پاناما کیس: وزیراعظم نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا

پاناما کیس: وزیراعظم نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا(pm-be-given-immunity-under-article-248-of-constitution)

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے وکیل کے ذریعے عدالت سے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا۔
 
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نے نے چوہدری ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صدر، وزیراعظم اور گورنرز کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے، وزیراعظم کو استثنیٰ امور مملکت چلانے پر ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے آرٹیکل 66 کے بجائے 248 کے تحت استثنیٰ مانگا ہے۔ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ برطانوی عدالت نے ایک فیصلے میں کہا کہ کرپشن کو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیں اور پارلیمنٹ میں تقریرارکان کے خلاف بطورثبوت استعمال ہوسکتی ہے۔ ظہور الٰہی کیس میں وزیراعظم نے تقریراسمبلی میں نہیں کی تھی۔ آپ حق نہیں استثنیٰ مانگ رہے ہیں، آرٹیکل 19 اظہار رائے کا حق دیتا ہے،  آپ کا کیس آرٹیکل 19 کے زمرے میں نہیں آتا۔

’وزیراعظم ایوان میں تقریر کر کے پھنس گئے‘(imran-khan-media-talk)

’وزیراعظم ایوان میں تقریر کر کے پھنس گئے‘

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں تقریر نواز شریف نے ہمیں چپ کرانے کے لیے کی تھی لیکن اب وہ تقریر کرکے پھنس چکے ہیں ۔

شادی کے بعد والد کی زیرکفالت نہیں: مریم نواز(maryam-answer)

شادی کے بعد والد کی زیرکفالت نہیں: مریم نواز

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے والد نواز شریف کی زیر کفالت ہونے کی نفی کر دی۔

سندھ طاس معاہدہ: ’بیرونی دباؤ قبول نہیں کرینگے‘(khwaja-asif-address)

سندھ طاس معاہدہ: ’بیرونی دباؤ قبول نہیں کرینگے‘

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے پر پاکستان کا کیس بھارت سے زیادہ مضبوط ہے۔

یہ ایک تقریر نہیں، اصول کا معاملہ ہے

وزیراعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کے مقدمہ کی سماعت کے دوران نواز شریف کو سچا ثابت کرنے کے ساتھ آئین کی شق 66 کے تحت ان کے از خود استثنیٰ کے بات بھی کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اول تو وزیراعظم نے 16 مئی 2016 کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹ نہیں بولا۔ بالفرض محال اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ وزیراعظم نے اس تقریر میں جھوٹ بولا تھا تو بھی عدالت آئین کی شق 66 کو نظر انداز نہیں کر سکتی کیونکہ اسے بہرحال آئین کی حدود میں رہتے ہوئے ہی فیصلہ دینا ہو گا۔ شق 66 پارلیمنٹ کے ارکان کو ایوان میں کی گئی باتوں کے خلاف قانونی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کرتی ہے۔ مخدوم علی خان اس شق کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت کسی رکن پارلیمنٹ کو ایوان میں کہی ہوئی باتوں پر ملزم قرار دے کر نااہل نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے وکلا کا موقف ہے کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے اپنی اور اپنے اہل خاندان کی املاک کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں جھوٹ بولا تھا، اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور انہیں آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

Threat is from inside

Army Chief General Raheel Sharif assured the nation that country’s borders are secure and the army is aware of threats and intrigues of the enemies. Speaking at an even

Read more