سوشل میڈیا پر ایف بی آر کے لشکارے

آدمی بیمار ہو تو ڈاکٹر یا حکیم کے پاس موت کا سر ٹیفکیٹ لینے کے لیے جانے سے  پہلے فیس بُک پر  وہ ایف بی آر ( فیس بُک رپورٹ) درج کرتا ہے جو ایف آئی آر کی سوشل صورت ہے ۔ اگر دوائی کی تاثیر اُلٹی ہو تو ڈاکٹر کو بد دعائیں اور محکمہ صحت کی شکایتیں بھی فیس بُک پر درج کرتا ہے ۔

 فیس بُک وہ روزنامچہ ہے جہاں ہر فرد اپنی ذاتی زندگی  کی روداد اُن واقعات کی صورت میں لکھتا ہے جو اُسے درپیش ہوں ۔ یہاں تک کہ ایسی پوسٹیں بھی دیکھنے میں آتی ہیں کہ کل رات کے دو بجے میرے پڑوسی میاں ایف زیڈ آشفتہ کے سونے کے کمرے میں بم پھٹا ، جس سے چارپائی اُڑ کر چھت سے جا لگی ، دھماکے سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کواڑ دہشت زدہ ہو کر کپکپانے لگے ۔ پولیس نے جب آکر صورتِ حال معلوم کی اور بالجبر تفتیش کی تو پتہ چلا کہ بدہضمی کی وجہ سے آشفتہ صاحب کی دونوں رانوں کے عقب سے کوئی چیز نکلی تھی جس سے یہ دھماکہ ہوا ، اس پر ڈاکٹر کے خلاف پرچہ درج کر کے پولیس نے گرفتاری وارنٹ حاصل کر لیے ہیں ۔

میرے ساتھ جو ہوا وہ میں کسی کو بتانے سے رہا کیونکہ میں اپنی ساری باتیں اپنے رب سے کرتا ہوں جس سے میرا پردہ رہتا ہے اور جتنی ر سوائی میں کما چکا اُس سے زیادہ کی نوبت نہیں آتی ۔ چنانچہ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا کہ میری پنڈلیاں سوجی ہوئی ہیں اور میں تیمور لنگ کی کاپی کر رہا ہوں ۔ کبھی کبھی اس طرح کی بادشاہی کرنی ہی پڑتی ہے ۔ ابھی میں اسی ادھیڑ بُن میں تھا کہ لالہ ملنگ نے جو میرا مصاحبِ خاص ہے ، مجھے بتایا کہ وزیرِ اعظم  پاکستان نے بلوچستان میں کسی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے ۔ تو پھر میں کیا کروں ؟ لالہ نے کہا کہ تم میرا پیغام حکومت تک پہنچاؤ کہ اب سنگِ بنیاد رکھنے کے بجائے سنگِ تکمیل رکھا کریں اور لارے لگا  کر لوگوں کو انتظار کی اذیت میں نہ ڈالیں ۔

 پُرانے لوگ کہا کرتے تھے " الانتظارُ اشّد من الموت" کہ انتظار کی سختی موت کی سختی سے زیادہ شدید ہوتی ہے ۔ لیکن سنگِ بنیاد رکھنے والوں کو کیا خبر کہ منصوبوں کی تکمیل کا انتظار کرنے والے لوگوں پر کیا قیامت گزارتی ہے ۔ ہم لوگ جو پچھلے ستر برس سے پاکستانی معاشرت کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں ، اُن لوگوں سے الگ ہیں  جو اقتدار کے مزے لُوٹتے رہتے ہیں اور لُوٹ رہے ہیں ۔  کرسی نشینوں کو خاک نشینوں کے معاملات کا علم نہیں ہوتا ۔ وہ نہیں جانتے کہ عام لوگ اہلِ اقتدار کی طرح نہیں سوچتے ۔ عام لوگوں کے دکھ الگ نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ اُن کو لاحق بیماریاں الگ ہیں اور یہ بیماریاں ہیں مہنگائی ، ملاوٹ ، نا مناسب طبی امداد ، تعلیم سے محرومی ، لا قانونیت ، انصاف کی عدم فراہمی وغیرہ  ۔

مگر اہلِ اقتدار و اختلاف کے دکھ الگ قسم کے ہیں ، اُن کو وزارت اور عہدہ نہ ملنے ،نیب کی طرف سے احتساب کی چٹھی ملنے ، سرکاری خزانے کی من مانی تقسیم کا موقع نہ ملنے یا منی لانڈرنگ نہ کر سکنے کا دکھ ہوتا  ہے ۔ امیر آدمی کی بیماری بھی قومی مسئلہ ہوتی ہے ، اور اُس بیمار کی نقل و حرکت اور گل پاشی پر اتنی فضول خرچی ہوتی ہے کہ آسمان سے آوازیں آنے لگتی ہیں کہ " ہُنڑ بس وی کر ، رب نوں وی جواب دنیا ای " ۔ لیکن رب کو جواب دینے کی کسی کو فکر نہیں ہوتی ۔ انہیں تو اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ جس قانون کو اُنہوں نے ہاتھ میں لے رکھا ہے ، وہ کہیں اپنی رسی تُڑا کر بھاگ نہ جائے ۔اُنہوں نے جو دولت جمع کر رکھی ہے کہیں وہ مخالفین کے ہاتھوں لُٹ نہ جائے ۔ اور میرا دکھ یہ ہے کہ میری بائیں پنڈلی سُوجی ہوئی ہے اور میں لنگڑا رہا ہوں اور جن ہاتھوں سے کالم کمپوز کرنا تھا اُس سے پنڈلی کمپوز کرتا رہا ہوں ۔ لیکن یہ بہت مشکل کام ہے ۔

 میں نے اللہ سے کہا جس طرح مفتی تقی عثمانی پر چلنے والی گولیوں کا رُخ فرشتے  موڑتے رہے ہیں ، اُسی طرح میرا پنڈلی کا درد موڑ کر یا تو ٹرمپ کو دے دے یا  مودی پر اُتار دے ۔ اور یہ بد دعائیں نہیں ہیں  بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ اور مودی کے پاس علاج کی ہر سہولت موجود ہے لیکن میرے پاس نہیں ۔ وہ ڈاکٹر خرید سکتے ہیں ، تیمار داری کے لیے خوبصورت نرسیں کرائے پر لے سکتے ہیں مگر میں پنڈلی پکڑ کر چیختا ہوں اور  پھر کسی ٹی وی چینل پر کسی سیاسی بحث کے شرکا کو دل ہی دل میں کوسنے لگتا ہوں کہ تہاڈ اککھ نہ رہے ، او تہاڈی لت سُج کے قطب مینار جنی موٹی ہو جائے ، او تُسی ہر شام کھوتے دی بریانی کھاؤ تے بگھیاڑ دے قورمے  نال گلچھرے اُڑاؤ ۔ تے میں تہاڈے لئی  جیہڑی غزل لکھی اے ، پیش خدمت اے ۔

عرض کیتا اے :

کوئی مینڈک کہیں ٹرّا رہا ہے

کہ زخمی شیر ڈھولے گا رہا ہے

سُنو ! یہ نظریاتی ، ماتمی دُھن

سیاست کا جنازہ آ رہا ہے

یہ پاکستان ، بیماروں کے دم سے

مریضستان بنتا جا رہا ہے

مگر مچھ ، سارا دریا پی گیا ہے

زمیں ، مٹّی کا کیڑا کھا رہا ہے

سبھی کو عارضہ لاحق ہے زر کا

جسے دیکھو وہی کُرلا رہا ہے

معزز آدمی گاڑی میں بیٹھا

مُغلّظ ، گالیاں برسا رہا ہے

خُدا کا دین رخصت ہو گیا ہے

جہالت کا اندھیرا چھا رہا ہے

خُدا کا اصل مجرم تھا وہ مُلّا

مگر مسعود ہی رُسوا رہا ہے

loading...