دنیا کے 7 ارب کافر

فیس بک پر ایک ذاتی نوعیت کا پیغام تھا۔
بھیجنے والی کوئی خاتون تھی اور اسے میں جانتا نہ تھا۔ پھر بھی جب اسے پڑھا تو اپنی کم عقلی پر سر پکڑ کر رہ گیا۔ یہ پیغام دراصل دعوت تھی کہ میں اگر گمراہ ہوں تو اپنی اصلاح کر لوں۔ گویا ایک طرح سے مجھے جنت اور جہنم کے دوراہے پر واضح راستہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب ایسے دوست کہاں ہوتے ہیں۔
پیغام میں لکھا تھا:
’’فلاں فرقہ کے ماننے والے سب کافر ہیں اور جو لوگ ایسا نہیں سمجھتے وہ بھی کافر ہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے‘‘
مجھے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس واضح ہدایت و رہنمائی کے باوجود میں ابھی تک اسی دوراہے پر کھڑا ہوں اور حیران ہوں کہ کیا میں اس دیدہ ور محسن خاتون کا ہاتھ پکڑ کر ایک ہی جست میں ایمان کی تمام منازل طے کر لوں یا اس واضح دعوت کو نظر انداز کر کے ایک ایسی گمرہی میں گم رہوں جس کی منزل عذاب کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔
یوں تو مجھے بھی اپنے ایمان پر بڑا بھروسہ ہے۔ لیکن میرے اس بھروسے نے مجھے کبھی یہ اعتماد نہیں دیا کہ میں دوسرے کے عقیدہ اور ایمان کے لئے میزان بن سکوں۔ بس یہی ایک مشکل اس پیغام کو سمجھنے اور اس پر صاد کہنے میں حائل ہو رہی ہے۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا وسیع المشربی اور کشادہ دلی کا پیغام میری تربیت کا حصہ رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ سے سیکھا ہے کہ تصویر کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ اختلاف بھی انسانی جبلت کا حصہ ہے۔ لیکن کسی اختلاف کی بنیاد پر کسی بھی دوسرے شخص کو پرکھنا میرے دائرہ عمل میں نہیں آتا۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں نے ایک تعمیری ماحول میں پرورش پائی ہے اور میں نے ہمیشہ سیکھا ہے کہ دوسرے کی غلطی درست کرنے کی بجائے خود اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔ اصلاح کا عمل ہمیشہ اپنی ذات سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح سچ اور درست کی پہچان کی بنیاد یہی ہے کہ کسی کو برا کہنے کی بجائے اس کو اپنے نظریہ اور عقیدہ کے مطابق زندگی گزارنے کی دی جائے۔
تاہم ایک انسانی زندگی جیسی مدت میں ہی میں نے دیکھا ہے کہ میرے معاشرے میں رہنے والے انسانوں نے ایک بڑی وحدت سے نکل کر خود کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں بانٹ لیا اور اب تفریق در تفریق شدہ یہ لوگ اپنی کم قامتی کا بدلہ لینے کے لئے دوسروں پر طعنہ زن ہوتے ہیں۔ فتویٰ جاری کرتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں۔
اس تقسیم نے نفرتوں کی ایک فصل کاشت کی ہے جس نے ہر شخص کو بصارت اور بصیرت سے محروم کر دیا ہے۔ اب ہر شخص خود چلاتا ہے اور اپنی ہی چیخ کی گونج میں محصور ہو کر دوسرے کو گمراہی کا مقید ہونے کا طعنہ دیتا ہے۔
اب وہ وقت بیت گیا کہ محلے کے لونڈے لپاڑے آپس میں گتھم گھتا ہوں تو کسی بزرگ کو دیکھ کر اپنے اپنے گھروں میں چھپ جائیں۔ اب تو مغلظات کا طوفان اٹھا دیکھ کر اس بزرگ کو اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا پڑے گا کہ غلاظت کے کچھ چھینٹے ان کے دامن کو بھی داغدار نہ کر دیں۔
نہ ہی اب وہ وقت ہے کہ آپ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ کرتے ہوئے یہ عرض کر سکیں کہ بھئی یہ رویہ تو درست نہیں ہے۔ اب اس مہذب استدلال کا جواب بم دھماکہ، بندوق کی گولی یا آگ کے طوفان سے دیا جائے گا۔
چلئے جانے دیجئے ہمیں ان سب سے کیا لینا دینا۔ ہر شخص اپنے کردار و فعل کا ذمہ دار ہے۔ ہم بس خاموش رہتے ہیں لیکن اب یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے۔
زمانے میں ترقی کی رفتار اس قدر ہے کہ خاموشی کو قبول کرنا محال ہو رہا ہے۔ اب تو بولنا پڑے گا۔ فریق بننا ہو گا اور آواز میں آواز ملانی ہو گی۔
مگر کس کا ساتھ دوں
کون درست ہے اور کون غلط
اس میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ بس وہی درست ہے جس کی بندوق آپ کے سر پر ٹکی ہو۔
لیجئے فیصلہ ہو گیا
امن بھی ہو گیا اور اختلاف بھی ختم ہوئے
پھر بھی فساد کیسا ہے۔ اب سکون بحال کیوں نہیں ہوتا۔ پتہ چلا کہ جس جوہڑ کو مینڈک نے جہان سمجھ لیا تھا، وہ اس کی کل کائنات تھی۔ دنیا تو اس سے بہت وسیع ہے۔ انسانوں کا گروہ اس کی بساط، دسترس ، اور ذہنی اور فکری پہنچ سے بہت بڑا ،متنوع اور رنگا رنگ ہے۔
میں درست اور غلط کے جس معیار کو لے کر نکلا ہوں وہ تو گھر سے قدم نکالتے ہی بے توقیر ہؤا جاتا ہے۔ اس ست رنگی میں بہت وسعت اور اس دنیا میں تو بہت پھیلاؤ ہے۔
مگر کوشش کرنے میں کیا ہرج ہے
درست تو درست ہی ہوتا ہے چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہو
اسی اصول کو پلے باندھ کر میں اپنے ملگجے جوہڑ سے باہر نکلا تو صاف ہوا اور شفاف پانی کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔
میں نے ایک نظر دور تک پھیلے صاف نیلگوں پانیوں پر ڈالی۔ پھیپھڑوں کی پوری قوت سے صاف ہوا میں سانس لیا اور اپنی میزان کو زور سے پکڑ کر قدم آگے بڑھایا۔
میں نے دیکھا کہ وہاں تو ہر شخص ایک میزان ہاتھ میں لئے گھومتا ہے۔ ہر کسی کی میزان اسے درست اور غلط ہونے کا پتہ بتاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ یقیناًیہ سب میزانیں ایک سی ہوں گی۔ آخر سچ تو عالمگیر ہوتا ہے۔
خود کو یقین دلانے کے لئے میں نے ساتھ سے گزرنے والے شخص سے کہا ، لاؤ ہم اپنی میزان کو ملا کر دیکھیں۔ ہم مختلف معاشروں کی پیداوار ہیں لیکن سچ کا معیار تو ایک سا ہو گا۔ اس نے گردن کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور ایک پیمانہ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔
میں نے ماپا تو ان میں بہت فرق تھا۔ نہ یہ آدمی گمراہ ہو گا۔
میرا تجسس بڑھا اور میں یکے بعد دیگرے بہت سے لوگوں کی میزان پکڑ کر اپنے معیار سے ملانے لگا۔ ان میں سے کوئی پیمانہ دوسرے سے نہ ملتا تھا۔ میں اسی تگ و دو میں تھکا ماندا ایک پہاڑی کے دامن میں فروکش ایک بزرگ کے پاس جا پہنچا۔ میں نے بزرگ سے کہا کہ آپ دانا لگتے ہیں۔ دیکھیں آپ کی میزان میری میزان سے ملتی ہے۔
اس بزرگ نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ نہ میرے پاس تو کوئی میزان نہیں ہے۔
پھر میں آپ کو جانچوں گا کیسے۔
یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ میرا تو نہیں ہے۔
میں حیران اس بزرگ کو تکتا تھا کہ وہ گویا ہوئے:
’’یہ میزان کیسی ہے‘‘
’’یہ ایمان کی میزان ہے‘‘ میں نے جواب دیا
’’اچھا تو یہ تمہارے ایمان کا پیمانہ ہے‘‘
’’نہیں کہ یہ عالمگیر سچائی اور حق پرستی کا اصول ہے‘‘ میں نے جھنجلا کر جواب دیا۔
’’ہو گا‘‘ بزرگ بولے۔
جاؤ اس پیمانے کو ان سب سے ملاتے رہو جو اپنے ایمان کے ایسے ہی معیار لئے اس دنیا کے سات ارب لوگوں میں گھومتے ہیں۔
وہ سات ارب لوگ جو اس دنیا پر آباد ہیں ان کے پاس اپنا اپنا پیمانہ ہے۔ جو کسی طور تمہاری میزان سے نہیں مل سکے گا۔
’’تو پھر میں سچ اور ایمان کی پہچان کیسے کروں‘‘
’’یہ تو آسان ہے‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’تم اپنی میزان کے سچے انسان ہو۔ وہ اپنی میزان پر پورے اترتے ہیں‘‘۔
’’تمہارے لئے وہ سارے گمراہ اور کافر ہیں اور ان کے لئے تم‘‘
تم ایک ایماندار ہو
دنیا کے سات ارب کافر ہیں۔
اب تمہاری میزان تو صرف تم کو ہی ماپ سکتی ہے۔

Comments:- User is solely responsible for his/her words