیالات کے آزادانہ تبادلے کی اجازت نہیں۔ نئی جامعات بنانے کے عمل پر وقت، پیسہ، اور کوششیں صرف کرنے کی بجائے اگر ہم موجودہ تعلیمی اداروں کی آزادی اظہار یقینی بنا دیں تو یہ کہیں زیادہ مؤثر اور منافع بخش قدم ہو گا۔

چند سال پہلے میں نے پاکستان بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا تا کہ امریکہ سے ادب کے تقابلی مطالعے میں ڈاکٹریٹ کر سکوں۔ دوستوں اور رفقائے کار کو میرے فیصلے کا پتہ چلا تو اُنھوں نے مشورہ دیا کہ اگر میں ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ دس سال تک مؤخر کر دوں تو وہ بنگلہ لینے کے قابل ہو جاؤں گا جو نیول افسران کو ریٹا ئرمنٹ پر سستے داموں ملتا ہے۔ اُن کے خیال میں ایک قیمتی جائیداد کو حاصل کرنے کا ایسا موقع اس طرح گنوا دینا سراسر حماقت تھی۔ اگر میں ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ دس سال تک مؤخر کر دیتا تو شاید ایک قیمتی جائیداد کا مالک تو بن جا تا لیکن میرے بیٹے کا بچپن آزادی اظہار سے رُوشناس ہوئے بغیر ہی گزر جاتا۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...