ذرا اس مشکل سے نکلیں تو ۔۔۔۔۔۔

دنیا میں دھوم ہے کہ لندن کا میئر ایک مسلمان بن گیا ہے۔ پاکستان میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ اس شخص کے والدین ان کے وطن سے برطانیہ گئے تھے۔ اس لئے جو اس عہدے تک پہنچا ہے وہ ہمارا ہی بھائی بند ہے۔
خبردار: یہ سوچنا اور پوچھنا منع ہے کہ صادق خان کے والد کو کیوں اپنا وطن عزیز چھوڑ کر ایک غیر ملک میں ساری زندگی بس چلانا پڑی۔ کیوں لندن کے نئے نویلے میئر کی ماں کو برطانیہ آنے کے بعد دوسروں کے کپڑے سی کر آٹھ بچوں کے مصارف پورے کرنے کیلئے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا پڑا۔
آپ یہ لڈو کھاؤ ۔۔۔۔ اپنا صادق خان لندن کا میئر بن گیا ہے۔
کیا: کہ یہ پوچھنا بھی منع ہے کہ یہ صادق خان اب آپ کا کیسے ہو گا؟
تب تو آپ اس کے نہیں تھے جب اس کے والدین کو اپنے ہونے والے بچوں کے مستقبل کیلئے ایک نئی منزل کا سراغ لگانا پڑا تھا۔ آخر صادق خان جیسے لوگوں کے ماں باپ کو اپنا وطن کیوں چھوڑنا پڑتا ہے۔
کیا آج بھی کوئی ’’امان اللہ خان‘‘ روشن مستقبل کی تلاش میں انسان اسمگل کرنے والے کسی گروہ کی تلاش میں نہیں ہے۔
کیا اب بھی کوئی بوڑھے ماں باپ اپنا پشیتنی مکان بیچ کر اپنے کسی بچے کو بیرون ملک روانہ کرنے کیلئے سرمایہ فراہم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں تا کہ اس کی اولاد ہاتھ میں گندے پلاسٹک کے تھیلے لئے کسی خانقاہ کے باہر لگے لنگر سے پیٹ بھر کھانا ملنے کی امید میں صبح سے شام اور شام سے صبح کرنے پر مجبور نہ ہو۔ بلکہ وہ صادق خان بن جائیں ۔۔۔۔۔ تا کہ وہ وکیل بن سکیں۔ لندن کے میئر بن سکیں۔ ہم بھنگڑا ڈالیں۔ دیگیں اتاریں اور مٹھائی بانٹیں۔
لیکن ان بچوں کو خانقاہ کے باہر کھانا لینے کی بجائے اسکول کیوں نہیں بھیجتے۔ وہاں جائیں گے تو پڑھ لکھ کر صادق خان بن جائیں گے۔
اس کےلئے محنت کرنا پڑے گی۔ اسکول کھولنا پڑیں گے۔ تعلیم سب کیلئے عام کرنا پڑے گی۔ سب کو مساوی مواقع دینا پڑیں گے۔ پھر دھکے دینے کا کلچر نہیں ہو گا بلکہ اہلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر اعلیٰ پوزیشن اور عہدہ حاصل کیا جا سکے گا۔ علم کے زور پر راستہ کھوجا اور منزل تلاش کی جا سکے گی۔
ہاں ایسا ہو گا تو ہی لیکن ابھی ہم ذرا مصروف ہیں۔
ابھی یہ پاناما کی ایک کمپنی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے ریکارڈ کی حفاظت کرنے کی بجائے کسی نقب زن کو یہ موقع فراہم کر دیا کہ وہ ان کی ساری دستاویزات چرا کر پوری دنیا کے سامنے عام کر دے اور ملک ملک کے شرفا بیچ چوراہے ان راز کی باتوں کا جواب دینے پر مجبور ہو جائیں، جو انہوں نے اس کمپنی کو امانت دار اور دیانت دار سمجھتے ہوئے اس کے حوالے کئے تھے۔ کہتے ہیں نا کہ آزمودہ شریف تو شاید دھوکہ دے دے لیکن چور کبھی چور کے ساتھ ہاتھ نہیں کرتا۔
اب یہ محاورے پرانے ہوئے۔ اب چور نہ بھی چاہے تو چوروں کو پڑ گئے مور والا معاملہ ہو جاتا ہے اور بڑے لیڈروں اور بڑے ملکوں کے بعد اب بڑے شریفوں کے درون خانہ معاملات کا بھانڈا پھوڑا جا رہا ہے۔
یہ کون ہے جو کہتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔ اس ٹیکنالوجی نے تو سارا کام خراب کیا ہے ۔ اب دیکھ لو کس شریف کو استعفیٰ دینا پڑا ہے، کوئی پارلیمنٹ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے، کوئی مجمع کے سامنے دم سادھے بیٹھا ہے۔ کسی کو معمولی افسر ڈپٹ رہا ہے اور کوئی شریف ملکوں ملکوں مارا مارا پھر رہا ہے کہ شاید اس مرض کی کوئی دوا مل جائے۔ کوئی ایسا نسخہ جو باتیں بنانے والوں کا منہ بند کر سکے۔
کیا خاک فائدہ ہے ٹیکنالوجی کا؟ سہانے پرانے دن ہوتے تو دیکھتے کہ یہ مسٹر ’’جان ڈو‘‘ گیارہ ساڑھے گیارہ کروڑ دستاویزات سے بھری فائلیں اٹھائے کیسے اخبار کے دفتر تک پہنچنے اور پھر ان کی نقلیں بناتے بناتے شہر بھر کی کاپی مشینیں دم توڑ دیتیں۔
برا ہو اس ٹیکنالوجی کا کہ جو ایک بٹن دباتے ہیں تو اڑھائی سو ملکوں کے ہزاروں میڈیا ہاؤسز میں وہ سارا کچا چٹھا پہنچ جاتا ہے جسے کس اعتماد سے سنبھال کر ان نامراد وکیلوں کے حوالے کیا تھا۔
کہتے تھے کہ ہم اس شعبہ کے ماہر ہیں۔ لوگوں کے راز کو راز رکھنے کا نسل در نسل تجربہ رکھتے ہیں۔ مگر احمقو اپنے دفتر میں کاغذ محفوظ کرنے کا بھی کوئی انتظام کر لیتے۔
اور یہ کیسی ترقی ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا کوئی بھی سورما دوسروں کی نجی زندگی میں جھانک رہا ہے پھر سوشل میڈیا پر کسی کنٹرول کسی رکاوٹ کے بغیر غیر سنسر شدہ رائے دی جاتی ہے۔ تبصرے کئے جاتے ہیں۔ مذاق اڑا رہے ہیں۔ جو بات کل تک چند لوگوں کو پتہ تھی، اسے گھر گھر پہنچا رہے ہیں۔
جانتے ہو بات اس وقت تک اپنی ہوتی ہے جب تک اسے خود تک رکھا جاتا ہے۔ ادھر منہ سے نکلی یا قلم سے سرزد ہوئی ادھر وہ چھچھوندر کی طرح جا دوسرے کے گلے کا ہار بنی۔ آپ کا تو مشغلہ ہو گیا۔ شریف آدمی تو جان سے گیا۔
بس مذکور یہ تھا کہ ایک نااہل وکیلوں کی کمپنیاں، پھر ان کی چوری کرنے والے ’’جان ڈو‘‘ اور اس پر مستزاد یہ اللہ ماری ٹیکنالوجی۔ بس ہم ذرا اس پھیر میں آ گئے۔ تو ذرا پاناما پیپرا کا معاملہ طے کر لیں پھر ہماری پہلی ترجیح یہی ہے کہ اسکول کھولے جائیں۔ سب کو ایک سی تعلیم دی جائے۔ امتحان سے لے کر روزگار کے انٹرویو تک کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔ بس سب انصاف سے اپنی صلاحیت اور قابلیت کے بل بوتے پر عہدہ اور وقار پائیں گے۔
دیکھ لینا پھر کوئی ’’امان اللہ خان‘‘ فیصل آباد سے لندن کا سفر نہیں کرے گا پھر کسی صادق خان کو سرکاری کوارٹر میں رہ کر دیار غیر میں تعلیم حاصل کر کے لندن کا میئر بننے کیلئے محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پھر دیکھنا یہ سارے گورے بھاگے بھاگے لاہور آئیں گے۔ یہاں کے اسکولوں میں پڑھیں گے۔ محنت کریں اور مقابلہ کریں گے کہ کسی طرح صادق خان کی طرح وہ بھی لاہور کا میئر بن سکیں اور اپنے اہل وطن کو خوشی بھرا تار دے سکیں! ’’میں تو یہاں سڑکیں صاف کرنے کےلئے آیا تھا اب ڈیوڈ نے اپنی محنت اور لاہوریوں کی محبت کی بنا پر شہر کے میئر کا انتخاب جیت لیا ہے۔ اب وہ مسلمانوں کی آبادی والے اس شہر کا میئر ہے۔ وہ تین ہزار ارب روپے کے بجٹ کا منتظم ہے‘‘۔
کہا ناں کہ یہ ہم ذرا اس پاناما پیپرز کی الجھن سے نکل آئیں۔ معاملات درست ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ بس دشمنوں نے ہمیں سازشوں میں پھنسا لیا ہے۔
تو ابھی تو فیڈایکس کے دفتر چلیں۔ ویزا کی درخواست بھجوائیں۔ شاید تکا لگ ہی جائے۔ جھوٹ سچ کو کون دیکھتا ہے۔ بس کاغذ کا پیٹ بھرنا ضروری ہے۔ ’’ڈریم لینڈ ٹریولز‘‘ کا لڑکا بتا رہا تھا اس بار اعلیٰ قسم کی نقل بنوائی ہے۔ کوئی پہچان نہیں سکتا کہ یہ جعلی ڈگریاں ہیں۔ اکاؤنٹ کی تفصیل کے لئے کافی اچھی بینک اسٹیٹ منٹ تیار کروا لی ہے۔
نہ یہ کام اب مشکل نہیں ہے۔ یہ گوروں نے جو ٹیکنالوجی دریافت کی ہے، اس نے کام آسان کر دیا ہے۔ بس یہ تلاش کرنا پڑتا ہے کہ بینک کے کون کون سے کلائنٹ کے اکاؤنٹ میں موٹی رقم ہر وقت موجود رہتی ہے۔ پھر کیا ہے الیکٹرانک چھو منتر سے سیٹھ کی نام کی جگہ خاکسار کا نام چھپ جاتا ہے۔ کوئی جان بھی نہیں سکتا کہ ساری دولت میری نہیں ہے۔
یار میرا آئیڈیل بھی صادق خان ہے۔ لندن کا میئر نہ سہی، وہاں کسی ہوٹل کا بیرا ہی سہی، یہ روز روز کی بھوک سے تو نجات ملے گی۔
صادق خان نے کیسی مثال قائم کی ہے۔ میرا بچہ بھی اس کے نقش قدم پر چلے گا۔
اور میرا بھی
اور وہ ایک بینک کے اشتہار میں آتا تھا: ’’میلا بھی تو ہے‘‘ تو ’’میلا بھی‘‘
یوں نہ ہو کہ برطانیہ کو کئی لندن آباد کرنا پڑیں۔ یا ایک ہی شہر کے بہت سے میئر بنانا پڑیں۔ ایک صادق خان کتنے صادق خان پیدا کر رہا ہے۔ اس نے ترقی کی کیسی مثال قائم کی ہے سب اس کے نقش قدم پر چل ۔۔۔۔۔۔ نہیں بھاگ رہے ہیں۔
تبھی تو گوروں سے ہماری ترقی برداشت نہیں ہو پا رہی۔ ابھی ایک مسلمان میئر بنا ہے تو لکھنے والے نے ’’خدا حافظ برطانیہ‘‘ کا پیغام چھوڑا۔ ایک اور کم حوصلہ بولتا ہے ’’اب لندن کا نام بدل کر لندنستان رکھ دیا جائے گا‘‘۔
ہم تو اپنے لاہور کا نام کبھی نہیں بدلیں گے۔ بھلے کوئی ڈیوڈ یہاں کا میئر بن جائے۔ مگر ابھی تو یہ منہ اور مسور کی دال۔
ابھی تو ہم پاناما پیپرز میں پھنسے ہیں
اس مشکل سے نکل آئیں تو ہم ترقی کے راستے پر چلیں گے۔ تعلیم عام کریں گے۔ انصاف فراہم کریں گے۔ پھر دیکھنا کوئی ہیری محنت مزدور کیلئے لاہور آئے گا اور اس کا بیٹا ڈیوڈ سخت محنت کرے گا کہ لاہور کا میئر بن سکے۔
آخر اس کے دل میں ارمان تو ہو گا نا کہ ایک پاکستانی کا قائم کیا ہوا ریکارڈ توڑ سکے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words